نوہیرا شیخ ۔ شریعت سے تجارت ، تجارت سے سیاست تک

نوہیرا شیخ ۔ شریعت سے تجارت ، تجارت سے سیاست تک
مودی کی گودی میں پہنچ کر مسلم ووٹوں کا کررہی ہے بٹوارہ ؛ ہیرا گولڈ کے نام پر جلد ہوسکتاہے ملک کا ایک اور بڑا گھوٹالہ
خصوصی رپورٹ : پچھلے دنوں حید ر آباد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتو ن نے ملک بھر میں اپنی ایک سیاسی پارٹی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے میڈیا کی سرخیوں میں جگہ پائی اور اس خاتو ن کو ہندوستان سمیت گلف کے بیشتر لوگ ہیرا گولڈ کی باجی کے نام سے جانتے ہیں لیکن اس باجی نے اپنی تجارت و سیاست سے جو گیم کھیلنا شروع کیا ہے اس سے ملک کے مسلمانوں کا سیاسی مستقبل تبا ہ تو ہوگا ہی ساتھ ہی ساتھ وہ مسلمانوں کا اربوں روپیہ بھی لے ڈوبے گی ۔ ہیرا گولڈ کی سی ای او عالمہ فاضلہ نوہیرا شیخ کا تعلق حید رآباد سے ہے اور وہ پچھلے ایک عشرے سے ہیرا گولڈ کمپنی چلا رہی ہیں اور اس کمپنی کو مکمل شرعیہ تجارت کا نام دیتے ہوئے مسلمانوں سے اربوں روپیوں کا سرمایہ وصول کیا ہے اور اسکے عوض و ہ لاکھوں روپیوں کےلئے کچھ ہزار روپیوں کا فائدہ دیتے ہوئے لوگوں کا اپنی جانب مائل کررکھا ہے مگر حال ہی میں تجارت سے سیاست میں قدم رکھنے والی عالمہ فاضلہ نوہیرا کی سرگرمیاں مشکوک ہوچکی ہیں اور قوی امکانات ہیں کہ جس طرح سے وجئے ملیا ، للت مودی ، نیرو مودی ہزاروں کروڑ روپیوں کا گھپلہ کرتے ہوئے اس ملک سے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی ہے اسی طرز پر عالمہ فاضلہ نوہیرا بھی اپنے سرمایہ کاروں کو ٹھینگا دکھا سکتی ہیں ۔ اس سلسلے میں روزنامہ آج کاانقلاب نے مختلف ذرائعوں سے ہیرا گولڈ اور اسکی مالکن نوہیرا کے تعلق سے تفتیش کی ہے جس کی تفصیلی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کی جارہی ہے تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوں اور مستقبل میں خسارہ نہ اٹھاسکیں ۔

کون ہے عالمہ فاضلہ نوہیرا ؟:
اطلاعات کے مطابق نوہیرا شیخ ایک متوسط گھرانے کی لڑکی تھیں اور انہوںنے دینی مدرسے سے فراغت حاصل کرنے کے بعد عالمہ و فاضلہ کہلانے لگیں ، مزید یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ انہوںنے متعدد شادیاں کی ہیں اور شوہروں سے انہوںنے خلع لیا ہے ۔
ہیرا گولڈ کیا ہے ؟
