بس اور دعائیں ہی نہیں ۔۔ دواﺅں کا بھی انتظام ہو

از قلم : مدثر احمد شیموگہ ۔9986437327
ملک شام میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر ہم جیسے قلمکار کچھ نہ کچھ لکھ رہے ہیں، لیکن میں نے اس سلسلے میں اب تک کچھ نہیں لکھا، اسکی وجہ یہ نہیں کہ ملک شام کے خونی حالات سے میرا کوئی تعلق نہیں اور ایسا بھی نہیں کہ یہ ہمارے ملک سے باہر ہورہا ہے بلکہ میں اس معاملے پر اس لیے قلم نہیں اٹھارہا تھا کہ جب میں نے سوشیل میڈیا پر خون سے لت پت بچیوں کو دیکھا تو میرے سامنے میری بیٹی کا چہرہ آگیا، جب ہاتھ میں انسانی جسم کے حصے کو لیے گھوم رہے بچے کو دیکھا تو میرا بیٹا نظروں کے سامنے آگیا، چیخ چیخ کر رونے والی ماں کی تصویریں دیکھی تو مجھے میری ماں اور بیوی دکھائی دینے لگے ۔اس لیے کافی کوششوں کے بعد لکھنا ضروری سمجھا تو میرے پاس الفاظ نہیں تھے لیکن آخر میں پوری ہمت کے ساتھ اس مضمون کو لکھنے کی کوشش کررہا ہوں تاکہ میرے نبیﷺ کی امت میں کوئی تو اٹھے جو مدد کے لیے پکارنے والوں کی آواز پر لبیک کہیں۔ سوشیل میڈیا کے فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر پر میں مسلسل دیکھ رہا ہوں کہ لوگ شامی مسلمانوں کےلئے دعا کررہے ہیں۔ فوٹوس شیئر کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک بار آمین کہو، ایک بار لائک کرو، اورشیئر کرو۔ جہاں سوشل میڈیا پر یہ حال ہے وہی ہمارے اہل علم حضرات اللہ سے پناہ مانگنے، قنوت نازلہ پڑھنے اور شامی مسلمانوں کے حق میں صرف دعائیں مانگنے کی تلقین دے رہے ہیں. جب میں ان چیزوں کو دیکھتا یا پڑھتا ہوں تو میرے ذہین میں غزوہ بدر کا واقعہ رونما ہوتا ہے جس میں اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیﷺایمان کی خاطر، مسلمانوں کی خاطر دشمنوں کو سبق سکھانے کےلئے بدر میں جنگ کا اعلان کیا تھا۔ اللہ کے رسول ﷺچاہتے تو وہ اللہ کی بارگاہ میں اپنے اور اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کی حفاظت کیلئے دعا کرتے اور دشمنوں کے خاتمے کےلئے اللہ سے مددمانگتے مگر اللہ کے رسول محمد عربیﷺ نے ایسا کرنے کے بجائے خود جنگ کے میدان میں اپنے 313 صحابہ کو ساتھ لےکر1000ہزار افراد کے لشکر کا مقابلہ کرنے پہنچے ۔ اللہ کے رسول نے اتنے بڑے لشکر کا سامنا کرنے کے لئے صرف اللہ سے مدد مانگی تھی اور اللہ نے انکی مدد بھی فرمائی ۔ آقانبی کریم ﷺ چاہتے تو بغیر جنگ اور 14 صحابیوں کی شہادت کے بغیر ہی صرف دعا سے کافروں کو تباہ کرواسکتے تھے کیونکہ نبی کریم ﷺ اللہ کے مقبول ترین بند ے ہیں اور انکی دعا کبھی انکار نہیں ہوتی تھی ۔ لیکن ہمارے نبی ﷺ نے خود جنگ کے میدان میں اتر کر اپنی امّت کے سامنے نمونہ پیش کیا کہ اگر سامنے باطل ہو ، ظالم ہو اور قاتل ہوں تو انکے ساتھ جنگ کرنا چاہئے اور اسکے لئے اپنے جان ، مال و اولاد کی قربانی کرنی ہوگی۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس رسول ﷺ نے اپنی امت کی خاطر جنگ کا میدان منتخب کیا آج وہی امت سوشیل میڈیا پر شام کے مظلوم مسلمانوں کے لئے صرف دعاﺅں کی تلقین کررہے ہیں ۔ دوسری جانب سکھ مذہب کے لوگ ، جنہوں عام طورپر مسلمانوں کے دشمن ہونے کا دعویٰ کیا جاتاہے انکی خالصہ ایڈ نامی تنطیم سیریایعنی شام کے مظلومین کی مدد کے لئے ادویات ، کھانے پینے کے سامان اور ڈاکٹروں کی ٹیم لے جاکر مدد کرنے لگی ہے اور ہم مسلمان ۔۔۔ دعاﺅں کی اپیلیں کررہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے سورة رعد میں کہا ہے کہ ”بیشک اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہیں بدلے “ ۔ بیشک مومنوں کی دعائیں مومنوں کے لےے ہتھیا ر ہیں لیکن اسکے علاوہ عمل کے بھی مواقع ہیں جن کا ہم استعمال ہی نہیں کررہے ہیں ۔ آج ملک شام میں جو کچھ ہورہاہے وہ انسانیت سوز ہے ۔ 21 ویں صدی میں مسلمانوں کے لئے شرمناک بات ہے ۔ ہٹلر نے یہودیوں کو قتل کرتے ہوئے تاریخ رقم کی تھی لیکن آج جو سیریا میں کیا جارہاہے وہ ہٹلر کے ہولو کاسٹ سے کم نہیں ہے ۔ ہندوستان کے مسلم قائدین ، علماءاوررہنماءخاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ، کچھ لوگ اخبارات اور سوشیل میڈیا میں پر زور مذمت کررہے ہیں یا زیادہ سے زیادہ جلسوں میں ملنے والے اسٹیجوں سے شام ، اسرائیل اورروسی حکومتوں پر لعن طعن بھیجا ۔ سعودی عرب خواتین کو آزادی دینے میں مصروف ہے تو دبئی اونچی عمارتوں کی نمائش اور مندروں کی تعمیر میں لگا ہواہے ۔ قطر کو فیفا ورلڈ کپ کی تیاریوں کے تعلق سے پریشانیاں لاحق ہیں تو پاکستان جسے ایٹمی ملک کہا جاتاہے وہ امریکہ کو خوش کرنے میں لگاہواہے ۔ شام کی بشر الاسد کی حکومت دنیا کے معمولی ممالک میں بھی اپنی اوقات نہیں رکھتا ایسے ملک میں عام مسلمانوں کا قتل عام ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی دنیا کے 50 سے زائد مسلم ممالک تماشہ بین بن کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کچھ علماءنے تو شام کی خون ریزی کے تعلق سے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے اسے قیامت کی نشانی سے جوڑ رہے ہیں اور خاموشی اختیار کررہے ہیں ۔ سچ میں جو حالات شام کو لے کر پیدا ہوئے ہیں انہیں بیان کرنے کے لئے نہ جملے ہیں نہ ہی الفاظ ، پھر بھی شام کے معصوم بچوں کی آہ و بکا ءانسانیت کو جھنجوڑ نے والی ہے ۔ بے قصوروں کا قتل انسانیت کے نام پر بدنام داغ ہے ۔ ہم اس اقوام متحدہ سے مدد کی امیدیں لگائے ہوئے ہیں جو شام کے معاملے میں صرف میٹنگس پر میٹنگس کررہے ہیں اور وہاں کے لاچار مسلمانوں کی مدد کے لئے کسی بھی طرح کا عملی قدم اٹھانہیں رہی ہے ۔یا د رہے کہ دنیا کے خاتمہ ظالموں سے نہیں ہوتا بلکہ ظلم کو ہوتے ہوئے خاموشی کو دیکھنے سے ہوتاہے ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ سیریامیں جو قتل عام ہورہاہے اس میں حکومت اور باغیوں کا ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کا بھی ہورہاہے ۔ حکومت صحیح ہے یا باغی صحیح یہ سوچنے سے زیادہ ہمیں اس بات کو سوچنا چاہئے کہ جو عام مرد ، خواتین اور بچوں کا قتل ہورہاہے وہ غلط ہے اور اسکے لئے ہمیں باقاعدہ آواز اٹھانے اور عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے ۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہمارے ادارے

از:۔مدثراحمد۔9986437327 ایک دورے میں سرکاری اسکول ہی تعلیم کا واحد ذریعہ تھے اور انہیں اسکولوں ...