مسلم دنیا میں شطرنج کے کھیل کی تابندہ روایت

ریاض:۔سعودی عرب میں شطرنج کا بین الاقوامی ٹورنا منٹ دسمبر کے آخری ایام میں منعقد ہونے جارہا ہے۔مسلم دنیا کی سیاست واقتدار کی تاریخ میں شطرنج کا کھیل نمایاں اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ تاریخ اور ادب کی کتابوں کے مطابق شطرنج عرب اور مسلم معاشروں میں شرفاءکا بہت مقبول کھیل رہا ہے۔ شہزادے ، خلفاء، مصنفین ، ماہرینِ لسانیات ، شاعر اور طبیب حضرات شطرنج کا کھیل کھیلتے تھے اور اپنے حریفوں کو شہ مات دینے کے ماہر ہوتے تھے ۔ جو خلفاء، سلاطین اور حکام شطرنج کے کھیل کے دل دادہ اور ماہر تھے، ان میں عباسی خلفاءہارون الرشید ، معتضد باللہ ، معتز ، سلطان صلاح الدین الایوبی اور شاعر مطیع ابن ایاس نمایاں ہیں۔ان کے علاوہ ایک حسین وجمیل عورت عریب المامومنیہ شطرنج کے کھیل میں بہت مہارت رکھتی تھی۔بعض مورخین کہتے ہیں کہ وہ جعفر البرمکی کی بیٹی تھی۔اس کو کم سنی میں اغوا کر لیا گیا تھا اور اس کو خلیفہ المامون نے خرید کر لیا تھا۔مو¿رخ یاقوت الحموی کے مطابق عباسی خلفاءکے دور میں ابو بکر بن یحییٰ السولی بھی اپنے وقت میں اس کھیل میں ماہر تھا ۔ مورخ مسعودی اپنی کتاب مروج الذہب کی جلد اول میں لکھتے ہیں :” عباسیوں کے دور اول میں لوگ گھروں کے اندر شطرنج کھیلتے تھے اور اس کو خلیفہ ہارون الرشید نے رواج دیا تھا۔پھر عالم عرب میں اس کا عام رواج ہوگیا تھا۔شطرنج چمڑے کے ایک مربع ٹکڑے (بساط) پر کھیلی جاتی تھی۔ تیسری صدی ہجری کے اواخر میں خلیفہ معتضد نے اپنے قصر میں ایک نئی قسم کی شطرنج کو رواج دیا تھا جسے ” جوارحیہ“ کا نام دیا جاتا تھا۔اس میں تمام حواس انسانی سے کام لیا جاتا تھا اور دونوں فریق اپنے مخالف کو مات دینے کے لیے چالیں چلتے وقت حواس کا پورا زور لگاتے تھے“۔”خراسان سے بغداد آنے کے بعد خلیفہ المامون کو شطرنج کھیلنے کا شوق پیدا ہوا اور اس نے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو کھیلنے کے لیے اپنے ہاں بلایا تھا لیکن کھیل کے وقت یہ کھلاڑی خلیفہ کے رعب و دبدبہ کا خیال رکھتے تھے ، مامون ان کے اس رویے سے تنگ آگیا اور کہنے لگا کہ شطرنج کھیلنے میں ہیبت ودبدبہ کا کوئی لحاظ نہیں کیا جاتا۔آزادی سے بولو ،جس طرح تم گھروں میں آزادی سے بولتے ہو“۔شطرنج کے کھیل سے اہل مغرب کیسے متعارف ہوئے ،اس حوالے سے مختلف تاریخی حقائق بیان کیے جاتے ہیں۔ان میں ایک یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اندلس ( اسپین ) میں مقیم عربوں نے اہلِ مغرب کو شطرنج کے کھیل کے اسرار ورموز سکھائے تھے۔اس کے علاوہ انھوں نے صلیبی جنگوں کے زمانے میں مسلم علاقوں پر چڑھائی کرنے والے مغربی عیسائیوں کو شطرنج کے کھیل سے روشناس کرایا تھا۔تاہم ابھی تک یہ بات سربستہ راز ہے کہ اس کھیل کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی؟ بہت سے مورخین کا خیال ہے کہ اس کا آغاز ہندوستان سے ہوا تھا اور بعض اس کی ابتدا کا منبع چین میں بتاتے ہیں۔شطرنج دراصل ذہن کا کھیل ہے،اس کی ہر چال کے ساتھ کئی امکانات ہوسکتے ہیں۔ روس سمیت بہت سے ممالک میں اسکولوں میں بچوں کو شطرنج کا کھیل ایک مضمون کے طور پر پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے کیونکہ اس سے انھیں منطق اور مارنے کے اصول سیکھنے میں مدد ملتی ہے۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

کلبھوشن جادھو سے ملنے کیلئے ویزا دےگا پاکستان پچیس(25) دسمبر کو ہوگی ماں اور بیوی کی ملاقات

اسلام آباد: پاکستان کی جیل میں بند کلبھوشن جادھو سے ملاقات کی اس کی والدہ ...