ہیرا گولڈ ابتداءمیں سونے کے کاروبار کے لئے عام لوگوں سے سرمایہ لےکر انکے سونے کی خریدو فروخت کرنے کا دعویٰ کرتی رہی ہے اور اسکی بانی و سرپرست نوہیرا شیخ ہی ہے، چونکہ نوہیرا شیخ کی تعلیم مدرسے سے رہی ہے اور انہیں دینداری کے اصول اچھی طرح سے معلوم ہیں اس لئے انہوںنے اس کاروبار کو شرعی کاروبار کا نام دیا اور کچھ ہی سالوں میں لاکھوں کروڑوں روپیوں کا سرمایہ عام لوگوں سے وصول کرنا شروع کیا ۔ اس کے عوض سرمایہ کاروں کو منافع بھی دیا ہے ۔لیکن اس منافع کے پیچھے ایک گہرا راز ہے۔ہیرا گولڈ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لوگوں کو پرافٹ مل رہا ہے تو یہ غلط کیسے ہوسکتا ہے۔ پرافٹ تو ضرور مل رہا ہے لیکن کہاں سے مل رہا ہے یہ جاننا ضروری ہے۔ماضی کے تمام چین لنک سسٹم،بائینری سسٹم اور انویسٹ اینڈ گروہ کے کانسپٹ میں بنائی جانے والی تمام کمپنیاں اپنے گاہکوں کو منافع دیتی رہی ہیں۔جن میں اسپیک ایشاءآن لائن ،سٹی بینک سوینڈلر، اسٹاک گرو انڈیا،سوسیمو فرمس،ہوم ٹریڈجیسی کمپنیوںنے لاکھوں انویسٹرس سے کروڑوں روپئے اٹھائے تھے اور تمام انویسٹرس کو انہوںنے فائدہ ضرور دیا ہے۔لیکن یہ بعد والوں کا پیسہ پہلے والوں کو دیا جاتا ہے،اسی طرح سے ہیر ا گولڈ میںبھی ہر ایک انویسٹر کو ان کا75 فیصد انویسٹمنٹ کا پیسہ دے دیا جاتا ہے۔اس دوران ان کے پاس اور لوگ پیسے دینے لگتے ہیں،تو وہی پیسہ وہ پہلے والوں کو دیتے ہیں،خاص طور سے لانگ ٹرم کیلئے جو انویسٹمنٹ کرتے ہیں ان کا یہی حال ہوتا ہے۔اگر کوئی بھی ان کے پاس انویسٹمنٹ نہ کرے تواس کاروبار کی حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ہیرا گولڈ کا دعویٰ ہے کہ ہماری کمپنی پچھلے کئی سالوں سے کاروبارکررہی ہے ،اگر ہم غلط ہوتے تو اب تک بھاگ گئے ہوتے۔غور طلب بات یہ ہے کہ شاردا اسکیام بھی سات سالوں تک چلتا رہا،پررل اسکیام بھی20 سال چلا۔ہر ایک بائینری یا لنک سسٹم کے ذریعے سے منافع دینے والی کمپنیاںکم ازکم 10-12 سال تو چلتی ہی رہتی ہیںاوراس میں کوئی شک ہی نہیں۔ہیرا گولڈ کا سوال ہے کہ اتنے سارے لوگ انویسٹ کررہے تو کیا یہ سب غلط ہیں؟شاردا اسکیام میں17 لاکھ لوگوںنے اپنا پیسہ لگایا تھا ، پررل گھوٹالے میں5.5 کروڑ لوگوںنے اپنی محنت کی کمائی لگا ئی تھی،لیکن وہ تمام اسکیمیں محض دھوکہ تھیں۔جب گھوٹالے سامنے آئے تو کئی لوگوں کی زندگیاں تباہ و برباد ہوگئیں اور کئی گھرانے اُجڑ گئے۔حالانکہ ایسی کمپنیوں کے مالکان کے ساتھ بڑے بڑے سیاستدانوں اور فلم آیکٹروں کی تصویریں بھی آتی ہیں،لیکن کسی سیاستدان کی تصویر لینے کیلئے محض ان کی پارٹی کو یا الیکشن کے وقت چندہ دینا ہی کافی ہے اور اگر فلم اداکار کمپنیوں کے اشتہار دیتے ہیں تو اشتہار کے عوض انہیں کروڑوں روپئے دیا جاتا ہے ،اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بھی آپ کے پیسوں کے ذمہ دارہیں۔سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ ہیرا گولڈ اور ہیرا گروپس آف کمپنی اپنے پاس رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں،لیکن ہر ایک کمپنی کی شروعات رجسٹریشن سے ہی ہوتی ہے،مگر اس کی سچائی اُس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنا بیالنس شیٹ عام کرتے ہیں۔ہر کمپنی کو بیالنس شیٹ عام کرنا ہوتا ہے،مگر ہیرا گولڈ نے اپنے ابتدائی بیالنس شیٹ میں کھلے عام جھوٹ کہا ہے۔ہیرا گولڈ 50ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کاروبار کررہا ہے،لیکن اس کی مالکان نوہیرا شیخ نے اپنی بیالنس شیٹ میں کہیں بھی اتنی بڑی رقم کا ذکر بھی نہیں کیا ہے۔ہیرا گولڈ یہ بھی فخر سے کہتا ہے کہ ہم تو لاکھوں کروڑوں روپئے فلاحی اداروں کو چندے کے طورپر دیتے ہیں،کئی لوگوں کو اسپانسر کرتے ہیں۔اسپانسر کرنا اور چندہ دینا بہت بڑی بات نہیں ہے۔سہارا گروپ نے انڈین کرکٹ ٹیم کو اسپانسرکیا تھا،تو کیا آج سہارا گروپ عدالت کے کھٹکھرے میں مجرم بن کر نہیں کھڑا ہے۔ہر کمپنی اپنے حساب سے ڈونیشن دیتی ہے اور اس سے وہ اپنی امیج بہتر بناتی ہے۔لیکن ڈونیشن دینے سے کاروبار کی تصدیق نہیں ہوتی بلکہ سرمایہ کاروں کو پروف آف بزنس درکار ہے ۔ ہیراگولڈ دعویٰ کرتا ہے کہ ان کا کاروبار دبئی میں پھیلا ہوا ہے اور ان کے سونے کا گودام بھی دبئی میں ہے۔لیکن اس دبئی کے گودام میں کتنا کاروبارہورہا ہے،کتنا سیل ہو رہا ہے اور وہاں کی اقتصادی صورتحال کیا ہے اسے کبھی بتایا نہیں گیا ہے۔ نوہیرا شیخ کا کہنا ہے کہ آج تک جتنی بڑی بڑی کمپنیاں ہیںوہ اپنے سرمایہ کاروں کو اپنا بیالنس شیٹ نہیں بتاتے،نہ ہی انویسٹمنٹ کی تفصیلات دیتے ہیں۔شائد نوہیرا شیخ کو معلوم نہیں ہے کہ ہر کمپنی کواپنا حساب وکتاب منسٹری آف کارپوریٹ ایفیرس کو دینا ہوتا ہے اور منسٹری کمپنیوںکی تفصیلات اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتی ہیں جہاں پر کوئی بھی یہ تفصیلات دیکھ سکتا ہے۔ہندوستان میں تقریباً11 لاکھ کمپنیاں ہیں جو ہر سال اپنا حساب وکتاب منسٹری کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرتی ہیں۔جس میں وہ اپنا نفع ونقصان اور بچت جاری کرتے ہیں۔ہیرا گولڈنے بھی اپنا حساب ویب سائٹ دیا ہے،جس میں انہوںنے صرف 5 لاکھ شیئر کیپٹل بتایا ہے اور اس پانچ لاکھ شیئر کیپٹل میں98 فیصد شیئرس نوہیراشیخ کے ہی ہیں،یعنی کمپنی میں جو لاکھوں سرمایہ دارہیں وہ قانونی لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔نوہیرا شیخ کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس کوئی انویسٹر نہیں ہے جبکہ انویسٹمنٹ کے وقت پر کہا جاتا ہے کہ آپ انویسٹمنٹ کریں،اب اُن کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس انویسٹر نہیںبلکہ کسٹومرس ہیں اور انہیںصرف یونٹ پرچیس کی سرٹیفکیٹ دی جاتی ہے۔