آج کی حفاظت کریں ،کل محفوظ رہے گا

از:۔مدثراحمد،شیموگہ:9986437327
آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کے ایک قابل نمائندے و ترجمان مولانا سجاد نعمانی پر ملک سے غداری کرنے کامقدمہ عائد کیا گیا ہے اور اس مقدمے کیلئے شکایت کرنے والا کوئی آر ایس ایس یا بجرنگ دل کاکارکن نہیں بلکہ سنگھ پریوارکا ہی ایک ایجنٹ وسیم رضوی جسے شیعہ وقف بورڈ کے صدر کے طور پرپہچانا جاتا ہے ،اس نے ہی ان پر ملک سے دشمنی کرنے کاالزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ عائدکیا ہے۔مولانا سجا د نعمانی کس زاویہ سے ملک سے دشمنی کررہے ہیں،اس کا ہمیں پتہ نہیں،البتہ انہوںنے اب تک ہمیشہ حکومتوں کے دوہرے و دوغلے کی رویہ سخت مخالفت کی ہے۔جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں آئے دن زبان اور قلم بندکرنے کیلئے حکومتوںکی جانب سے کوششیں جاری ہیں،اسی کوشش کا یہ بھی ایک حصہ ہے۔ملک کے مختلف مقامات پر صحافیوں و دانشوروں پر مقدمے عائد کرتے ہوئے ان کے حوصلوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہی کوشش مولاناسجا د نعمانی پر آز مائی گئی ہے۔دراصل ہندوستان میں ایک طرح سے غیر اعلانیہ ایمرجنسی کادور چل رہا ہے او ریہاں انہیں لوگوں کو بولا بالا ہے جوحکومتوں کے ایجنٹ اور سیاسی دلالوںکی طور پرکام کررہے ہیں۔کچھ مہینے قبل تک آئی آر ایف کے سرپرست ڈاکٹر ذاکرنائک اس ملک کیلئے سب سے بڑا خطرہ بتائے جارہے تھے اور انہیں اس ملک سے دشمنی کرنے اور ملک سے غداری کرنے کے الزامات میں پہلے ہی شکار بنایا جاچکا ہے اورآج وہ جلا وطنی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔جس وقت ڈاکٹر ذاکر نائک پر یہ الزامات عائد کئے جارہے تھے تو اس وقت مسلمانوںکی ہی جماعت نے ذاکر نائک پر شکنجہ کسنے کیلئے حکومتوں سے سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ ذاکر نائک اور ان کے ادارے ملک میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیںاور ان پر پابندی عائد کی جائے۔اندھے کو کیاچاہےے دو آنکھیں بس۔حکومت نے مسلمانوں کے اس گروہ کوبنیاد بنا کر ذاکر نائک پر شکنجہ کسنا شروع کردیااور آج ہم حالت دیکھ رہے ہیں۔اب اسی طرح سے مولانا سجا د نعمانی پر بھی وسیم رضوی جیسے سنگھی ایجنٹ نے مقدمہ عائد کروادیا ہے اور ان پر قانونی کارروائی کرنے کابھی مطالبہ ہورہا ہے۔مصرعہ مشہور ہے کہ”دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینے کے داغ سے ،اس گھر کوآگ لگ گئی گھر کے چراغ سے“۔ذاکر نائک ہو یا مولانا سجا د نعمانی یا پھر کوئی اور عالم دین ان کا طرز عمل ہوسکتا ہے ،ان کے عقائد و طریقے الگ ہوسکتے ہیں،ان کے خیالات اور ان کا عمل الگ ہوسکتا ہے،لیکن یہ مسلمانوںکی ایک طرح سے قیادت کررہے ہیںاور یہ ہمارے دینی قائدین ہیں۔جب ان پر اس طرح کی بجلیاں برسائی جارہی ہیں تو ہماری قوم جو ہمیشہ نعرے تکبیر اور نعرے رسالت پر پورے جوش و خروش کے ساتھ اللہ اور رسول کو پکارتی ہے،آج وہی قوم دبے الفاظ میں بھی ان کی تائید میں نہیں آرہی ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ جب کوئی ہم وطن ہندو برادر کا قتل ہوتا ہے تو اس پر مسلمانوں کوموردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور آن کی آن میں تمام ہندو راستہ روک کر یا کمشنریٹ دفتر کے بالمقابل احتجاج کیلئے کھڑے ہوجاتے ہیں۔جب حکومتیں کسی پاکھنڈی باباکو گرفتار کرنے کیلئے آگے آتی ہیں تو اس وقت اُس بابا کے پاکھنڈی معتقدین یا مرید حکومتوں کا تختہ پلٹنے کیلئے متحد ہوجاتے ہیں۔اس کی تازہ مثال ہریانہ کے بابا رام رہیم کی ہے جسے گرفتار کرنے پہنچی پولیس کو پریشان کرنے کیلئے لاکھوں معتقدین جمع ہوئے،سینکڑوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے،حکومتوںکے نمائندوں کو ہریانہ چھوڑکر بھاگنا پڑا۔لیکن جب بات ہم مسلمانوں کے مذہبی پیشواﺅں کی آتی ہے اور حکومتیں اُن پر حق گوئی یا مقبولیت کو دیکھتے ہوئے ہرا ساں کرنے کیلئے آگے بڑھتی ہیںاور ان پر جھوٹے مقدمات عائد کرتی ہیں تو ہماری قوم خاموشی اختیار کرلیتی ہے یا پھر یہ کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ ” چھوڑو بھائی اچھا ہوا،وہ فلاں مسلک کے مولانا ہیں،اب اُن کے مسلک والوںکی مستی ٹوٹے گی“۔ان گرے ہوئے خیالات کی وجہ سے ہی آج قوم مسلسل گرتی جارہی ہے اور اس قوم کی قیادت کیلئے شائد ہی کوئی تیار ہوتا ہے۔قائدین یہ جاننے لگے ہیں کہ ہماری قوم کیلئے اگر جگر کا ٹکڑا بھی کاٹ کر رکھ دیں تو بھی یہ لوگ احسان نہیں مانے گیں۔کل مفتی عبدالقیوم،مولانا انظرشاہ قاسمی،ڈاکٹرذاکر نائک اور آج مولانا سجاد نعمانی کو ملک کا دشمن قرار دیا گیا ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہےے کہ جو حالات ان پر بیت رہے ہیںکل ہم پر بھی بیتیں گے۔ہم حق زبان سے باہر نکال نہیں سکے گیں اور اگر نکال بھی دینگے تو ہم ملک کے غدار کہلائینگے۔اس وجہ سے ہمیں مدہوشی کی حالت میں اپنے آپ کو رکھنانہیں چاہےے بلکہ ہوش میں رکھ کر موجودہ حالات کا سامنا کرنا چاہےے،اگر ہم نے اپنے آج کو محفوظ کرنے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے تو ہم اپنے کل کو بھی محفوظ نہیں رکھ پائینگے۔اب اُمت مسلمہ کیلئے حقیقت میں باطل طاقتوں کے خلاف آوازاٹھانے کا وقت آچکا ہے،اگر اس کام کیلئے ہم اپنے آپ کو تیارنہ کریںاور اللہ کی راہ میںنکلنے کے مفہوم کو الگ ہی سمجھ بیٹھے تو ہم اپنے آپ کو مومن کہلانے کے لائق نہیں رہیں گے۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...