حاملہ خواتین کو کروٹ سونے کا مشورہ کیوں؟

واشنگٹن:۔سائنسدانوں کے مطابق حاملہ خواتین کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش سے تین مہینہ قبل سے کروٹ سوئیں تاکہ مردہ بچے کی پیدائش سے بچا جا سکے۔ایک ہزار خواتین پر کی جانے والی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ اگر خواتین حمل کی آخری سہ ماہی میں پیٹھ کے بل سوتی ہیں تو بچے کی موت کا خطرہ دگنا ہو جاتا ہے۔اس تحقیق میں 291 ایسی خواتین کے معاملے کی جانچ کی گئی ہے جن کے ہاں مردہ بچے پیدا ہوئے تھے جبکہ تحقیق میں 735 ان خواتین کے معاملے کی بھی جانچ کی گئی تھی جنھیں زندہ بچے پیدا ہوئے۔ محققین کا کہنا ہے کہ خواتین جس انداز میں سوتی ہیں وہ بہت اہم ہے اور جب وہ بیدار ہوتی ہیں اور یہ دیکھتی ہیں کہ وہ اپنی پیٹھ کے بل سو رہی تھیں تو انھیں اس بات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔خیال رہے کہ برطانیہ میں ہر سوا دو سو بچے کی ولادت میں ایک مردہ بچہ پیدا ہوتا ہے جبکہ اس تحقیق کے مصنفوں کا کہنا ہے کہ اگر خواتین کروٹ سوئیں تو سال میں کم از کم 130 بچوں کی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔برٹش جرنل آف آبسٹیٹرکس اینڈ گائیناکلوجی (بیجوگ) میں شائع تحقیق اپنے قسم کی اب تک کی سب سے وسیع تحقیق ہے اور یہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں کی جانے والی تحقیق کے نتائج کی تصدیق کرتی ہے۔اس تحقیق کے سربراہ اور سینٹ میری ہسپتال میں ٹومی سٹل برتھ ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر الیگزینڈر ہیزیل خواتین کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ حمل کی تیسری سہ ماہی میں وہ کبھی بھی سوئیں تو کروٹ ہی سوئیں۔انھوں نے کہا: ‘میں یہ نہیں چاہتا کہ جب حاملہ خواتین بیدار ہوں اور دیکھیں کہ وہ پیٹھ کے بل سو رہی ہیں تو کہیں وہ ڈر نہ جائیں کہ انھوں نے اپنے بچے کو نقصان تو نہیں پہنچا دیا۔ان کے مطابق جس پوزیشن میں آپ سونے جاتے ہیں وہ زیادہ اہم ہے نہ کہ جس پوزیشن میں آپ بیدار ہوتے ہیں۔ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ کروٹ سونے سے برطانیہ میں ہر سال کم از کم 130 بچوں کو بچایا جا سکتا ہے۔آپ جس پوزیشن میں بیدار ہوئے ہیں اس کے متعلق آپ کچھ نہیں کرسکتے لیکن جس پوزیشن میں آپ سونے جا رہے ہیں اس کے بارے میں آپ کچھ کر سکتے ہیں۔جب رات میں بیدار ہوں تو سونے کی اپنی پوزیشن کی جانچ کریں اور پھر کروٹ سونے کی کوشش کریں۔رات کی طرح دن میں بھی اس پوزیشن پر ہی آرام کرنے کی کوشش کریں۔اگر رات میں پیٹھ کے بل سوتے ہوئے بیدار ہوں تو پریشان نہ ہوں بلکہ کروٹ لے کر سو جائیں۔اس تحقیق میں دائیں اور بائیں کروٹ سونے کی وجہ سے کوئی فرق نظر نہیں آیا ہے۔ مردہ بچے کی پیدائش کے خطرے کے اضافے کے بارے میں وثوق کے ساتھ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن بہت سے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ جب کوئی حاملہ خاتون پیٹھ کے بل سوتی ہے تو بچہ اور بچہ دانی دونوں کا وزن خون کی نلی پر اثر ڈالتا ہے جس سے بچے میں آکسیجن کی کمی ہو سکتی ہے ۔ بہرحال بیجوگ کے ایڈوارڈ مورس نے اس تحقیق کے نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک اہم مطالعہ ہے جو مزید شواہد فراہم کرتا ہے کہ حاملہ خواتین کے سونے کی پوزیش بچے کی پیدائش پر اثر انداز ہوتی ہے جسے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

روہنگیا مسلمانوں کو اب بھی مصائب کا سامنا، قصورواروں کو سزا ملنے کے امکانات معدوم

ڈھاکہ: اقوم متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ میانمار میں روہنگیا ...