آرام کا نہیں کام کا وقت ہے

از:۔مدثراحمد۔ایڈیٹر،روزنامہ آج کا انقلاب،شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے تین سالوں سے ہندوستان کے مختلف سیکوریٹی ایجنسیوں میں تقررات کاسلسلہ جاری ہے،ان میں ہزاروں عہدے مسلم یا اقلیتی طبقے کیلئے مختص ہوتے ہیں،لیکن مسلم نوجوانوںمیں ان عہدوں میں بھرتیوں کے تعلق سے بالکل بھی دلچسپی دکھائی نہیں دیتی۔دراصل ہندوستان میں جو صورتحال جاری ہے اس وقت مسلمان ہمیشہ حکومتوں اور سرکاری افسران،پولیس افسران کو کوستے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔لیکن ان مشکل گھڑیوں سے نمٹنے کیلئے مستقبل کی تیاریاںبالکل بھی نہیں کی جارہی ہیں۔ہم صرف حکومتوں کوموردِ الزام ٹھہرارہے ہیں کہ وہ ہم سے متعصبانہ رویہ اختیارکررہے ہیں۔لیکن ان کے متعصبانہ رویہ کے جواب میں ہمارے پاس کسی طرح کی تیاری نہیں ہے۔آئی پی ایس،آئی اے ایس عہدوں کو حاصل کرنا جہاں مشکل ہے وہاں ناممکن نہیں ہے،لیکن اس سطح کی محنت کو کرنے والے نوجوانوںکی ہمارے پاس کمی بھی ہے،مگر پولیس کے انسپکٹر سے لیکر انٹلی جنس محکمہ کے معمولی کانسٹیبل کے عہدوںکیلئے تو اپنی قسمت کو آزما سکتے ہیں۔ہر سال ہزاروں اسامیوں کیلئے بھرتیاں ہوتی ہیں،مگر ان میں مسلمانوںکی شراکت ایک فیصدسے کم ہوتی ہے ،جس کی وجہ سے غیر ان محکموں پر حاوی ہوجاتے ہیں اور اپنی من مانی یا مخصوص ایجنڈے کے مطابق سرکاری مشنریوں کا استعمال کرتے ہیں۔مثال کے طور پر پچھلے دنوں ہندوستانی فوج کے کرنل پروہیت جس کا ماضی سنگھ پریوار سے تھا،اس نے اپنی تنظیم سے وفاداری کرتے ہوئے ہندوستانی فوج میں رہ کرہی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہواتھا،یہ بات اور ہے کہ اس پر یہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا وہ ملزم ہی ہے۔مگر ایسے کئی لوگ ہیں جو ہندوستانی حکومت میں خدمات انجام دیتے ہوئے بھی ہندوستان کے سیکولرزم اور دستور کے خلاف محاذ آراءہیںاور اپنے مخصوص ایجنڈوں کو نافذ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کازور لگا رہے ہیں۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہماری نسلیں پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ ہورہی ہیں،مگر یہ اپنی تعلیم کو مثبت سمت لے جانے کے بجائے اپنی اپنی زندگیوں کو آرام وآرائشوں سے لادنے کیلئے یا تو بیرونی ممالک کادورہ کررہے ہیں یا پھر نجی کمپنیوں میں روزگار حاصل کرتے ہوئے لاکھوں روپئے کے پیاکیچس حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اکثر ہم نے خبروںمیں یہ دیکھا ہے کہ ہوائی اڈوں پر مسلمانوں کو حراساں کیا گیا،فرقہ وارانہ فسادات کے دوران مسلمانوں کو خود پولیس نے ظلم کا شکار بنایا،باصلاحیت نوجوانوں کو انٹلی جنس محکمے نے دہشت گرد ہونے کی رپورٹ دی،عدالت میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو قصوروار ٹھہرایا ،یا پھر ان پر الزامات کی تصدیق نہ ہونے کے باوجود انہیں جیلوں سے رہا کرنے کیلئے عدالتوںکی ٹال مٹول ہورہی ہے۔یہ سب صرف اس وجہ سے ہورہا ہے کہ ہماری نسلیں سرکاری محکموںمیں ملازمت حاصل کرنے سے گریز کررہی ہےں۔ذرا جائزہ لیں کہ کتنے مسلم نوجوان امیگریشن محکموں میں شامل ہیں،کتنے کسٹم ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار ہیں،کتنے نوجوان پولیس میں انسپکٹر،کانسٹیبل کے عہدوں پرفائز ہیں،کتنے سرکاری وکیل مسلمان ہیںاور کتنے مسلمان جج کے عہدوں پر فائز ہیں۔ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہمارے نوجوان ان محکموںمیں شامل ہوکر محض مسلمانوںکی نمائندگی کریں،اتنا تو ممکن ہے کہ وہ ان محکموںمیں رہ کر انصاف کاترازو برابر رکھ سکتے ہیں۔ہمارے یہاں جو تنظیمیں وادارے مسلمانوںکی فلاح و بہبودی کیلئے کام کررہی ہیں،بارش یا سیلاب کے موقع پر امداد ی کام انجام دے رہے ہیں،فرقہ وارانہ فسادا ت کے دوران گھروںکی تعمیر،زخمیوںکی مالی امداد،تاجروں کے نقصانات کی بھرپائی،مہلوکین کے اہل خانہ معاوضہ دینے کیلئے کمربستہ ہیں،اگر وہی تنظیمیں و ادارے اپنے ایجنڈے میں اس بات کو بھی شامل کرلیں کہ ان کی تنظیم کے ماتحت دس نوجوانوں کو سرکاری محکموں پر فائز کرنے تک دم نہیں لینگے۔ہندوستان میں تقریباً120 ایسے اضلاع ہیں جہاں پر مسلمانوںکی آبادی 60 فیصد سے زیاد ہے۔اگر 120 اضلاع سے ہر سال کم ازکم10 مسلم نوجوانوںکو پولیس یا دیگر سیکوریٹی ایجنسیوںمیں نوکریاں دلوائی جانے لگے گیں تو سال میں 1200 نوجوان مسلمانوںکیلئے راحت کا سبب بن سکتے ہیں۔اکثر ہم نے دیکھا ہے کہ ہماری تنظیمیں صرف تعلیم کے نام پر سال میں ایک دفعہ کتابیں یانوٹ بک تقسیم کرکے باقی سال کے گیارہ مہینے آرام کرتی رہتی ہیں۔اب یہ وقت آرام کا نہیں بلکہ کچھ کر گذر جانے کا ہے۔ورنہ آنے والے دنوںمیں ہندوستان کی سرزمین پر مسلمانوں کا جینا محال ہوسکتا ہے۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...