آہ!حضرت حکیم الملت و امیر شریعت کرناٹک

ہمارے مشفق و مربی حضرت حکیم الملت و امیر شریعت کرناٹک8ستمبر2017 بروز جمعہ ٹھیک صبح2.30 بجے اس دارِفانی سے کوچ کرگئے اور اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔اناللہ وان الیہ راجعون۔حضرت مولانا مفتی اشرف علی صاحب باقوی رحمة اللہ علیہ ۔ امیر شریعت اول حضرت مولانا ابوالسعود احمد صاحبؒ کے بڑے فرزند تھے،ان کے انتقال کے بعدتاحال دارالعلوم سبیل الرشاد کے سر پرست ومہتمم رہے،ان کی سرپرستی میں دارالعلوم سبیل الرشاد نے ترقی کی راہوں کا سفر بڑی ہی تیزی کے ساتھ طئے کرتے ہوئے ہندوستان کے دینی مدارس کی فہرست میں نمایاں مقام حاصل کیا ۔مولانا مفتی اشرف علی باقوی صاحب نہ صرف دارالعلوم سبیل الرشاد کے مہتمم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے بلکہ انہوںنے ہندوستان کے اہم دینی درسگاہیںدارالعلوم دیوبند،ندوة العلماءکے انتظامیہ و شوریٰ میں رکن کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی،اس کے علاوہ ریاست کرناٹک،تملناڈو،آندھراپردیش میں قائم متعدد مدارس کی سرپرستی بھی مولانا مرحوم مفتی اشرف علی باقوی صاحب نے کی۔ہندوستان کی سب سے بڑی مسلمانوںکی نمائندہ تنظیم مسلم پرسنل لاءبورڈ کے نائب صدر ہونے کے علاوہ وہ آل انڈیاملّی کاﺅنسل،تنظیمِ اتحاد المسلمین،صدائے اتحادکی سرپرستی بھی انہوںنے کی۔ریاستِ کرناٹک کی حکومتوںمیں مولانا مرحوم کے مشورے نایاب و اہم سمجھے جاتے تھے،اس وجہ سے اکثر حکومتیں اقلیتی امورکے تعلق سے مشورے کیا کرتی تھی۔امیر شریعت مولانا مفتی اشرف علی صاحب باقوی رحمة اللہ علیہ بطور امیر شریعت اُمت مسلمہ میں اتحاد قائم کرنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہے اور ان کی بات تمام مسالک وطبقوںمیں اہمیت کی حامل تھی۔ایسی مایہ ناز ہستی اب ہمارے درمیان نہیںرہی،ان کی کمی سے اُمت مسلمہ کو بہت بڑا نقصان پہنچاہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرماتے ہوئے اُمت مسلمہ کو ان کا نعم البدل عطا کرے اورپسماندگان کو صبرِجمیل عطا کرے، مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔آمین۔
ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے
آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔آمین

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

ترمیم شدہ ین آئی ایکٹ سے انصاف سے زیادہ ناانصافی ہوگی:شاہراز مجاہد صدیقی

شیموگہ: ۔ پچھلے دنوں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نیگوشیبل انسٹرومنٹ ایکٹ(ین آئی ایکٹ) کے ...