مہر کی تعیین عاقدین کا حق ہے اور مطلقہ عورت کا سابق شوہر کی املاک میں کوئی حصہ نہیں

حیدرآباد::۔ممبئی ہائی کورٹ نے ایک مسلم مطلقہ خاتون کے سلسلہ میں جو فیصلہ کیا ہے، اس کے بارے میں متضاد اطلاعات آرہی ہیں، اخبارات میں جو بات شائع ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ نچلی عدالت مطلقہ عورت کا مہر مقرر کر سکتی ہے، اور اس کی جائیداد میں سے بیوی کو حق دلا سکتی ہے، اگر یہ خبر درست ہے تو یقیناََ یہ قانون شریعت کے خلاف ہے، مہر شوہر وبیوی کی رضامندی سے طے ہوتا ہے، اور اگر نکاح کے وقت مہر طے نہیں ہوا تو پھر عورت کے دادیہالی خاندان کی خواتین کے مہر کو معیار مان کر مہر واجب ہوتا ہے، جس کو مہر مثل کہتے ہیں، اسی طرح شوہر کی ذاتی املاک میں مطلقہ کا کوئی حق نہیں ہوتا؛ بلکہ نکاح میں رہتے ہوئے بھی عورت اس میں سے کسی حصہ کا مطالبہ نہیں کر سکتی، اسی طرح شوہر کو بھی اپنی بیوی کی املاک میں تصرف کا حق نہیں ہے؛ البتہ دونوں ایک دوسرے کو اپنی مرضی سے پوری جائیداد یا اس کا کچھ حصہ ہبہ کر سکتے ہیں، اور اگر شوہر وبیوی ایک دوسرے کو کچھ ہبہ کریں تو یہ ناقابل واپسی ہوتا ہے؛ لیکن بعض قانون دانوں نے وضاحت کی ہے کہ اس مقدمہ میں میڈیا کو غلط فہمی ہوئی ہے، کورٹ نے اس کی بیوی کو مہر ادا کرنے کا حکم دیا ہے، اور کہا ہے کہ مہر کی مقدار طئے کرنا عدالت کا کام نہیں ہے، نیز جو جائیداد شوہر و بیوی دونوں نے مل کر خرید کی تھی، اس میں سے بیوی کا حق دینے کا حکم دیا ہے، اگر یہ بات درست ہو تو یہ شریعت کے مطابق ہے، ہائی کورٹ نے اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہدایت دی ہے کہ جہاں فیملی کورٹ نہیں ہے، وہاں سول کورٹ بھی شوہر و بیوی کے تنازع کو حل کر سکتی ہے، ہائی کورٹ کے اس حکم میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ کیوں کہ اس سے متاثرہ خواتین کو انصاف حاصل کرنے میں سہولت ہوگی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورد کی لیگل کمیٹی اس فیصلہ کا جائزہ لے رہی ہے، بورڈ ایسے مسائل میں مناسب تحقیق کے بغیر عجلت کے ساتھ کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتی۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

ہندوستان میں میڈیا سنسرشپ۔۔۔آخر مسئلہ کیا ہے؟

دہلی:۔نیوز چینل اے بی پی سے وابستہ دو معروف صحافیوں نے حال ہی میں استعفے ...