NAYPYITAW, SEP 19:- Myanmar State Counselor Aung San Suu Kyi arrives to deliver a speech to the nation over Rakhine and Rohingya situation, in Naypyitaw, Myanmar September 19, 2017. REUTERS-2R

عالمی اداروںکوسوچی نے پھر دکھایاٹھینگا، انکوائری کا مجھے کوئی خوف نہیں

ینگون:۔میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی نے کہا ہے کہ اپنی حکومت کے روہنگیا بحران سے نمٹنے پر بین الاقوامی جانچ پڑتال کا انھیں کوئی ڈر نہیں ہے، زیادہ تر مسلمانوں نے صوبے سے نقل مکانی نہیں کی ہے اور یہ کہ تشدد رک گیا ہے۔ملک کے شمالی رخائن صوبے میں جاری بحران پر اپنے پہلے قومی خطاب میں انھوں نے کہا کہ زیادہ تر مسلمانوں نے صوبے سے نقل مکانی نہیں کی ہے اور یہ کہ تشدد رک گیا ہے۔انہوں نے کہا کہا کہ وہ یہ خطاب اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ وہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک نہیں ہو رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بین الاقوامی برادری یہ جان لے کہ ان کی حکومت حالات سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔انھوں نے انسانی حقوق کی تمام پامالیوں کی مذمت کی اور کہا کہ جو کوئی بھی اس کا مرتکب ہے اس کو سزا دی جائے گی۔نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو ملک میں جاری بحران پر ان کے رد عمل پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔رخائن صوبے سے روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش کے لیے بڑے پیمانے پر نقل مکانی اگست کے مہینے میں مبینہ طور پر پولیس چوکیوں پر مسلح حملے کے بعد شروع ہوئی۔ حکومت ان حملوں کا الزام روہنگیا عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے۔ اس کے بعد حکومت کے جانب سے بڑے پیمانے پر فوجی کریک ڈاون شروع ہوا جسے اقوام متحدہ نے نسل کشی سے تعبیر کیا۔آنگ سان سوچی نے کہا کہ وہ یہ خطاب اس لیے کر رہی ہیں کیونکہ وہ رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شریک نہیں ہو رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بین الاقوامی برادری یہ جان لے کہ ان کی حکومت حالات سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔انھوں نے انسانی حقوق کی تمام پامالیوں کی مذمت کی اور کہا کہ جو کوئی بھی اس کا مرتکب ہے اس کو سزا دی جائےگی۔

 

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

امریکا میں پبلک پارک سے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا مگرمچھ برآمد

واشنگٹن:۔امریکی وائلڈ لائف ادارے نے فلوریڈا میں ایک عوامی پارک سے 13 فٹ طویل مگرمچھ ...