بامقصد سیاست!!!

از:۔مدثراحمد،شیموگہ:۔9986437327
کچھ دنوںبعد کرناٹک میں اسمبلی انتخابات شروع ہونے والے ہیں،ان انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ہر گلی ومحلے سے ایک ایک نوجوان یا سیاستدان تیار ہورہا ہے۔ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات اسمبلی کے نہیں کارپوریشن یا میونسپل کاﺅنسلنگ کے ہیں،جس کیلئے ہر گلی سے ایک امیدوار پیدا ہورہا ہے،اس طرح کارحجاج زیادہ تر ہماری قوم میں دیکھا جارہا ہے۔جس میں مسلمانوںنے اسمبلی انتخابات کو مذاق سمجھ رکھا اور ہر کوئی اسمبلی کا دعویدار بنتاجارہا ہے۔ان لوگوںمیں نہ تو کبھی کسی کی قیادت کرنے کا سلیقہ آیا ہے اور نہ ہی انہوںنے کبھی کسی کی قیادت کی ہو۔باوجود اس کے وہ اپنے آپ کو ایم ایل اے کیانڈیڈیٹ قرار دے رہے ہیں۔سچ پوچھیں تو جو لوگ آنے والے اسمبلی انتخابات میں امیدواربننے کے دعویدارہیں،اگران امیدواروں کو کارپوریشن یا میونسپل کاﺅنسل کے الیکشن میں امیدوار بنا دیا جائے تو انہیں اپنے گھروالوںکے ہی ووٹ ملنا مشکل ہے،ایسے میںوہ اسمبلی انتخابات کے امیدوار بننے کیلئے دوڑے چلے جارہے ہیں۔کچھ کا تو یہ کہنا ہے کہ کیا پتہ دو کی لڑائی میں ہمارافائدہ ہوجائے اور ہم جیت جائیں۔جیت ملے یا نہ ملے یہ الگ بات ہے،لیکن اکثر امیدوار کسی مخصوص سیاسی جماعتوں کے پیسوں پر ووٹوں کابٹورا کرنے کیلئے میدان میں اترتے ہیںاور وہ ووٹوں کا بٹورا کرتے ہوئے کسی مخصوص سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔یقینا اسلام میں سیاست کی اجازت دی ہے اور سیاست بھی کرنی چاہےے،لیکن اٹھے اٹھے بیٹھے بیٹھے اپنے آپ کو ایم ایل اے کیانڈیڈیٹ کہاں کی عقلمندی ہے۔جو لوگ اس عہد ے کاد عویٰ کررہے ہیں،اُن میں سے بیشتر لوگوں کو ایم ایل اے کے معنی تک نہیں معلوم نہیں ہیں اور اس کیلئے کیا اہلیت ہونی چاہےے اُس سے بھی ناواقف ہیں۔ایسے میں محض مفادات کی خاطرانتخابات میں حصہ لینے کے کیا معنی نہیں اس پر غورکریں۔حالانکہ آج قوم کو صحیح اور مخلص سیاستدانوں کی ضرورت ہے اور اس کیلئے ہماری قوم کے افراد کو آگے بھی آناچاہےے۔لیکن سیاست میں آتے ہی ایم ایل اے بننے کے جوخواب دیکھے جاتے ہیں وہ بے قوفی کے سواءکچھ نہیںہے،ہرکام کیلئے وقت اور طریقہ ہوتا ہے،جب تک ہم اُس طریقے کو نہیںاپناتے اُس وقت ہماری کامیابی ناممکن ہے۔مثال کے طور پر جب کوئی شخص سیاست میں اترنے کا اعلان کرتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی صلاحیتوں کوعوام کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے،پھر عوامی مسائل کو حل کرنے کیلئے بذات خود آگے جانا ہوتا ہے۔قوم کی قیادت کیلئے قائد کی ضرورت ہے،تو اس کیلئے ہمیں قوم کے درمیان ہی جانا ہوگا۔ہر کام قدم بدقدم انجام دیا جائے تبھی ہماری کامیابی ہوسکتی ہے۔لمبی چھلانگ لگانے کی جو فکر کرتے ہیںاُن کی چھلانگ اکثرناکام ہوجاتی ہے۔آج قوم کے نام پر سیاست کرنے والوںکی بڑی تعدادہے،لیکن ان کی سیاست کا مقصد ہی وہ واضح نہیں کرپاتے۔اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ ہماری سیاست صرف سیاسی پارٹیوں تک محدودہوتی جارہی ہے۔سیاسی جماعتوں میں عہدے لینا ہمارا مقصد ہوگیا ہے۔سیاسی میدان میںجوبھی کام کیا جائے وہ اپنی قوم کیلئے نہیں بلکہ اپنے سیاسی آقاﺅںکی خوشنودی کیلئے انجام دیا جارہا ہے،جب قوم کے نام پر کوئی عہدہ حاصل کررہے ہیں تو قوم کی بھلائی کیلئے کیوں نہیں کام کیا جاتا۔کیاسیاست کامقصد صرف سیاسی آقاﺅںکی خوشنودی ہے؟۔ان تنگ نظریات کی وجہ سے ہی آج قوم تباہ ہورہی ہے۔سیاست کریں لیکن اس کا مقصد طئے کریں،تبھی قائد بھی کامیاب ہوگااور قوم بھی کامیاب ہوگی۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہمارے ادارے

از:۔مدثراحمد۔9986437327 ایک دورے میں سرکاری اسکول ہی تعلیم کا واحد ذریعہ تھے اور انہیں اسکولوں ...