اے امت مسلمہ جاگ ذرا

از:۔مدثر احمد،روزنامہ آج کا انقلاب،شیموگہ کرناٹک:۔9986437327
ایک طرف ملک کے شام میں پچھلے آٹھ سالوں سے بشر الاسد کی فوجیں معصوم مسلمانوں کا خون بہا رہی ہے ، ہزاروں مسلمان جاں بحق ہورہے ہیں ، خون میں لت پت بچوں کی آہ و بکا میڈیا کے ذریعے سے دیکھے جارہے ہیں، بھوکے کے مارے بچے اپنوں کے ہی گوشت کو منہ میں لئے پھر رہے ہیں مگر مسلمانوں کے لب کھلنے کا نام نہیں لے رہے ہیں ۔ ملکِ شام میں جاری خونریزی کے تعلق سے جہاں مسلم حکمرانوں اور مسلم ممالک کی جانب سے شدید ردِ عمل ظاہر کرنے کی ضرورت تھی،وہی یہ ممالک اور حکمران شامی متاثرین ومظلومین کیلئے معمولی امداد دیتے ہوئے اپنے آپ کو انسانیت کے علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔وہیں علماءجن کے تابع میں ہم کھڑے ہوکر نمازیں ادا کرتے ہیں اور ان کی اطاعت کو قبول کرتے ہیں وہ بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔بعض علماءنے تو اس جنگ کو قیامت کے قریب ہونے کے آثار بتاتے ہوئے حدیث ﷺ کی پیشن گوئی کہتے ہوئے اپنا پلہ جھاڑنے کی کوشش کررہے ہیںتو کچھ علماءمحض دعاﺅںکیلئے اُمت مسلمہ سے اپیل کررہے ہیں۔ہم اپنے گلی و محلے کے مساجد کے علماﺅںکی بات نہیں کررہے ہیںبلکہ دنیا بھر کے اُن علماءکی طرف اشارہ کررہے ہیں جواُمت مسلمہ کے قائدین کے درجہ پر مامورہیں۔ان کے اشاروں پر حکومتیں بنتی ہیںاو رحکومتیں گرتی ہیں۔لیکن یہ کیا ان علماءکے پاس حکومتوں کے سامنے شامی مسلمانوںکے تحفظ کیلئے بات رکھنے تک کی فرصت نہیں ہے۔افسوس کا مقام ہے کہ ہم مسلمان اپنے شامی بھائیوں کی مددکیلئے کھل کر بھی آگے نہیںآرہے ہیں۔ہم نے اپنے آپ کومحدود مدعوں تک سمیٹ لیا ہے،اگر ہمارے پاس اسلام کا حقیقی نقشہ ہوتا اور ہم اس پر عمل پیراں کرتے تو اس طرح کی بے راہ روی اختیا رنہیں کرتے۔اکثر ہم نے سنا ہے کہ ہمارے درمیان اب کوئی صلاح الدین ایوبی جیسا لیڈر نہیں ہے،یقین جانئے کہ آج کے مسلمانوںکی جو ذہنی کیفیت ہے وہی کیفیت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے دور ہوتی تو وہ تاریخ کے فاتح نہیں کہلاتے اور بیت المقدس فتح نہیں کرتے۔شام کے شہر غوطہ میں جو خونی منظر ہم دیکھ رہے ہیں اس سے ہمارا دل کانپنے لگا ہے،کلیجہ منہ تک آنے لگا ہے،لیکن ہم بے بس ہیںاور بے سہارا ہیں کیونکہ ہمارے قائدین گہرے نیند میں سوئے ہوئے ہیں۔ہندوستان کے نئی دہلی میں ملک کے وزیر اعظم نریندرمودی کی موجودگی میں ایک جلسہ کا انعقادکیا گیا تھا جس میں جارڈن کے شاہ عبداللہ ثانی نے بھی شرکت کی تھی،اس موقع پر ہندوستان کے علاوہ دنیا کے مختلف مقامات سے مسلمانوںکے مذہبی پیشوائ،علماء،مختلف تنظیموں کے سربراہان،جماعتوں کے امیروںنے بھی شرکت کی تھی۔