اسمبلی انتخابات2018 کیلئے کانگریس پارٹی کے اقلیتی دعویداروں کو ہونا پڑیگا مایوس

شیموگہ:پچھلے سال کے مقابلے میں امسال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی نے اقلیتی زمرے سے ٹکٹ حاصل کرنے کے دعویداروںکو مایوس کردیا ہے،اس دفعہ اقلیتوں کو دی جانے والی ٹکٹ کی شرح میں کٹوتی کی ہے۔فی الوقت کانگریس نے 12 مسلم،دوعیسائی اور ایک جین مذہب سے تعلق رکھنے والے اراکین اسمبلی ہیں،جملہ15 اقلیتی اراکین اسمبلی کے علاوہ اس دفعہ میں جے ڈی ایس سے کانگریس میں شامل ہونے والے اقبال انصاری اور ضمیر احمد بھی ہیں۔لیکن اس دفعہ اتنی بڑی تعدادمیں اقلیتوں کو ٹکٹ دینے کے امکانات نظر آرہے ہیں۔گلبرگہ ساﺅتھ کے رکن اسمبلی کی وفات کے بعد ان کی نشست خالی ہیں،جبکہ بنگلورو شانتی نگر کے رکن اسمبلی این اے حارث کے بیٹے کی حماقتوں سے حارث کی ٹکٹ بھی خطرے میں نظر آرہی ہے۔موڑبدری کے رکن اسمبلی ابھئے چندر جین اس دفعہ انتخابات میں حصہ لینے میں دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں۔جے ڈی ایس نے اپنی پہلی فہرست میں7 مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیکر مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے،جبکہ کانگریس موجودہ تعدادمیں دو یا تین مقامات پر سے اقلیتوں کو ٹکٹ دینے سے معذرت چاہ لے گی۔کانگریس اس بات کو لیکر پُر امید ہے کہ بھلے ہی مسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہ دی جائے لیکن مسلمان ،عیسائی اور جین طبقے کے لوگ کانگریس پارٹی کے ساتھ ہی ہیں۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

حضرت بدرالدین شاہ مزار کی جگہ پر کھیل کے میدان کی توسیع کی کوشش وقف چیئرمین کی مداخلت کے بعد تعمیری کام منسوخ

شیموگہ:۔یہاں کے سیہادری کالج کے پاس موجود حضرت بدرالدین شاہ رحمتہ علیہ کی درگاہ سے ...