اگر نوہیرا شیخ کے پاس تمام انویسٹر کسٹومر ہیں تو ان کا سالانہ سیل ہزاروں کروڑوں میںہونا چاہےے نہ کہ لاکھوںمیں۔سال2011 سے2014تک انہوںنے اپنا جملہ منافع لگ بھگ50کروڑ روپئے بتایا ہے ،اگر ان کا منافع50 کروڑ روپئے تک ہی ہو اہے تو انہوںنے ان پانچ سالوں میں کروڑوں روپئے کا منافع تقسیم کیا ہے ،وہ کہاں سے آیا او رکیسے آیا ؟نوہیرا شیخ کی کمپنی ہیر اگولڈپر الزام ہے کہ ان کا کاروبار بلاک منی اور حوالہ کے ذریعے سے چلایا جارہا ہے۔اس سلسلے میں ایک شکایت بھی حیدرآباد میں درج ہوچکی ہے۔ معروف انویسٹمنٹ آیکٹیویسٹ سوچیتا دلال نے اس سلسلے میں سیکوریٹی ایند ایکسچینج آف انڈیا کے ڈائریکٹر کو شکایت بھی پیش کی ہے کہ ہیرا گولڈنے مسلمانوں کو شرعی تجارت کے نام پر لوٹنا شروع کیا ہے،اس سلسلے میں فوری کارروائی کی جائے۔نوہیرا شیخ کے سابق سسر نے بھی میڈیا میں یہ بات واضح کی تھی کہ ان کی بہو نوہیرا شیخ کوئی کاروبار نہیں کرتی،یہ پورا دھوکہ ہے،جتنے بھی گولڈ شاپ ہیرا گولڈنے شروع کئے وہ چا رہی دن چلے ہیںاور بند ہوچکے ہیں،یہ سب عوام سے پیسے وصول کرنے کیلئے ایک چال ہے اور لوگ اس پر یقین نہ کریں۔ہیر ا گولڈ کا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ان کی کمپنی سال1998 سے چل رہی ہے ،لیکن سرکاری دستاویزات میں ان کے دستاویزات 2010 کے بعد سے ہی دستیاب ہیں ۔ حالانکہ کئی علماءنے ان کی تجارت کی تائید کی ہے،مگر کچھ علماءنے ان کے کاروبارکو حرام قرار دیتے ہوئے فتوے بھی جاری کئے ہیں،جس میں مفتی جنید پالنپوری ممبئی بھی شامل ہیں ۔ نوہیرا شیخ بڑے فخر کے ساتھ کہتی ہیں کہ اگر کچھ غلط ہوتا تو حکومت ہمیں روک لی ہوتی ۔لیکن اب تک جو بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے ہیں،جن میں پررل،اسپیک ایشاءہوم ٹریڈ جیسی کمپنیاں ہیں انہوںنے بھی برسوں تک لوگوں سے کروڑوں روپئے لیکر بھاگ اس کے بعد ہی حکومت کی آنکھ کھلی۔حکومت اُس وقت تک کارروائی نہیں کرتی جب تک سرمایہ کار شکایت نہ کرتے۔دنیا میں ہر کاروبار ڈاﺅن ہوچکا ہے اور ہر کمپنی اپنے سرمایہ کاروں کو کم منافع دے رہی ہیں،وہیں ہیرا گولڈ کا منافع تو2008 سے2018 تک ایک ہی جیسا ہے۔یہاں تک کہ بڑی بڑی کمپنیوںکے سامنے بھی ہیرا گولڈ کا منافع سب سے زیادہ ہے۔یعنی کہ ہندوستان کی تمام کمپنیاں ہیرا گولڈ کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں۔واضح ہوکہ بوگس کمپنیوںکی ترقی تیزی سے ہوتی ہے اور اُتنی ہی تیزی سے رفوچکر ہوتی ہیں۔
ملک کا سب سے بڑا گھوٹالہ ہوسکتا ہے یہ ”ہیرا گولڈ“؟
