ایک نوالہ اور کم!!

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ:9986437327
مرکز میں جس وقت یو پی اے حکومت اقتدار پر تھی ،اس دوران اقلیتوںکے زمرے میں جین مذہب کو بھی شامل کرتے ہوئے اس وقت کی مرکزی حکومت نے مسلمانوںکے حصہ میںآنے والے ایک ٹکڑے کو کم کردیاتھا،اب ریاست کرناٹک کی سدرامیا حکومت نے ویرا شائیوالنگایت طبقے کو الگ سے لنگایت مذہب قرار دیتے ہوئے اسے بھی اقلیتی مذہب کا درجہ دے دیا ہے۔اس سے سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہوگا،لیکن اس نقصان کے تعلق سے مسلم قیادت بے فکرنظر آرہی ہے۔مثال کے طور پر ایک روٹی میں اب تک مسلمان،عیسائی،سکھ،پارسی،جین اور بدھسٹ مذہب کے لوگ 6 ٹکڑوں میں روٹی تقسیم کرتے ہوئے کھاتے تھے،اب انہیں 7 ٹکڑوںمیں روٹی تقسیم کرنا ہوگا۔اس کا سب سے زیادہ اثر مسلمانوں پر پڑیگا ،کیونکہ مسلمان ہی کرناٹک کی سب سے بڑی اقلیت قوم تھی،مگر اب لنگایتوں کو بھی اس کے برابر اقلیتی درجہ دے دیا گیا ہے اور وہ بھی مسلمانوںکے برابرہی اپنا حصہ وصول کرینگے۔سال2011 کے سینسس کے مطابق کرناٹک میں مسلمانوںکی آبادی12.9فیصد یعنی 81لاکھ ہے،جبکہ لنگایتوںکی آبادی17 فیصدیعنی1.10کروڑ ہے۔اس سے ظاہر سی بات ہے کہ ہر شعبہ میں لنگایتوںکو زیادہ فائدہ ملے گا۔پہلے ہی مسلمانوںکوہر مرحلے میںقربانیاں دینی پڑرہی ہیں۔کرناٹک کے مسلمان تعلیم و روزگار کے میدان میں دوسرے مذاہب سے پیچھے ہیں۔ریزرویشن کے نام پر جو4 فیصد اقلیتوں کودیاجارہا ہے،اس میںسے بھی مسلمانوں کو حق نہیں مل پاتا،ایسے میں اسی 4 فیصد میں سے 1.10 کروڑ والی آبادی کے لنگایتوں کو بھی حصہ دینا پڑیگا۔وزیر اعلیٰ سدرامیا نے مانو کہ مسلمانوں کے نیچے سے ایسی بلیڈ ماری ہے کہ اسے مسلمان گھوم کر دیکھ بھی نہیں سکتے۔حالانکہ کانگریس کے سربراہان جن میں روشن بیگ،تنویر سیٹھ اور دیگر اقلیتی لیڈروںنے حکومت کوتنبیہ دی ہے کہ لنگایتوں کواقلیت میں شامل کرنے کے بعد مسلمانوںکے ساتھ حق تلفی نہ ہو،لیکن وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس سلسلے میں وضاحت نہیں دی ہے۔غور طلب بات ہے کہ مسلمان اپنے ساتھ ہورہی ناانصافیوںکے تعلق سے آواز اٹھانے میں پوری طرح سے ناکام ہوچکے ہیںاور لنگایتوں کواپنے حصے میں سے حصہ دینے کیلئے خاموشی کے ساتھ تیار ہوچکے ہیں۔اگر واقعی میں لنگایتوں کی فلاح وبہبودی کا معاملہ ہے تو حکومت کو چاہےے تھا کہ وہ پہلے اقلیتوںکے زمرے کیلئے پہلے ریزرویشن میں اضافہ کرتے،پھر اس کے بعد لنگایتوں کو بھی اقلیتوںمیں شامل کرتے۔لیکن یہاں مسلمانوںکی ضرورت کو اہمیت دئےے بغیرہی اپنی سیاست کو پکی کرنے کیلئے ریاستی حکومت نے لنگایتوں کوخوش کردیا ہے۔افسوس صدافسوس کہ مسلمان اس ظلم کو بھی جھیل رہے ہیں۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

بس اور دعائیں ہی نہیں ۔۔ دواﺅں کا بھی انتظام ہو

از قلم : مدثر احمد شیموگہ ۔9986437327 ملک شام میں جو کچھ ہورہا ہے اس ...