لیکن پورے جلسہ میں سیریاکے مسلمانوں پر ہورہے حملوں پر ایک لفظ بھی کہنا گوارا نہیں سمجھا،دوسری ہی جانب کچھ ہمارے ہی علماءامن کا پیغام عام کرنے کیلئے یوروپی ممالک کادورہ بھی کررہے ہیں۔کیاہمارے علماءمیں اس بات کی سکت نہیں کہ وہ حکومتوں کو ان مدعوں پر آوازا ٹھانے کیلئے مجبو رکرسکیں۔یقین جانئے کہ مولانا ابولکلام آزاد،مولانا شوکت علی جوہر،مولانا محمد علی جوہر جیسے علماءنے دنیا بھر کے مسلمانوں پر جب بھی آفت پڑی تو انہوںنے آوازاٹھائی،ان کی آوازیں تحریکیں بن کر عوام کے سامنے آئی اور یہ تحریکیں اس قدر کامیاب بھی رہیں کہ مسلمان اس بات سے بے فکر تھا کہ ہمارے لئے ہمارے علماءہی کافی ہیںاور ہمیں یواین او جیسے کھوکھلے اداروںکی ضرورت نہیں۔لیکن آج ہمارے درمیان ایسے علماءکی کمی ہے ،اور جوعلماءقیادت کی دعویداری کرتے ہیں ان کی زبانوں سے نکلنے والے جملے تاثیر نہیں رکھتے۔ہم سے یہ سوال کیا جائیگا کہ آخر ہم ہندوستانی مسلمان اپنے ملک میں رہ کر سیریا،برما،ترکی جیسے ممالک کے مسلمانوںکیلئے کیسے آوازا ٹھا سکتے ہیں؟۔ہم بالکل اُسی طرح سے آواز اٹھا سکتے ہیں جس طرح سے مولانا شوکت علی جوہر نے بیت المقدس اور فلسطین کے تحفظ کیلئے لندن کی پارلیمان کا استعمال کیا تھا،ہم مسلمان بالکل اُسی طرح سے اپنا مطالبہ عرب ممالک سے کرسکتے ہیں جس طرح سے ہمارے یہاں چل رہے مدارس اسلامیہ کی امدادکیلئے دل سے چندوںکی اپیل کرتے ہیں۔یہ بات الگ ہے کہ ہماری اپیلیں کس حد تک کامیاب رہیں گی،لیکن جب مورخ تاریخ لکھنے بیٹھے گا تو وہ اس بات کوکھلے الفاظ میں لکھے گا کہ دنیا کے مسلمانوں پر گولیاں،بم اور کیمیائی ہتھیار چلتے رہے ،وہیں دوسری جانب دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی والے ہندوستان کے مسلمان مسلک مسلک کاکھیل رہے تھے اور وہ اپنے اپنے مسلکوںکے پرچارکیلئے بڑے بڑے جلسوں کا انعقاد کررہے تھے۔افسوس صد افسوس کہ ہم ان باتوں کو علماءکی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں تو ہمارے ہی لوگ ہمیں اس بات کا موردِالزام ٹھہراتے ہیں کہ ہم علماءکی توہین کررہے ہیںاور جو اہل علم کی توہین کریگا وہ سراسر خسارے میں ہے۔آج ہمارا دین صرف جنت اور جہنم کی بنیاد پر چل رہا ہے،ہم نے حقوق اللہ کیلئے تو اپنا وقت لگا دیا لیکن حقوق العبا د کیلئے ہماری توجہ کم ہی رہی ہے۔اگر ہم حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو بھی ترجیح دیتے ہیںتو یقینا دنیا میں مسلمانوںکی خونریزی اس طرح نہیں ہوگی۔کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگےا ہے کہ ہمارے نبی ﷺ پر بدکلامی کی جائے اور خاموش ہوتے رہے اور ہمارے ایمان پر سوال اٹھایا جائے تو ہم پڑھ کر چپ چاپ بیٹھے رہےں ۔کیا ہمارے پاس وہ ہمت و شجاعت کا مادہ مرگیا؟کیا ہماری زندہ دلی و بہادری کاپیمانہ لبریز ہوگیا ہے؟کیا ہم مسلمان محض نام کیلئے ہوگئے ہیں؟کیا ہمارے مکتب و مدرسہ صرف مسلکوں کی دعوت کا مرکز ہوگئے ہیں؟