ہیرا گروپ آف کمپنی آنے والے دنوں میں ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ کرسکتی ہے ، اب تک ہم جن باتوں کوحوالہ دیا ہے اس سے کہیںبھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہیراگروپ اپنی کسی بھی کمپنی کوزیادہ دن تک چلا سکے گی کیونکہ ان کا وجود ہی جھوٹ پر مبنی ہے۔ خوبصورت وئب سائٹ بنانے اور میٹھی میٹھی باتیں کرنے سے کوئی کاروبار نہیں چلتا،اس سے ہیرا گروپ سے بڑھ اور بھی کئی کمپنیاں تھیں جنہوںنے ایک سے بڑھ ایک ڈائنمک وئب سائٹ بنائی تھی لیکن بعد میں سرمایہ کاروں کے نیچے ڈائنامیٹ رکھ بھاگ گئے۔جس طرح سے آج ہم وجئے مالیا،للت مودی،نیئرو مودی کاذکر کررہے ہیں،اُسی طرح سے کل نوہیرا شیخ کا بھی تذکرہ کرینگے۔شریعت کا ہورہا ہے غلط استعمال،عالمہ فاضلہ سے ڈاکٹر نوہیرا بننے والی نوہیراشیخ شریعت کے نام پر تجارت کاحوالہ دیتی ہیں۔جس طرح سے لوگ چندے جمع کرنے کیلئے مسجدیں و مدرسے قائم کرتے ہیںاسی طرح سے نوہیرا نے باحجا ب ہوکرشریعت کا نام لیتے ہوئے انشاءو ماشاءاللہ کہہ کر کاروبارکی شروعات کی تھی آج یہی نوہیرا شیخ بے حجاب ہوچکی ہیں۔
کیا مودی کی گودی میں بیٹھ گئی ہیں نوہیرا شیخ؟
ہیرا گروپ کی مالکن نوہیرا شیخ نے پچھلے دنوں وزیر اعظم نریندرمودی کی حیدرآباد میں آمد پر شہر بھر میں بڑے بڑے ہولڈنگ لگوائے تھے،اس کے علاوہ انہوںنے کئی اخبارات میں اشتہارات بھی دئیے ہیں۔نوہیرا شیخ بی جے پی کے کئی لیڈروں کے ساتھ بھی دیکھی گئی ہیں ۔مرکزی وزیر کرن رجچو کے ساتھ بھی دیکھی گئی ہیں۔ا س سے واضح ہوتا ہے کہ نوہیرا شیخ مودی کی گودی میں ہیں ۔

سیاسی پارٹی کی تشکیل:۔
اللہ اللہ نینے یلا،کہنے والی نوہیرا شیخ تجارت تو شریعت کی بنیاد پر کررہی ہیںلیکن سیاست کس بنیاد پر کررہی ہیںاس کا جواب وہی دے سکتی ہیں۔حال ہی میں انہوں نے آل انڈیا مہیلا ایمپاﺅرمنٹ پارٹی کی تشکیل دی ہے اور وہ کرناٹک سے اپنے سیاسی کرئیر کی شروعات کرنا چاہ رہی ہیںاو ران کا دعویٰ یہ بھی کہ وہ کرناٹک کی پہلی مسلم سی ایم بنیں گی۔اسی مقصد کو لیکر انہوںنے کرناٹک کے224 اسمبلی حلقوں سے امیدوار اتارنے کا فیصلہ کیا ہے اور کئی جگہوں پر امیدواروں کااعلان بھی کرنے والی ہیں۔
ٹوپی داڑھی والوں کے ساتھ رہنے والی نوہیرا شیخ اب قوم کے دلالوںکے ساتھ؟
جو لوگ سیاست میں کچھ نہیں کرپائے ،وہ لوگ سیاست میں قوم کی دلالی کا کام کرتے ہیں ، اب ایسے ہی لوگوں کا استعمال کرتے ہوئے نوہیر اشیخ قوم کو تباہ کرنے کی سمت میں لے جارہی ہیں۔ایک طرف سرمایہ داروں کا کروڑوں روپیہ سیاسی سرگرمیوںکیلئے استعمال کررہی ہیں تو دوسری جانب قوم کے ووٹوں کا بٹوارا کرنے کیلئے بی جے پی جیسی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہاتھ ملا رہی ہیں۔