دارالقضائ

از:۔مدثر احمد،ایڈیٹر،روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ۔9986437327
طلاق ثلاثہ ،خلع اور حلالہ جیسے معاملات جیسے ہی ہندوستانی حکومت کے درمیان باعث بحث بنے ،اس کے بعد مسلم علماءاور دانشور ان کے حلقے میں ان شرعی امور کو لیکر بے چینی بڑھ گئی۔حالانکہ ماضی میں بھی شاہ بانو مقدمے کے بعد ہندوستانی علمائ،مسلم پرسنل لاءبورڈ اور عام مسلمانوںمیں اس مدعے کو لیکر ایک تحریک چلی،جس میں مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی اور شاہ بانو کا معاملہ ہندوستانی پارلیمان میں نظر انداز ہوگیا۔یہ بات اور ہے کہ شاہ بانو نے اس معاملے اورمقدمے کے بعد علماءسے رجوع کرتے ہوئے معافی مانگ لی تھی۔لیکن اب پچھلے پانچ سالوں سے ہندوستان میں اگر مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے تو طلاق،خلع اور حلالہ کا رہ گیا ہے۔ہندوستانی حکومت نے مسلم عورتوں کو آزادی نسواں اور حقوق نسواں کے نام پر ان تین مدعوں کو لیکر جس طرح سے ورغلایا ہے وہ شرمناک بات ہے۔حالانکہ ہندوستان کے20 کروڑ مسلمانوں میں شایدہی 20 لاکھ مسلمان عورتیں ایسی ہونگی جو طلاق اور خلع کے مسئلہ سے متاثر ہوئی ہوں یا پھر اس سے بھی کم ہوئی ہوں۔مگر ملک کے وزیر اعظم اورمرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کو بس ان طلاق شدہ و خلع حاصل کرنے والی خواتین کی فکر ستانے لگی ہے۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورِ اقتدارمیں جسٹس سچر کمیٹی اور جسٹس رنگناتھ مشرا کمیٹی نے ہندوستانی مسلمانوں کے حالات پر تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی،اس رپورٹ میں بتایاگیا تھا کہ ہندوستانی مسلمان روزگار،تعلیم، صحت کی سہولیات اور مذہبی تعصب کا شکار ہیں،ان کی باز آباد کاری کرنے اور انہیں پسماندہ طبقے سے ترقی یافتہ طبقے میں شمار کرنے کیلئے ریزرویشن،تعلیمی سہولیات،روزگار کے مواقع دینے کی ضرورت ہے۔لیکن ان دونوں ماہرین نے اپنی رپورٹ میں کہیں بھی اس بات کاتذکرہ نہیں کیاکہ ہندوستانی مسلمانوں کو طلاق کے معاملے میں سہولت دی جائے،باوجود ا س کے نہ تو یوپی اے حکومت نے اس سمت میں کوئی خاص توجہ دی او رنہ ہی بی جے پی حکومت نے ان کمیٹیوں کی سفارشات کو بروئے کار لانا صحیح سمجھا۔اب سچر کمیٹی اورر نگناتھ مشر اکمیٹی کی سفارش ردی کی ٹوکری میںجانے لگی ہے اور یہ سفارشات تاریخ کاباب بن جائینگی۔ ہندوستانی مسلمانوں کو جن چیزوں کی سہولت درکار ہے،ان پر حکومتوںکی توجہ کم ہے لیکن جن چیزوں کو خود اسلام نے سب سے نا پسندیدہ عمل قرار دیاہے اسی ترجیح دی جارہی ہے۔ان معاملات میں نہ صرف حکومتیں اپنی سیاست کررہی ہیںبلکہ ہم مسلمان بھی آئے دن ان باتوں کو لیکر نہایت سنجیدہ ہونے لگے ہیں۔حال ہی میںآل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈکی خصوصی نشست کے بعد بورڈکے ایک رکن نے ہر ضلع میں دارالقضاءکے قیام کے تعلق سے بیان دیا،جس کے بعد سنگھ پریوار،حکومتی اداروں اور سیاستدانوں کے درمیان اس بات کو لیکر ایک لمبی بحث چھڑ گئی اور مسلم پرسنل لاءبورڈکے اس فیصلے کی مذمت کی جانے لگی۔