نومبر میں جی ایس ٹی کی وصولیابی میں کمی، حکومت پر یشان

گذشتہ ماہ80 ہزار808 کروڑ روپے جی ایس ٹی وصول کیا گیا۔ اکتوبر کے مقابلے میں2ہزار538 کروڑ روپے کم وصو ل ہوئے،18جنوری کو کاﺅنسل کی میٹنگ

نئی دہلی: مرکز اورریاستی حکومتوں کی تمام کوششوں کے باوجود ٹیکس کی وصولی میں کوئی اضافہ نہیں ہواہے۔ مسلسل دوسرے مہینے(نومبر) میں بھی جی ایس ٹی کے تحت حکومت نے صرف 80 ہزار808 کروڑ روپے ہی ٹیکس وصول کیا ہے۔ 5 مہینے قبل جی ایس ٹی نافذ کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ گذشتہ تمام وصولیابی کے مقابلے میں نومبر میں سب سے کم ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جی ایس ٹی کاﺅنسل آنے والے دنوں میں جی ایس ٹی کی شرحوں کو جوں کاتوں رکھے گی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اس سے قبل اکتوبر میں83 ہزار 346 کروڑ روپے جی ایس ٹی وصول کیا گیا تھا۔ٹیکس کی وصولیابی میں کمی کے بارے میں وزارت مالیات نے کچھ نہیں کیا ہے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ گجرات اسمبلی انتخابات سے پہلے جس طرح200 سے زائد اشیاءوخدمات پر جی ایس ٹی کی شرح کم کی گئی تھی یہ اسی کا نتیجہ ہے ۔ جس وقت کاﺅنسل نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ اسی وقت اندازہ لگایا تھا کہ اس کے سبب حکومت کو تقریباً20 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ تاہم آخری تاریخ تک جی ایس ٹی آر تھری بی فائل کرنے والوں کی تعداد میں بہتری آئی ہے۔ 20دسمبر تک49.50لاکھ کاروباری افراد نے نومبر کاجی ایس ٹی آرتھری بی فائل کیا تھا جبکہ اکتوبر میں صرف 34لاکھ افراد ہی نے جی ایس ٹی آر تھری بی فائل کیا تھا۔ اسی طرح جی اےس ٹی ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ بڑھانے کے باوجود جمع ہونے والے ٹیکس میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ علاوہ ازیں ، ملک میں معاشی سرگرمیاں بھی سست روی کا شکار ہیں ۔ ان وجوہات کی بناءپر اکتوبر اورنومبر کی ٹیکس کی وصولیابی میں کمی آئی ہے۔ جی ایس ٹی کاﺅنسل نے جی ایس ٹی کے نظام کا جائزہ لینا کیلئے 18 جنوری 2018 کو میٹنگ طلب کی ہے۔ نئی دہلی میں منعقدہونے والی اس میٹنگ میں ’ای اے ‘ بل کے نفاذ کی تیاریوں کے ساتھ جی ایس ٹی سے مرکز اور ریاستوں کی ٹیکس کی وصولیابی پر بھی بحث کی جائےگی۔ جی ایس ٹی کاﺅنسل کی یہ25ویں میٹنگ ہوگی۔ ذرائع نے کہا کہ اس اجلاس کے بعد مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی ریاستوں کے وزراءخزانہ کے ساتھ 2018-19 کے عام بجٹ پر بھی بات چیت کریں گے۔ وزرات مالیات کے مطابق25 دسمبر تک 53.06 لاکھکاروباری افراد نے نومبر کیلئے جی ایس ٹی آرتھری بی فائل کیا ہے۔ 15 دسمبر تک99.01لاکھ کاروباری افراد نے اپنا کاروباری جی ایس ٹی میں رجسٹرکرایا ہے۔ ان میں سے 16 لاکھ کاروباری کمپوزیشن اسکیم کے زمرے میں آتے ہیں ۔ اس طرح، تقریباً83 لاکھ کاروباری افراد کو نومبر کیلئے جی ایس ٹی ریٹرن فائل کرنا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب بھی کئی کاروباری افراد نے جی ایس ٹی، ریٹرن فائل نہیں کیا ہے۔ اب تک وصول کیا جانا والا جی ایس ٹی : مرکزی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں92ہزار 283 کروڑ، اگست میں90 ہزار229 کروڑ، ستمبر میں92ہزار150کروڑ، اکتوبر میں 83 ہزار342 کروڑ اورنومبر میں80ہزار 808 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ ٹیکس کی وصولیابی میں مسلسل کمی آتی جارہی ہے۔ جس کے سبب حکومت تشویش میں مبتلاءہے۔ حکومت کا گورنمنٹ سیکوریٹیز جاری کرنے کا منصوبہ: جی ایس ٹی کی وصولیابی میں کمی کے سبب حکومت نے گلٹ یا گورنمنٹ سیکور ٹیز(اس عمل میں حکومت بازار میں بانڈز جاری کرتی ہے جس میں عوام سرمایہ کاری کرتے ہیں ) کے ذریعہ اضافی50 ہزار کروڑ اٹھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جنوری سے مارچ کے درمیان حکومت گلٹ کے ذریعہ سرمایہ اٹھائے گی۔ اس سے قبل حکومت نے گلٹ کے ذریعہ مارکیٹ سے25ہزار کروڑ اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔ رواں مالی سال کے پہلے نصف میں6.08 لاکھ کروڑ روپے مارکیٹ سے اٹھائے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں اسے ٹیکس کے ذریعہ55 ہزار کروڑ کی کم آمدنی ہوئی ہے۔ جس کے سبب مالیاتی خسارے میں20پوائنٹس کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ براہ راست ٹیکس کی وصولیابی میں20ہزار کروڑ اور بالواسطہ ٹیکس کی وصولیابی میں35ہزار کروڑ کی کمی آئی ہے۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنی آمرانہ روش ترک کی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے : پروفیسر سیف الدین سوز

سری نگر: ۔سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے بہ ...