حال ہی میں بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ نے مرکزی وزیر مختارعباس نقوی اور شہانوازحسین کو کرناٹک میں مسلمانوںکے ووٹوں کے بٹواراے کیلئے ایجنٹوں کا تقررکرنے کی ذمہ داری دی تھی،شائد نوہیراشیخ بھی اسی سازش کا مہرہ ہیں۔چونکہ نوہیرا شیخ کا کاروبار پوری طرح سے غیر قانونی ہے اور نوہیر اشیخ کو اس بات کی دھمکیاں دی گئی ہونگی کہ اگر وہ بی جے پی کا ساتھ نہیں دینگے اور مسلمانوں کے ووٹوں کا بٹوارا نہیں کرینگی تو ہیرا گولڈ پر لگام کسی جائیگی اورا نہیں سبرت رائے سہارا کی طرح جیل کی سلاخوںمیں ڈھکیل دیا جائیگا۔اگر نوہیرا شیخ یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کا بی جے پی کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے اور وہ پارٹی کی سرگرمیوںکیلئے جو خرچ کررہی ہیں وہ اپنا ذاتی خرچ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوہیرا شیخ کس نظام کے خاندان سے ہیںاور انہوںنے اتنا بڑا پیسہ کہاں سے لایا؟پچھلے دنوں کرناٹک تقریباً بیس اخبارات میں نوہیرا شیخ نے اشتہاردیکر اپنی پارٹی کا اعلان کیا ہے۔اسی کیلئے کم ازکم انہوںنے تقریباً50 سے ایک کروڑروپئے خرچ کئے ہیں،تو یہ پیسہ کہاں سے آیا۔اگر انہوںنے یہ پیسہ ہیراگروپس آف کمپنی سے لیا ہے تو یہ کھلے عام بے ایمانی ہوگی،کیونکہ سرمایہ داروںنے ان کے پاس پیسہ تجارت کیلئے جمع کیا ہے نہ کہ سیاست کیلئے۔

عام لوگ رہیں ہوشیار!!!
قوم کی دلالی کیلئے کچھ لوگ ایم ای پی کے ساتھ جڑ کر مسلمانوںکے ووٹوں کا بٹوارا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ایسے لوگوں سے عام لوگ ہوشیار رہیں۔برقعہ پہن کر اگر کوئی عورت مسلمانوںکی قیادت کا دعویٰ کرتی ہے تو وہ مسلمانوںکی ہمدرد نہیں ہوسکتی۔آپ نے اخباروں ٹی وی میں یہ خبریں دیکھی ہونگی کہ کچھ عورتیں برقعہ پہن کر دکانوںمیں چوریاں بھی کرتی ہیں۔اگر ایسا ہے تو نوہیرا شیخ بھی قوم پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش میں ہیں۔ہیرا گروپس میں جو سرمایہ دار ہیں اُن پر تو گھر میں بیٹھ کر منافع کھانے کا بھوت سوارہوچکا ہے،لیکن ایم ای پی جیسی سیاسی پارٹیاں الیکشن بوت پر قبضہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے ووٹوں کوبٹوارا کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کا کھلے عام ساتھ دے رہی ہیں۔اس لئے عوام سے گذارش ہے کہ وہ ہیراگروپ یا پھر ایم ای پی کے دھوکے میں نہ آئیں۔

About admin

Leave a Reply

x

Check Also

کسانوں کو راحت دینے کے نام پر لگژری ساما ن پر2سے5فیصد ٹیاکس لگانے کی تیاری

دہلی: ۔حکومت گنا کسانوں کو ناراض کرنے کا خطرہ کسی بھی صورت میں مول نہیں ...