اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ارکان کا روہنگیا بحران پر تفصیلی بحث کا مطالبہ

اقوام متحدہ:۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت سلامتی کونسل کے نصف ارکان نے جمعہ کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرش سے میانمار میں روہنگیا آبادی پر وحشیانہ تشدد پر اگلے ہفتے 15 رکنی کونسل کو تفصیلی اطلاع دینے کا مطالبہ کیا، جس کو انہوں نے نسل کشی قرار دیا ہے۔ سویڈن، امریکہ، برطانیہ ، فرانس، مصر، سینیگال اور قزاخستان نے ایتھوپیا سے اگلے ہفتے کونسل میں روہنگیا آبادی کے خلاف تشدد پر تفصیلی بحث کا انتظام کرنے کو کہا ہے۔ میانمار میں گزشتہ ماہ 25 اگست کو روہنگیا باغیوں کے حملے کے بعد فوجی کارروائی میں وسیع پیمانے پر وحشیانہ تشدد سے چار لاکھ 22 ہزار سے بھی زیادہ روہنگیا افراد ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ امریکی نائب صدر مائیک پنس نے بدھ کو کہا تھا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سلامتی کونسل سے روہنگیا بحران کو ختم کرنے کے لئے فوری طورپر ٹھوس کارروائی کرنے کو کہا تھا۔ حالیہ روہنگیا بحران شروع ہونے کے بعد سلامتی کونسل نے دو مرتبہ بند کمرے میں میٹنگ کی ہے اور گزشتہ ہفتہ ایک غیر رسمی بیان جاری کرکے میانمار کی صورتحال کی مذمت کی ہے اور حکام سے فوری طورپر تشدد بند کرنے کو کہا ہے۔ سفارتکاروں کا خیال ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہیں ہو ئی تو سلامتی کونسل رسمی بیان جاری کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ تاہم، میانمار کے خلاف ٹھوس کارروائی سے چین اور روس عدم اتفاق ظاہر کرسکتے ہیں، کیونکہ ایسی کسی بھی کارروائی کےلئے اقوام متحدہ کی قرار داد کی منظوری لازمی ہے ، جس کو وہ ویٹو کرسکتے ہیں۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

چالیس زبانوں میں فوری ترجمہ کرنے والا ہیڈفون

واشنگٹن:۔امریکی شہر سان فرانسسکو میں ایک تقریب میں ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ایسا ہیڈفون لانچ ...