بہت ہوگیا اب اور ہونے نہ دیں

از:۔مدثراحمد:۔9986437327
کچھ ہی دن بعد ہم ہندوستانی جشن آزادی منائیں گے ، یہ جشن آزادی ہندوستان کی 71 واں جشن ہوگا ، لیکن جشن آزادی کے دوران ہم کئی باتیں بھول جاتے ہیں جن سے ہم روز گزر رہے ہیں ۔ 1857 کے بعد ہندوستانی مسلمانوں نے ملک کو انگریزوں کے پنجوں سے آزادکرانے کے لئے جو جنگ چھیڑی اسے مسلمانوںنے جہاد کانام دیا تو وہیں اس ملک کی دوسری قوموں نے انگریزوں سے بغاوت کا اعلان اقتدار اور حکومت کے لئے کیا۔ انگریزوں کی آمد سے قبل ہندوستان پر قریب 650 سال تک حکومت کی اور اس پوری حکومت کے دوران کسی بھی مسلم حکمران نے یہاں کے ہندوﺅں پر کسی بھی طرح کا ظلم نہیں کیااور اس بات کاثبوت ہندوستان کی تاریخ ہے ۔ مگر جب سے ہندوستان میں مسلمانوں کو آزادی ملی ہے اسکے بعد سے مسلمانوں کے لئے ہر دن ایک نیا امتحان ہے اور اس امتحان کاسامنا مسلمان صبر کے ساتھ کررہے ہیں ۔ لیکن پچھلے دس سالوں سے ہندوستانی مسلمانوں کے لئے جو سنگین حالات پیدا ہوئے ہیں وہ آزادی کے بعد 60 سالوں تک نہیں آئے ۔ بھگوا دہشت گردوں نے ہندوستان کے جمہوری نظام میں جو ہلچل مچائی ہے وہ نہ صرف مسلمانوں کے لئے باعث تشویش ہے بلکہ ہندوستان کے جمہوری نظام کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوئی ہے ۔ ہم اس ملک سے حب الوطنی اور اتحاد کے لئے جتنی بھی کوششیں کرلیں اسکے خلاف سنگھ پریوار اور فاشسٹ طاقتیں مورچے بنانے لگے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ظلم و ستم کا شکار ہورہے ہیں ۔ ان سنگین حالات میں مسلمانوں کی قیادت کے لئے جو لوگ آگے آئے ہیں وہ بھی محض اپنے مفادات کی خاطر قیادت کررہے ہیں ۔ ہمارے کچھ علماءجو مسلمانوں کی قیادت دین و شریعت کے سہارے کررہے ہیں انہوںنے دین اور بنیاد بناکر مسلمانوں کی زمینی سطح پر قیادت کرنے کے بجائے مسلمانوں کے مسائل کو اپنا بھنڈوال یعنی سرمایہ بنالیاہے ۔ جو سیاسی قائدین مسلمانوں کی قیادت کا ڈھنڈورا پیٹھ رہے ہیں وہ اپنے الیکشن ، عہدوں اور اقتدار کی خاطر مسلمانوں کا استعمال کررہے ہیں ۔ جو تنظیمیں مسلمانوں کی نمائند ہ تنظیمیں بنی ہوئی ہیں وہ تنظیموں کی آڑ میں مسلمانوں سے چندے وصول کرنے کا دھندہ اور انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں سے اندرونی معاہدے کرنے پر آمادہ ہوئی ہیں ایسے میں مسلمانوں کے جو مسائل ہیں 70 سالوں سے مسائل ہی بن کر رہے ہیں اور ان مسائل کا مستقل حل نکلنامشکل ہوچکاہے ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے والی تنظیمیں آج حکومتوں کے مدمقابل کھڑے ہونے کے بجائے انکی جی حضوری کرنے لگی ہیں ۔ عید ملن پارٹیاں ، افطار پارٹیاں ، گیٹ ٹو گیدر پارٹیاں ان حکمرانوں اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ انجام دی جارہی ہیں جنہوںنے مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے ، مسلمانوں کو ختم کرنا انکا مقصد رہاہے ، مسلمانوں کو لاچار اور بے سہارا بنانے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے ۔ ان حالات میں مسلمان اس ملک کی آزادی سے کیسے لطف اندوز ہونگے ؟۔ آج ہم ظلم و ستم کی بات کرتے ہیں تو صرف بی جے پی حکومت کی بات کرتے ہیں لیکن آزادی کے بعد کے ان ساٹھ سالوں کا بھی جائزہ لیں تو ہم مجموعی طورپر یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمان محفوظ نہیں ہیں ۔ ان حالات میں مسلمانوں کو ایک نئی تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے اور یہ تحریک اپنے اوپر ہورہے ظلم و ستم سے آزادی حاصل کرنے کےلئے ، سماجی انصافی کےلئے ، تعلیمی و معاشی حقوق کی خاطر ہونی چاہئے اور اس کےلئے ہمارے ان تمام نام نہاد قائدین کو اس بات پر آمادہ کروانے کی ضرورت ہے جنہوںنے ہمارے نام پر سیاست و قیادت کی ہے اور پوری قوم و ملت کے مفاد سے زیادہ اپنے مفادات پورے کئے ہیں ۔ انہیں اس بات کااحساس دلانا چاہئے کہ اب بہت ہوگیا اور زیادہ ہونے سے پہلے اپنے لئے محاصرہ بنانے کی ضرورت ہے۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...