Myanmar's democracy movement leader and Nobel Laureate Aung San Suu Kyi in Washington, DC, on 18 septembrie 2012.

آنگ سانگ سوکی سے نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ

ناروے : میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف ایک آن لائن پٹیشن شروع کی گئی ہے ، جس کے ذریعہ نوبل انعام کمیٹی سے آنگ سانگ سوکی کو دئے گئے نوبل انعام کو واپس لینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اب تک لاکھوں افراد نے آن لائن پٹیشن پر اپنے دستخط کر دیے ہیں۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ناروے کی نوبل کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی امن انعام پانے والے شخص سے انعام واپس نہیں لیتے کیوں کہ یہ ایوارڈ اس کام کی بنیاد پر دیاجاتا ہے جو کہ انعام حاصل کرنےکی بنیاد بنا ہو۔ویب سائٹ ’چینج ڈاٹ او آر جی‘ کی اس پیٹیشن پر اب تک تین لاکھ 65 ہزار سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جو کہ ظاہر کرتا ہے کہ عالمی سطح پر میانمار کی راکھین ریاست میں روہنگیا آبادی کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ پٹیشن میں لکھا گیا ہے کہ میانمار کی رہنما نے اپنے ملک میں انسانیت کے خلاف ہونے والے مظالم کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

طیب اردوان نے نئے صدارتی نظام کے تحت عہدے کا حلف اٹھا لیا

انقرہ: ترک صدر طیب اردوان نے دوسری مدت صدارت کے لئے نئے صدارتی نظام کے ...