ریزرو بینک آف انڈیا میں آر ایس ایس کی انٹری

دہلی:۔مودی حکومت میں آر ایس ایس سے جڑے لوگوں کو ترجیح دیا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سے مرکز میں بی جے پی اتحاد برسراقتدار ہوئی ہے، سرکاری محکموں میں آر ایس ایس سے جڑے لوگوں کی تقرری میں تیزی بھی دیکھنے کو ملی ہے۔ کچھ دنوں پہلے کی ہی بات ہے جب آر ایس ایس پرچارک راکیش سنہا کو راجیہ سبھا کی رکنیت کے لیے نامزد کیا گیا۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ آر ایس ایس کی انٹری آر بی آئی میں بھی ہو گئی ہے۔ پیشہ سے چارٹیڈ اکاﺅنٹینٹ، سودیشی جاگرن منچ کے کو آرڈینیٹر اور طویل مدت تک آر ایس ایس سے جڑے رہنے والے سوامی ناتھن گرومورتی کو آر بی آئی کے ڈائریکٹر بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے ایس گرومورتی کو آر بی آئی بینک کے نان آفیشیل اور پارٹ ٹائم ڈائریکٹر کی شکل میں تقرری دی ہے۔ ان کی مدت کار تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کی تاریخ سے چار سال کیلئے ہوگا۔ یہ قدم آر بی آئی کے ایکٹ 1934 کے تحت کیا گیا ہے۔ آر بی آئی میں آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے صرف گرومورتی کی ہی تقرری نہیں ہوئی ہے بلکہ ان کے ساتھ ستیش کاشی ناتھ مراٹھے کی بھی آر بی آئی کے نان آفیشیل پارٹ ٹائم ڈائریکٹر کی شکل میں تقرری ہوئی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ آر بی آئی سنٹرل بورڈ دو حصوں مین منقسم ہے۔ آفیشیل اور نان آفیشیل۔ آفیشیل ڈائریکٹر میں گورنر ہوتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ چار ڈپٹی گورنر ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی آر بی آئی ایکٹ کے مطابق نان آفیشیل میں 10 ڈائریکٹر کو حکومت کے ذریعہ نامزد کیا جا سکتا ہے۔ اِدھر کچھ سالوں میں حکومت کے ذریعہ نامزد ڈائریکٹرس میں ویسے ماہر اقتصادیات اور صنعت کاروں کو شامل کیا جاتا ہے جو حکومت کے قریبی ہوتے ہیں۔سوامی ناتھن گرو مورتی اور ستیش کاشی ناتھ کی آر بی آئی میں انٹری کے بعد امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس ادارے پر بھی آر ایس ایس نظریہ کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔ ذرائع کے مطابق گرومورتی آر بی آئی بورڈ میں ڈائریکٹر اس لیے ہوئے کیونکہ ان کی سیاسی گرفت اور پہنچ بہت مضبوط ہے۔ وہ ایک چارٹیڈ اکاﺅنٹینٹ، ماہر معاشیات اور سیاسی و اقتصادی معاملوں کے مبصر ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ آر ایس ایس سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کی پہچان بی جے پی حکومت و پی ایم مودی کی زبردست حامی کی شکل میں ہے۔ انھوں نے ایک طرف تو نوٹ بندی جیسے بھیانک قدم کی حمایت کی اور دوسری طرف آر بی آئی سے متعلق پالیسیوں پر اکثر اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر لکھتے بھی رہے ہیں۔جہاں تک ستیش کاشی ناتھ مراٹھے کا تعلق ہے، انھیں بینکنگ سیکٹر میں ایک طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ ’سہکاری بھارتی‘ جو کہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہے اور کو آپریٹیو کی مدد کے لیے کام کرتی ہے، کے بانی ہیں۔ بینک آف انڈیا کے ساتھ کام شروع کرنے کے بعد وہ ’دی یونائٹیڈ ویسٹرن بینک لمیٹیڈ‘ کے سربراہ بنے۔ فی الحال وہ ٹھانے بھارت کو آپریٹو بینک لمیٹیڈ اور راجکوٹ شہری کو آپریٹیو بینک لمیٹڈ میں اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ جوانی کے دورے میں ستیش مراٹھے آر ایس ایس کی طلبا یونٹ اے بی وی پی سے منسلک تھے۔ انھوں نے چار سال تک خزانچی کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ جب ان سے ایک نیوز ویب سائٹ نے یہ پوچھا کہ وہ ریزرو بینک سنٹرل بورڈ میں کیا کرنا چاہیں گے، انھوں نے کہا کہ میرے پاس کوآپریٹیو سیکٹر کی مضبوط بنیاد ہے۔ میں نے40 سالوں سے زیادہ سے اس میں کام کیا ہے ۔ ہمیں دیہی اور زراعتی سیکٹر میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہندوستان میں میڈیا سنسرشپ۔۔۔آخر مسئلہ کیا ہے؟

دہلی:۔نیوز چینل اے بی پی سے وابستہ دو معروف صحافیوں نے حال ہی میں استعفے ...