کیوں ہے رکن اسمبلی سے بَیر؟ایم ایل اے کی باغی ٹیم کے سرپرست مختاراحمد نے کیا اظہار

شیموگہ:۔رکن اسمبلی پرسنناکمار کو آنے والے اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ نہ دی جائے اس کیلئے کانگریس کی ہی ایک باغی ٹیم ہر ممکن کوشش کررہی ہے اور اس باغی ٹیم نے اس بات کابھی عہد کیا ہے کہ ان کی ٹیم میں سے ہی کسی کو ٹکٹ دی جائے ،ہم کام کرینگے،لیکن رکن اسمبلی پرسنناکمار کو دوبارہ ٹکٹ دی جائیگی تو ا س کیلئے ہم تیار نہیں ہونگے۔اس سلسلے میں روزنامہ نے باغی ٹیم کے سرپرست وسابق کاﺅنسلر مختاراحمد سے بات کی تو انہوںنے کہا کہ رکن اسمبلی پرسنناکمارسے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی ہم کانگریس کے مخالفین میں سے ہیں،لیکن رکن اسمبلی پرسننا کمار نے جس طرح سے کانگریس کے تمام سینئر لیڈروں کو دھوکہ دیا ہے ،اس وجہ سے ہم ان کی بغاوت پر اُتر آئے ہیں ۔ مختاراحمدنے کہا کہ ہم نے پچھلے دنوں کانگریس ہائی کمان کے کئی لیڈروں سے تبادلہ خیال کیا جن میں سابق مرکزی وزیر منیپا ، کھرے،آسکر فرنانڈیز، ویرپا موئیلی،بی کے ہری پرساد،رحمان خان ، وینوگوپال اور غلام نبی آزادسمیت دیگر لیڈروں سے ملاقات کی اور انہیں شیموگہ اسمبلی حلقے کی حقیقت سے بآور کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ کانگریس کی سابق قومی صدر سونیا گاندھی اور صدر راہل گاندھی کے دفاتر پہنچ کر راست انہیں میمورنڈم دیا گیا ہے اور اُمید ہے کہ اس دفعہ ہائی کمان اس سلسلے میں سنجیدگی کامظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس امیدوار کو تبدیل کریگی ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ رکن اسمبلی پرسنناکمارکی تبدیلی کی مانگ کی جارہی ہے ، جبکہ ان کے ہی الیکشن میں خود باغی ٹیم کے ہی تمام اراکین رکن اسمبلی کی کامیابی کیلئے جدوجہد کرتے رہے تو انہوںنے کہا کہ رکن اسمبلی سے ہماری کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے،لیکن جس قو م کے ووٹ لیکر پرسنناکمار کامیاب ہوئے،اُسی قوم کو فائدہ پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔حالانکہ خورشیدہ بانو کو مئیر اور قاضی عثمان کو سوڈا کا صدر بنایاگیا تھا،لیکن انہیں سیاسی انصاف نہیں مل سکا ہے۔جس قوم کے چالیس ہزار ووٹ لیکر پرسنناکمار کامیاب ہوئے،اُس قوم کے فرد کو محض چھ مہینوںکیلئے سوڈاکا صدر بنایا گیا تھا اور جس قوم کے 6 ہزار ووٹ نہیںاُن کیلئے18 مہینوںکی میعاددی گئی تھی۔یہ کونسا انصاف ہے ؟ ۔ ایسے میں اسماعیل خان کو بھی سوڈا کا صدر بنایاگیا ہے ، لیکن جس دن اسماعیل خان نے اپنے عہدے کا چارج لیا اُس موقع پر اپنی رائے کااظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج میں جو کچھ ہوں وہ میری بیوی اور بیٹی کی وجہ سے ہوں۔اب انہیں ان کی بیوی اور بیٹی کی وجہ سے یہ عہدہ ملا ہے تو اتنے سالوں تک ان کیلئے کام کرنے والے کانگریسی اراکین،لیڈروں کا کیا رول رہا ہے؟کیا ان کیلئے ان اراکین نے اپنی محنت نہیں لگائی ہے؟۔مزید انہوںنے کہا کہ انتخابات کے دوران رکن اسمبلی نے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ جیت جاتے ہیں تو ہر کام سب کو اعتماد میں لیکر کرینگے،لیکن انہوںنے کبھی بھی کانگریس کے سینئرس کو ساتھ لیکر کام نہیں کیا ہے اور نہ ہی وہ اپنے اعتمادمیں لیکرانہیں ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔جے ڈی ایس،کے جے پی اور بی جے پی سے آنے والے کارکنوں کو انہوںنے مختلف عہدوں سے نوازا ہے ، بورڈاور کارپوریشنو ں کے عہدوں پر نامزد بھی کیا ہے ،لیکن مسلمانو ں کیلئے کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے ۔ راستے بنانا اور نالے بنانا تو ہر ایک عوامی نمائندے کی ذمہ داری ہے،لیکن سیاسی و سماجی انصاف دینا ہی اہم بات ہے۔پارٹی میں اگر ہماری کوئی اہمیت نہیں یا ہم میں قابلیت نہیں ہے تو پارٹی سے نکال دیا جائے ۔ آنے والے اسمبلی انتخابات کیلئے ہم پوری طرح سے تیار ہیںلیکن شرط یہ ہے کہ امیدوار کو تبدیل کیا جائے ۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

خودکشی کے معاملے میں انسپکٹر کی لاپرواہی،انسپکٹر معطل

شیموگہ:۔ایک خاتون کی خودکشی کی کوشش کے بعد اس سے ڈائنگ ڈکلیریشن نہ حاصل کرنے ...