شکتی پردرشن

ازقلم : مدثر احمد شیموگہ9986437327
ملک میں پچھلے کچھ دنوں سے مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مسلکوں کے درمیان اپنے وجود کو ثابت کرنے کےلئے جلسوں اور پروگراموں کا بڑے پیمانے پر انعقاد کیا جارہاہے اور ہر جلسے کو بہتر سے بہتر اور کامیاب بنانے کےلئے لاکھوں روپئے پانی کی طرح بہائے جارہے ہیں ۔ امت مسلمہ میں اصلاح معاشرہ ، بیداری ، اتحاد اور تبلیغ کے نام پر ہر مہینے کہیں نہ کہیں جلسوں کو منعقد کیاجارہاہے لیکن ان تمام جلسوں اور پروگراموں کا نتیجہ ہم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ نہ امت میں اصلاح ہورہی ہے ، نہ اتحاد پیدا ہورہاہے ۔ نہ بیداری آرہی ہے بجائے اسکے مزید اختلافات اور جلسوں کو منعقد کرنے کا مقابلہ چل رہاہے ۔ کہیں دیوبندیوںکے جلسے کے مقابلے میں بریلویوں کا جلسہ تو کہیں سلفیوں کے جلسے کے مقابلے میں تبلیغیوں کا جلسہ منعقد ہورہاہے ۔ ہر ایک چاہ رہاہے کہ انکے جلسے میں ہزاروں کے لوگ جمع ہوں اور ہر جلسے کے لئے لاکھوں روپئے خرچ ہوں تاکہ ہماری طاقت دوسرے مسلکوں کے سامنے مضبوط دکھائی دے ۔ مسلمانوں کے درمیان سال میں کم از کم سو سے دو سو جلسے اصلاح معاشرہ کے پروگرام منعقدہوتے ہیں ، ہر جلسے میں ہزاروں لوگ شامل ہوتے ہیں لیکن اس کا حاصل کیا ہے یہ سب سے بڑا سوال ہے ۔ نوجوانوں میں بدکاری ، بے راہ روی ، مغربیت شناسی ، عیاشی ، نشہ خوری ، حرام خوری جیسی عادتیں تو جوں کی توں ہیں ۔ حالانکہ ان جلسوں کے انعقاد کے لئے جو چند ہ جمع کیا جاتاہے اس چند ے میں بھی کئی ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنکی آمدنی ہی حرام ہوتی ہے ، جو غریبوں کا مال کھا کر ، جو جوے کے اڈے چلا کر یا سودی کاروبار کرتے ہوئے کروڑ پتی بنے ہوتے ہیں انکے ہزاروں روپﺅں کے چندوں سے یہ لوگ ان جلسوں کے مہمان خصوصی بن جاتے ہیں اور انہیں اسٹیج پر نمایاں مقام ادا کیا جاتاہے ۔ جن جلسوں کی تیاریاں ہی معاشرے میں بگاڑ لانے والوں کی رقومات سے انجام دی جائیں اس جلسے سے خیر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔ اب تو کچھ لوگوں نے جلسوں کو کانفرنس کا نام دےنا شروع کردیا ہے اور ان کانفرنسوں میں ایک مسلک دوسرے مسلک پر کیچڑ اچھال رہاہے ، تو دوسرا مسلک پہلے مسلک کو مرتدد ، کافر، مشرک اور صلاح کلی کا نام دے رہاہے ۔ بتائے کہ کیا آج ہماری قوم کو ایسے جلسوں و کانفرنسوں کی ضرورت ہے ۔ پہلے مسلمانوں میں تقریبات کا انعقاد کیا جاتاتھا۔ سال میں ایک دو جلسے منعقد ہوا کرتے تھے لیکن اب تک ہر مہینے اور ہر ہفتے جلسوں و پروگراموں کا سلسلہ چلتا ہے ۔ بعض لوگوں کے لئے تو جلسوں و پروگراموں کا انعقاد کرنا اپنی روزی روٹی کا سوال ہوچکاہے ۔ جلسوں کے لئے جتنا خرچ آتا ہے اس سے کہیں زیادہ چندہ وصول کیا جاتا ہے ۔ کیا آپ نے کسی ایسے ادارے کو دیکھا جس نے جلسے کاانعقاد کیاہو اور جلسہ مکمل ہونے کے بعد جلسے کے لئے جمع کئے جانے والے چندے کی آمدنی اور خرچ کو عوام کے درمیان پیش کیا ہو۔ جب چندے کی ضرورت پڑتی ہے تو گھوم گھوم کر ، چلّا چلّا کر چندہ کیاجاتاہے اور جب جلسہ ختم ہوجاتا ہے تو منتظمین ہفتوں تک عوام کے درمیان دکھائی نہیں دیتے ۔ آج امت مسلمہ کس حال پر یہ ذرا دیکھیں ، غریب بھوک سے مررہاہے ۔ طلباءتعلیمی وسائل نہ ہونے کے سبب تعلیم سے دور ہورہے ہیں ۔ بیٹیاں گھروں میں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہے ۔ علاج کے لئے اسپتالوں میں داخل مریض دوائی کے لئے پیسے نہ ہونے کے سبب بے موت مارے جارہے ہیں ۔ حادثوں کا شکار ہونے والے افراد علاج کے لئے معقول رقم نہ ہونے کی وجہ سے اپاہج ، لاچار و مجبور ہوکر گھوم رہے ہیں کیا ان بات پر ہماری اصلاح کی ضرورت نہیں ہے ؟۔ قوم کے وہ لوگ جو حلال کما رہے ہیں اور اپنی حلال کمائی کو راہ الٰہی میں خرچ کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ان جلسوں کے لئے موٹے موٹے چندے دے کر کچھ لوگوں کا پیٹ ضرور بھر رہے ہیں ۔ کچھ تنظیموں کو شہر ت ضرور دلوارہے ہیں لیکن زمینی سطح پر جو کام کرنا ہے اس پر خر چ نہیں کررہے ہیں ۔ افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ کئی جلسوں کے مقررین اپنی تقریروں کے عوض جو ہدیہ لے رہے ہیں وہ بھی ہزاروں لاکھوں میں ہوتی ہے اور جتنی بڑی رقم مقرر کی ہوتی ہے جلسہ اتنا ہی بڑا کہلا یا جاتاہے ۔ کیا ہماری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علی وسلم نے اپنی حیات میں کسی عوامی جلسے کاانعقاد کیا تھا ۔ کیا ہمارے صحابہ نے دین کی اشاعت کے لئے جلسے و پروگراموں کو ترجیح دی تھی ۔ ہماری اصلاح جلسوں و پروگراموں سے نہیں بلکہ اوصاف سے ممکن ہے ۔ غیر مسلموں کو دیکھیں ، عیسائیوں کو دیکھیں کہ وہ کتنے جلسے اور پروگرام منعقد کرتے ہیں ؟۔ ہم نے تو شاید ہی عیسائیوں کا جلسہ دیکھا ہوگا ۔ انکے یہاں انکی قوم اپنی محنت کی کمائی تعلیم پر خرچ کررہی ہے ۔ تعلیمی اداروں کو قائم کررہی ہے اور ہندومذہب کی بات کی جائے تو انکے یہاں ایسا کوئی اصول ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی قوم کی اصلاح کے لئے جلسوں کو منعقد کئے جائیں ۔ مگر ہم نے یہ کونسا طریقہ اپنا رکھا ہے ۔ ہماری تو زندگیاں ہی دین پر عمل کرنے والی ہیں ، ہماری مسجدوں میں ہر جمعہ کو مسلمانوں کا اجتماع ہوتاہے ۔ اگر ان مساجد کا ہی صحیح استعمال کیا جائے تو اس کا بڑا اثر ہوسکتاہے۔ آج مسلمانوں کو شکتی پردرشن کے بجائے بدّھی پردرشن کرنے کی ضرورت ہے اور یہی اصل کام ہے ۔ ہمارے مسائل زمینی سطح سے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اسٹیج کی سطح پر ۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہمارے ادارے

از:۔مدثراحمد۔9986437327 ایک دورے میں سرکاری اسکول ہی تعلیم کا واحد ذریعہ تھے اور انہیں اسکولوں ...