کیا ہماری مسجدوں کے منبر نماز و روزے کے مسائل سنانے کیلئے اور جنت وجہنم کی بات پہنچانے کیلئے محدود ہوگئے ہیں؟کیا ہمارے علماءاپنے اپنے مسلکوں کی تبلیغ تک محدود ہوگئے ہیں؟کیا ہمارے علماءایک دوسرے کو کافرو مشرک کے فتوے دینے کیلئے محدود ہوگئے ہیں۔اگر ایسا نہیں ہے تو کیوں نہیں توہین رسالت کے گستاخوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائی جارہی ہے۔کیوں ہماری زبانیں گنگ ہوگئے ہیں،کیوں ہمارے ہاتھ ٹھٹک گئے ہیں،ہم تو آقاﷺ کے پر نام پر مرمٹنے والے پروانے ہیں،نبی ﷺکے دیوانے ہیں۔ان کے نام پر جھومنے والے مستانے ہیں۔ا±ن پر ہر دن لاکھوں کروڑوں درود بھیجنے والے ہیں ،ا±ن کے بتائے ہوئے ایمان پر چلنے والے ہیں،ا±ن کی بتائی ہوئی س±نتوں پر وقت نکالنے والے ہیں،ا±ن کے بتائے ہوئے پیغام کو عام کرنے کیلئے گشت کرنے والے ہیں،ا±ن کے دین کی تبلیغ غیر مسلموں تک پہنچانے کیلئے کتابیں بانٹنے والے ہیں،افطار کی دعوتیں کرنے والے ہیں،عید ملن کے پروگرام ہمارے یہاں منعقد ہوتے ہیں۔جب ا±سی پیغمبر محمد مصطفیﷺ کے بتائے دین پر ایک کافر مشرک دہشت گرد یہ کہہ رہا ہے کہ یہ مذہب دہشت گردی کا درس دینا والا ہے ،جب تک اس مذہب کا خاتمہ نہیں ہوتا ا± س وقت تک دنیا میں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوسکتا۔مسلکوں کیلئے ایک دوسروں کے گریباں پھاڑنے والوں،توحید و رسالت کی بات پر کیوں خاموش ہوگئے؟کیا ہمارے لئے توحید و رسالت کے کوئی معنی نہیں؟کیا ہمارے لئے مسلک ومکتب ہی سب کچھ ہے؟کیا ہمارے لئے ہمارا اپنا اپنا عقیدہ سب کچھ ہے۔تو ایسا نہیں ہے تو کیوں اپنے گھروں میں خاموش بیٹھےں ہیں۔ایک بات سمجھ لیں کہ اس دور میں اسلام کی حفاظت کرنے کیلئے صلاح الدین ایوبی کا دوبارہ جنم نہیں ہوگا اور نہ ہی کافروں مشرکوں کے خاتمہ کیلئے ابابیل پتھر برسائینگے،نہ سمندر کافروں کو لے ڈوباگا اور نہ ہی فرشتوں کی مدد ملے گی۔قرآن نے تو ہمیں باقاعدہ طور پر یہ ہدایت دی ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنی حالت کو بدلنے کیلئے کوشش نہیں کرتی ا±س وقت تک خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا۔آج ہم مسجدوں میں بیٹھ کر گڑگڑاکر دعائیں مانگتے ہیں کہ یا اللہ ہماری حالت بدل دے،یا اللہ ہمیں جامِ شہادت پلا دے۔ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ ہم نے کبھی مسجدوں کے باہر آکر باطلوں کے خلاف آواز اٹھانا گوارا نہیں سمجھا۔دعوتوں و پارٹیوں سے تو ہمیں فرصت نہیں ملتی،جوجام شہادت توکیا ان دعوتوں کے دسترخواں پر ملے گا؟۔اے امت مسلمہ جاگ ذرا۔تیرے سامنے کارواں اور بھی ہیں!!!

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہمارے ادارے

از:۔مدثراحمد۔9986437327 ایک دورے میں سرکاری اسکول ہی تعلیم کا واحد ذریعہ تھے اور انہیں اسکولوں ...