سنگھ پریوارہی ہندو دھرم کا حقیقی دشمن ہے:دنیش امین مٹو

مسلمانوں اور دلتوں کا اتحاد ملک کی سالمیت کیلئے ضروری ہے:جگنیش میوانی

چکمگلور:۔ملک کے سیاسی حالات کی تبدیلی اور ملک کی سالمیت کیلئے دلتوں اور مسلمانوںکا اتحاد بے حد ضروری ہے۔اس بات کااظہار دلت لیڈر اور گجرات کے رکن اسمبلی جگنیش میوانی نے کیا ہے۔انہوںنے آج کومو سوہارداویدیکے کے15 ویں یوم تاسیس کے اختتامی تقریب کے موقع پر مہمان خصوصی کے طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپریل اور مئی کرناٹک میں انتخابات ہونے والے ہیں،اس دوران کرناٹککی عوام کو چاہئے کہ وہ یہاں 90 فیصد ووٹنگ میں حصّہ لیں ، گجرات میں بی جے پی کو کمزور کرنے کےلئے دلتوں و مسلمانوں نے متحد ہوکر 80 فی صد ووٹنگ ہوئی تھی۔ کرناٹک کے الیکشن کے دوران میں بھی کیمپین کے لئے آﺅنگا لیکن کسی خاص پارٹی کی تشہیر نہ کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف کیمپین کرونگا۔ موجودہ وقت میں پھانسی وادی پارٹی بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا ہے ، لوجہاد، گاﺅکشی اور کسانوں پر ظلم ہورہاہے اس کے لئے سنگھ پریوار کو ہرانا ضروری ہے ۔ اگر آنے والے انتخابات میں بی جے پی کو مزید کمزور کرنا ہے تو اسکے لئے سیکولرآئیڈیالوجی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو متحدہوکر الیکشن میں لڑناہی بی جے پی کے خلاف مضبوط ہونے کا واحد راستہ ہے۔ کرناٹک کے کانگریس کی بھی ذمہ داری ہے کہ ریاست میں عوامی مفاد کے لئے آواز اٹھانے والے لیڈروں کو ٹکٹ دی جائے تاکہ وہ دلتوں ، کسانوں اور اقلیتوں کے حق میں ایوانوں میں آواز اٹھاسکیں ۔ مزید انہوںنے کہا کہ میں کسی بھی پارٹی کو کھل کر تائید نہیں کرونگا بلکہ بی جے پی کی مخالفت کرونگا۔ گاﺅری لنکیش کے قاتلوں کا پتہ لگانے میں کانگریس حکومت کو مزید جلدی کرنی ہوگی تاکہ اور کوئی گاﺅری لنکیش نہ مرے ۔ اس سے قبل معروف صحافی و وزیر اعلیٰ کے میڈیا اڈوائزر دنیش امین مٹونے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے بٹوارے کے بعد دوبارہ ملک میں بٹوارے کی دیوار کھڑی کی جارہی ہے او ریہ دیوار ہندوﺅںاور مسلمانوںکے درمیان حائل ہورہی ہے۔مسلمانوںنے ہندوستان کی آزادی میں اہم کردار اداکیا ہے،جس وقت ملک پر انگریزوںنے قبضہ کیا تھا اُس موقع پر ملک کے بیشتر ریاستوںمیں مسلم راجاﺅںکی حکومت تھی اور ان راجاﺅںنے انگریزوں کاجم کر مقابلہ کیا تھا۔بی جے پی حکومت نے دو کروڑ روز گار مہیا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کم ازکم تیس چالیس لاکھ روزگار فراہم کرنے میں بی جے پی حکومت ناکام رہی ہے۔فرقہ پرستی صرف مذہب کی مخالفت نہیں کرتی بلکہ آئین اور ملک کی ترقی کیلئے دشمن ہے۔فرقہ پرستی کی تشہیر کیلئے صرف کیسری کپڑے،بدترین زبان کا ہونا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ا س کیلئے جوتیش،ٹی وی چینلوںمیں مذاہب کی تبلیغ بھی ضروری ہے،جو آج کل ہم دیکھ رہے ہیں۔سنگھ پریوار دراصل ہندو دھرم کا حقیقی دشمن ہے،جو لوگ ہندو دھرم کی بقاءکی بات کررہے ہیں وہ اپنے ہندو دھرم میں موجود برائیوں پر بات نہیں کررہے ہیں،فرقہ پرستی کو سیکولرزم سے ہی مات دی جاسکتی ہے۔دھرم اور فرقہ پرستی الگ الگ چیزیں ہیں،مذہبی شخص دھرم کے تعلق سے بات کرتا ہے جبکہ فرقہ پرست حقیقی دھرم کے تعلق سے بات نہیں کرتا۔جب تک ملک کا آئین مضبوط ہے اُس وقت تک فرقہ پرستی کے ایجنڈے کامیاب نہیں ہوسکتے۔انتخابات کے دوران مذہب ذات اور طبقوں کی بات کرنے والوں کی تائید کرنے کے بجائے ترقی کی بات کرنے والوںکا انتخاب کرنا چاہےے۔اگر مسلمان چاہتے تو اپنے سات سو سال کی حکومت کے دوران اس ملک کو مسلم راشٹر بنا سکتے تھے،لیکن انہوںنے ایسا نہیں کیا ،اب جبکہ اس ملک میں13 فیصد ہی مسلمان ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ یہ ملک مسلم راشٹر بن جائے ۔اس موقع پر معروف مفکر ایچ ایچ دیوراج،پروفیسر شیورامیا،شبھا رانی،کے پی شریپال،تیستاسلواڑ وغیرہ موجود تھے۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ریاستی حکومت کے سرکاری ملازمین کے اچھے دن

تنخواہوں میں ہوگا زبردست اضافہ؛ کم از کم تنخواہ 16,350 روپئے طئے بنگلور :۔ مرکزی ...