دراصل آج مسلمانوںکے درمیان دارالقضاءکے مراکز قائم کرنے کے بجائے موجودہ دارالقضاءکو موثر و بہتر بنانے کی ضرورت ہے،ہم دیکھ رہے ہیں اکثر و بیشتر دارالقضاءآج شرعی اعتبار سے کام کرنے کے بجائے مخصوص طبقوںکیلئے کام کررہے ہیں،بعض دارالقضاءایسے ہیں جہاں پر جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کی طرح فیصلے سنائے جاتے ہیں اور کئی مقامات پر قاضیان صرف نام کیلئے رہتے ہیںاور فتوے،ہدایت و احکامات جاری کرنے والے دارالقضاءکی سرپرست کمیٹیاں ہوتی ہیں۔ہم نے بعض مقامات پر ایسی شکایتیں سنی ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ فیصلوںکے عوض نقد و ہدیہ لازمی قرار دئےے گئے ہیں،اگر ہدیہ یا نقد نہ دیا جائے تو فیصلہ ہی نہیں ہوتا۔ایسے ہی حالات کی وجہ سے آج خواتین اپنے علاقوںمیں دارالقضاءہونے کے باوجود عدالتوںا ور پولیس اسٹیشنوں کا رخ کررہے ہیں جس کی وجہ سے عدالتوںمیں فیصلے اکثر اسلامی قوانین کے خلاف ہوتے رہے ہیں۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہماری عدالتوں میں بیٹھنے والے معزز جج صاحبان کو شریعت مطہرہ کے تعلق سے علم نہیں ہوتا اور نہ ہی وہ شرعی قوانین کے ماہرین ہوتے ہیں،ایسے میںفیصلے وکلاءکی دلیلوںکی بنیاد پر دئےے جاتے ہیں۔کچھ مقامات پر کچھ مسلم وکلاءطلاق اور خلع جیسے مقدموںکی جہاں پیروی کرتے ہیںوہ شریعت کو جاننے کے باوجود اپنے مو¿کل کے حق میں لڑتے وقت یہ بات بھول جاتے ہیںکہ ان کی دلیلیں خلافِ شریعت بھی ہیں۔خلع کے معاملے میں اگر شرعی احکامات کاجائزہ لیا جائے تو خلع لینے والی عورت کو خلع لینے کے بعد مہر واپس کرنا پڑتا ہے،اگر مرد چاہے تو اس مہر کو وہ عورت کیلئے ہی چھوڑ سکتا ہے۔(صحیح بخاری5273کا حوالہ)۔لیکن ہمارے یہاں طلاق لینے پر بھی مرد کو معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے اورخلع لینے پر بھی عدالتوںمیں مرد کوکھینچ کراس قدر مجبور کردیا جاتا ہے کہ یہ عورت کو معاوضہ دے۔بہت سارے ایسے واقعات عام ہورہے ہیں جس کی وجہ سے شریعت اور شرعی قوانین کی دھجیاں اُڑرہی ہیں۔جب تک ان بنیادی مقامات پر اصلاح کا کام نہیں ہوتامفتیان،قاضی اور مسلم وکلاءمیں ان شرعی امور وباریکیوں کے تعلق سے بیداری لائی نہیں جاتی اُس وقت تک دارالقضاءکو عام کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ درست نہیں ہے۔مسلم پرسنل لاءبورڈ نہ صرف دارالقضاءقائم کرنے کے تعلق سے توجہ دینے کی ضرورت ہے بلکہ نکاح،ازدواجی زندگی اور طلاق و خلع کے معاملات کی باریکیوں کو لوگوں میں عام کرنے کیلئے باقاعدہ مسجدوںکے منبروں کا استعمال کرنا چاہےے۔آج مسجدوں کے بیشتر منبر ان بنیادی تعلیمات سے دور ہوگئے ہیںاور بعض تو آپسی رنجش و انانیت کے مرکز بنتے جارہے ہیں۔اہل علم حضرات اس سمت میں فوری طور پر توجہ دیں تو مستقبل میں شایدہی دارالقضاءکی ضرورت نہیں پڑسکتی اور طلاق و خلع کے معاملات عام ہونے کے بجائے محدود ہوجائینگے۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

کون ہے ساہوکار ۔۔ ؟

از قلم : مدثر احمد ، ایڈیٹر ۔ روزنامہ آج کا انقلاب ، شیموگہ ۔ ...