نو(9)سال بعد

از:۔مدثراحمد۔9986437327
آج ہی کے دن9سال پہلے سرزمین شیموگہ سے روزنامہ آج کاانقلاب کی شروعات ہورہی تھی،اُس وقت شہریان شیموگہ،اہل اردو،یہاں تک کے رسم اجراءکی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت فر ما کچھ مہماناں نے بھی اس بات کا شبہ ظاہرکیا تھا کہ کیا واقعی میں ایک اردو اخبار اس سرزمین میںنشوونما پاسکے گا،بعض نے تو یہاں تک تنقید کردی کہ یہ اخبار دو چار مہینوں کا مہمان ہے۔خیر لوگوںکی سوچ ہوتی ہے ویساہی ان کا عمل بھی ہوتا ہے۔ہم نے روزنامہ آج کاانقلا ب کو روزِ اول سے ہی صرف اخبا رتک محدود رکھنانہیں چاہا بلکہ اس اخبار کو عوام کاترجمان بنانا چاہا ،ایک تحریک،ایک انجمن اور ایک طاقت کے طور پر اس اخبار کو ابھارنے کی کوشش کی۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہماری کوششوں کوکامیاب کیا اور جو فکر ہمارے ذہینوں میں تھی وہ فکر کامیاب ہورہی ہے۔حالانکہ 9 سال کے اس طویل عرصے کو پار کرنے میں ہمارے سامنے کئی مشکلات آئے،کئی لوگوںنے اخبار کو بند کرنے کی کوشش کی،کئی لوگوںنے خط وکتابت کے ذریعے سے ہمیں اس بات کااحساس دلاناچاہا کہ ہم ریگستان میں پھول اگانے کی کوشش کررہے ہیںتو کچھ نے یہ کہا کہ ہم نے اس اخبار کواپنے لئے سرمایہ بنا رکھا ہے۔یہ اخبار پچھلے نو سالوںسے کس کیلئے کیا کررہا ہے یہ قارئین خوب جان چکے ہیں۔یقینا اخبار سب کو خوش نہیں کر سکتا،جو لوگ غلط ہوں اُن کی غلطیوں کااحساس دلانا بھی ہماری ذمہ داری رہی اور جن لوگوںنے اچھے کام کئے ان کی ستائش کرنا بھی ہمارافریضہ رہا۔ہمیں خوشی ہوتی ہے کہ ہم نے روزنامہ آج کاانقلاب کے ذریعے سے پچھلے نو سالوںمیں قوم مسلم اور ملک کی بقاءوتحفظ کے تعلق سے جو کام کیا ہے اس کے صدفیصد مثبت نتائج نہ سہی مگر کچھ تو ہم نے اچھا کام کیا ہے۔جس طرح سے اللہ نے وحدانیت کے پیغام کوعام کرنے کیلئے دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو دنیامیں اتارا،ان کے ذریعے سے وحدانیت کا پیغام عام کیا،پھر بھی کئی قومیں وحدانیت سے دور ہیں۔اسی طرح سے ہمارے پیغام کو عام کرنے کے باوجود ہم صدفیصد تو کامیاب نہیں رہے البتہ کئی ایسے موقعوں پر روزنامہ آج کاانقلاب نے قوم وملت کا ترجمان بن کر ابھرا اور سینکڑوں لوگوںکیلئے مددگار ثابت ہوا۔جب اس اخبارکے ذریعے سے کسی کو مددملتی ہے تو ہمیں اس بات کااحساس ہوتا ہے کہ چلو ہم نے جس مقصدکے تحت یہ اخبار شروع کیا ہے وہ مقاصد پورے ہورہے ہیں۔روزنامہ آج کاانقلاب ہمارے میڈیا ہاﺅزکا صرف ایک حصہ ہے،اس میڈیا ہاﺅز کے او رکئی مقاصد ہیں جس میں ٹی وی چینل،کنڑااخبار،شام نامہ اور سوشیل میڈیا چینل کا قیام کیا جائیگا۔بس چند مہینوں کاانتظارکیجئے جو خواب ہم نے نو سال پہلے دیکھے تھے وہ اب پورے ہونے جارہے ہیں۔روزنامہ آج کاانقلاب کی اس کامیابی کے پیچھے ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ہے،اس کامیابی کیلئے سب سے پہلے ہم اُس رب العزت وخالق کائنات کاشکر بجا لاتے ہیںتو ا س کے بعد ہم اپنے قارئین،مشتہرین،قلمکار،خیرخواہ و مضمون نگاروںکے ساتھ ساتھ اپنے تمام ایجنٹوں کا بھی شکریہ اداکرتے ہیںجنہوںنے ہمیں قدم قدم پر ساتھ دیا،جنہوںنے اس اخبار کو اپنا اخبار سمجھا۔یقینا آج کے دورمیں اخبار چلانا جوئے شیر لانے کے برابرہے اور ہم ہمیشہ اسی کوشش میں ہیں کہ قوم وملت میڈیا کے میدان میں آگے آئیں۔یہ بات او رہے کہ کچھ لوگ میڈیا کے نام پر عام لوگوں کو گمراہ کررہے ہیںاور اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کیلئے نت نئے طریقوںسے اخبارات شروع کررہے ہیں اور ان میں نہ مقصد باقی رہا نہ ہی کوئی جنون۔محض کسی اور کو نیچا دکھانا ان کامقصد بنتا جارہا ہے۔ہمیں خوشی ہوگی کہ اور لوگ بھی کسی خاص مقصد کو لیکر میڈیا کے میدان میں قدم رکھیں نہ کہ کسی اور کو نیچا دکھانے کیلئے!۔آج ملت اسلامیہ صرف اس وجہ سے آگے نہیںآپارہی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کرنے کے بجائے دوسروںکی صلاحیتوں پر سوالات پیدا کررہی ہے،اگر یہی حال رہا تو یقینا ملت اسلامیہ کی فلاح وبہبودی ناممکن ہے۔ہم آخرمیں اپنے اس پیغام میں یہی کہنا چاہیںگے کہ ہمارا ساتھ جس طرح سے پچھلے نو سالوںسے ہمارا تعاون کیا ہے،اسی طرح سے آنے والے دنوںمیںبھی قدم بہ قدم ہمارا تعاون کریں اورہمارے نیک مقاصد کو پورا ہونے کیلئے دعائیں کریں۔
آج بھی میرے خیالوںکی تپش زندہ ہے
میرے گفتارکی دیرینہ رویش زندہ ہے
آج بھی ظلم کے ناپاک رواجوںکے خلاف
میرے سینے میں بغاوت کی خلش زندہ ہے
تم ہنسوگے کہ کمزور سی آواز ہے کیا
جھنجھنا یا ہوا،تھرایا ہوا،ساز ہے کیا
جن اسیروںکیلئے وقف ہیںسونے کی قفس
ان میں موجودابھی خواہش پرواز ہے کیا
سخت دشوار ہے انسان کا مکمل ہونا
حق وانصاف کی بنیاد پر افضل ہونا

About Abdul Rehman

x

Check Also

کون ہے ساہوکار ۔۔ ؟

از قلم : مدثر احمد ، ایڈیٹر ۔ روزنامہ آج کا انقلاب ، شیموگہ ۔ ...