فکر وعمل

از:۔مدثراحمد:9986437327
کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کا اعلان کبھی بھی ہوسکتاہے اور ان انتخابات کیلئے جہاں تمام سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارنے کی تیاریاں کررہے ہیں وہیں کچھ ایسی سیاسی جماعتیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں بخوبی یہ بات معلوم ہے کہ وہ انتخابات میں برائے نام ہی شرکت کرینگے اور وہ کامیاب نہیں ہونگے باوجود اسکے وہ اپنے آپ کو امیدوار بناکر انتخابی میدان میں اتر جاتے ہیں اور اسکے نتیجے میں ان سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچتاہے جنہیں عام طورپر لوگ اقتدار سے دور رکھنا چاہتے ہیں ۔ اتر پردیش میں پچھلے دنوں ہونے والے انتخابات ہندوستانی جمہوری نظام کیلئے تاریخی مثال ہے جہاں پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے پوری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنائی اور اس پارٹی نے حکومت بناتے ہی اتر پردیش میں جو من مانیاں شروع کی ہیں وہ پورے ہندوستان کے سامنے ہے ۔اترپردیش، راجستھان ، ہریانہ اور تریپورہ میں بی جے پی اقتدار پر آنے کے بعد وہاں کے اقلیتوں کا جینا محال ہواہے ، خصوصََا مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑ رہاہے اور انکا ہر دن اور ہر لمحہ خوف کے سائے میں گزر رہاہے ۔ اس صورت میں کرناٹک کے مسلمانوں و سیکولر فکر رکھنے والوں کو کرناٹک میں بی جے پی سے دور رکھنے کے لئے اقدامات اٹھانے کی بے حد ضرورت ہے ۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان سیاسی جوش و جذبہ اسی وقت پیدا ہوتاہے جب انتخابات قریب آتے ہیں ورنہ وہ پورے پانچ سالوں تک سیاست کے قریب بھی نہیں بھٹکتے اور اچانک اس بات کااعلان کردیتے ہیں کہ ہم بھی آنے والے اسمبلی انتخابات میں امیدوار بنیں گے ۔ یہ ویسی ہی بات ہے جو اسکول میں داخلہ لئے بغیر سیدھے دسویں کا بورڈ امتحان پاس کرنے کی بات کی جاتی ہے ۔ سچ پوچھیں تو ایسے امیدوار اپنے دل سے انتخابات میں حصہ نہیں لیتے بلکہ انہیں اکسایا جاتا ہے یا پھر دولت ، شہر ت اور مفادات کی لالچ دے کر میدان میں اتار ا جاتاہے ۔ پچھلے کئی انتخابات میں بی جے پی نے ملک میں اپنی حکومتوں کو قائم کرنے کے لئے یہی حربہ استعمال کیاہے اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب ہوئے ہیں ۔ اکثر سیکولر جماعتوں کو شکست دینے کے لئے کچھ ایسے لوگوں کو سپاری دے دی جاتی ہے کہ وہ ووٹوں کا بٹوارہ کریں ، جب ووٹوں کا بٹوارہ ہوتاہے تو آسانی کے ساتھ فرقہ پرست جماعتیں بازی مار لیتے ہیں ۔ بھاجپا جان چکی ہے کہ مسلمانوں کے ووٹوں کو خریدنا مشکل ہے اس لئے وہ مسلمانوں کے ووٹوں کے بٹوارے کے فارمولے پر عمل پیرا ہوئی اور اسمیں اسے صد فیصد کامیابی ملی ہے اور آسانی کے ساتھ سیکولر یا مسلم امیدواروں کو ہرا کر اپنی پارٹی کا جھنڈا لہرانے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ یوپی میں کئی ایسے اسمبلی حلقوں میں بی جے پی نے محض چند سو ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ان مقامات پر سیکولر یا مسلم امیدوار کا جیتنا یقینی تھا ۔ مثال کے طور پر اگر ایک مسلم اکثریتی والا اسمبلی حلقہ ہو تو وہاں پر کانگریس سے مسلم امیدوار، بی یس پی سے مسلم امیدوار، سماج وادی سے مسلم امیدوار ، پیس پارٹی سے مسلم امیدوار ، یم آئی یم سے مسلم امیدوار اور مسلم لیگ سے ایک مسلم امیدوار میدان میں اترا تھا اور اس اسمبلی حلقے میں 1 لاکھ مسلم ووٹران ہیں اور 30 ہزار ہندو ووٹرس ہیں تو 1 لاکھ مسلم ووٹوں کو 6مسلم ووٹر 15 ہزار کے تناسب سے بھی بانٹ لینگے اور بی جے پی کا امیدوار 20 ہزار ووٹ لے لے تو وہ کامیاب ہوگیا ۔ اس طرح سے وہ مسلم حلقہ سنگھ پریوار کی جھولی میں جاگرا ۔ اب کرناٹک میں بھی یہی سوشہ استعمال کیا جارہاہے ۔ ہر حلقے میں بی جے پی تو اپنے امیدوار کو ٹکٹ دے ہی رہی ہے ساتھ ہی ساتھ اس علاقے کی سیکولر سیاسی جماعت کو ہرانے کے لئے کچھ نئی پارٹیوں کو مالا مال کرتے ہوئے انتخابات میں اترنے کی سہولت دے رہی ہے ۔ ایسے میں مسلمانوں کو سوچ سمجھ کر ووٹنگ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ نقصان سب کو اٹھانا پڑیگا ۔ اسی طرح سے میڈیا اور اخبارات میں بھی ہر سیاسی جماعت یا آزاد امیدوار اپنی تشہیر کے لئے اشتہارات دیتے ہیں اور اخبارات میڈیا ان اشتہارات کو جاری کرتے ہیں اسکا مطلب یہ نہیں کہ اخبارات اشتہار دینے والوں کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ انتخابات میں اخبارات میں اشتہار یعنی اڈورٹائز آنا ظاہر سی بات ہے اور اخبارات و میڈیا کے لئے یہ کمائی کا موسم ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اشتہارات کی بنیاد پر ووٹر اپنے ووٹوں کا فیصلہ نہ کریں ۔ جس طرح سے سگریٹ کے پیک پر لکھا جاتاہے کہ سگریٹ پینا صحت کے لئے مضر ہے باوجود اسکے سگریٹ بیچا اور خریدا جاتاہے اسی طرح سے اشتہارات میں جو کہا جاتاہے اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے ۔ عوام اپنے دماغ کا سہارا لیں ورنہ اخبارات ، سوشیل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں آنے والے اشتہارات کو بنیاد بنا کر خسارہ اٹھاناپڑیگا ۔ اخبارات میں اشتہارات اور اخبار کی پالیسی کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ لیکن اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین ، اداریہ اور تجزیوں سے آپ اس بات کااندازہ لگاسکتے ہیں کہ کیا غلط ہے کیا صحیح ہے ۔ اس وجہ سے یہ گذارش ہے کہ اشتہارات پر توجہ نہ دیں اور اخبار کے مضامین و اداریہ کو ہی ترجیح دیں ۔ یہی اخبار کی پالیسی ہوتی ہے ۔ بس اس دفعہ اگر بی جے پی کو کرناٹک میں قدم رکھنے کا موقع دے دیا جاتاہے تو یقین مانیں کہ حالات بد سے بدتر ہوسکتے ہیں اور اسکے قصوروار ہم اور آپ ہی ہونگے ۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہمارے ادارے

از:۔مدثراحمد۔9986437327 ایک دورے میں سرکاری اسکول ہی تعلیم کا واحد ذریعہ تھے اور انہیں اسکولوں ...