ترمیم شدہ ین آئی ایکٹ سے انصاف سے زیادہ ناانصافی ہوگی:شاہراز مجاہد صدیقی

شیموگہ: ۔ پچھلے دنوں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نیگوشیبل انسٹرومنٹ ایکٹ(ین آئی ایکٹ) کے کیسس 138میں جو ترمیم لائی گئی ہے اس ترمیم شدہ بل سے انصاف سے زیادہ ناانصافی ہونے کے امکانات ہیں اور اس قانون سے کارپوریٹ فائنانس کمپنیوں کو فائدہ پہنچے گا، حکومت کو چاہئے کہ وہ اس قانون پر نظر ثانی کرے، اس بات کا مطالبہ اڈوکیٹ شاہراز مجاہد صدیقی نے کیا ہے۔ اس سلسلے م?ں جاری کردہ اعلامیہ میں انہوں نے کہاکہ ترمیم شدہ ین آئی ایکٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ چیک باو¿نس کے معاملات میں عرضی گزار کو فوری راحت دینے کے لئے عدالت کی پہلی سنوائی میں ہی یہ احکامات جاری کئے جائیں گے کہ جملہ رقم کی 20 فی صد رقم پیشگی 60 دنوں کے اندرعدالت میں جمع کرنی ہوگی اور یہ رقم عرضی گزار کو ادا کی جائیگی۔ نجی فائنانس کمپنیاں اور سودی کاروبار سے جڑے ہوئے لوگ پہلے ہی چیک باو¿نس کیسس کا غلط استعمال کررہے ہیں اب اس نئے قانون سے قانون کامزید غلط استعمال ہوگا۔ پارلیمان میں اس بل کی تائید سوائے سی پی یم کے تمام سیاسی جماعتوں نے کی ہے اور کانگریس نے تو مکمل تائید کی ہے۔ اس قانون کے ذریعے سے منی لانڈرنگ سے جڑے ہوئے ادارے آنے والے دنوں میں غلط فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لیے اراکین پارلیمان کو چاہیے کہ وہ اس بل کی مذمت کریں اور پہلے جو قانون تھا اسے ہی بحال رکھا جائے۔ انہوں نے عوام کو بھی باخبر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کسی بھی مالی لین دین کے دوران قرضہ دینے والوں کو بلانک چیک دینے کے بجائے صرف وہی چیک دے جتنی رقم لی جارہی ہے ورنہ مستقبل میں انہیں غیر یقینی مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

بلدیاتی اداروں کے انتخابات دومراحل میں فی الحال شیموگہ کارپوریشن انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں

شیموگہ:۔کرناٹک ریاستی الیکشن کمیشن (کے ایس ای سی )نے مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات دومراحل ...