ابابیلوں کے انتظار میں ہیں مسلمان

٭میانمار میں نسل کشی کا نظارہ کرتے یہ بے چارے عام مسلمان ٭مسلم ممالک کی جانب سے کوئی بڑی کارروائی کی توقع کررہے تھے٭ ان کی نظر میں یہ ایمانی غیرت وحمیت کا تقاضہ تھا٭ فی الحال کوئی مسلم ملک اس کا سوچ بھی نہیں سکتا٭ اس خوش فہمی سے عوام کو اب نکلنا چاہئے٭ یعنی اپنے زیر اقتدار مسلم بھائیوں سے امید رکھنا بےکار ہے

یہ بات اب عام سادہ لوح مسلمانوں کے سامنے واضح ہوتے جارہی ہے کہ کوئی مسلم ملک یہاں تک کہ سعودی عرب مظلومین کی مدد کےلئے میانمار یا کسی غیر مسلم ملک کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ عام مسلمان جو بد قسمتی سے امت مرحومہ کا حصہ ہیں اپنے حسن طن کے مطابق مسلم بھائیوں سے جن کو اللہ نے اقتدار سے نوازا ہوا ہے۔ کم سے کم اتنی توقع رکھتے تھے کہ مظلوموں کی مدد کےلئے ان کی فوجیں پہنچیں گی ، اسی بنا پر بلاتحقیق وہ اس خبر کو خوب پھیلا رہے تھے کہ ایران اورترکی نے اعلان جنگ کردیا اور انکی فوجیں میانمار کی سرحد میں داخل ہوگئیں یا میانمار میں انہوں نے فوجی کارروائی کا ارداہ کرلیا ہے۔ یازیر غور ہیں ۔ اور سعودی عرب نے بھی کوئی بہت بڑا قدم اٹھالیا ہے۔ میانمارکے مسلمانوں کے ساتھ بے بسی سے تاریخ کا بدترین ظلم اورنسل کشی کا نظارہ کرتے کرتے یہ بے چارے عام مسلمان مسلم ممالک کی جانب سے کوئی بڑی کارروائی کی توقع کررہے تھے۔ ان کے نظرمیںیہ ایمانی غیرت وحمیت کا تقاضہ تھا۔ ظاہر ہے کہ ایسی تمام خبریں من گھڑت اور بے بنیاد تھیں ۔ فی الحال کوئی مسلم ملک اس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس خوش فہمی سے عوام کو اب نکلنا چاہئے۔ یعنی اپنے زیر اقتدار مسلم بھائیوں سے اس قسم کا حسن ظن رکھنا عبث ہی نہیں بلکہ گناہ ہے؟ ہاں البتہ اس بات کی توقع تو ان سے رکھی جاسکتی ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر یا ان کے اکسانے پر اپنے ہی کسی برادرمسلم ملک پریا مسلمانوں پر چڑ دوڑے اور اسکو کوراکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے میں دیر نا لگائیں ۔ میانمار کا ہی معاملہ لے لیجئے ، جہاں ایک بڑا مسلم ملک جو سب سے زیادہ فکر مند ہے، اسی لئے اس کے تعلق سے عوام کے دلوں میں واقعی قدر اور توقعات بھی ہیں ۔ لیکن اسکا بھی یہ حال ہے کہ مسلم ممالک پر چڑھائی کرنے میں تو دیر نہیں کی اوراپنی فوجیں روانہ کردی، لیکن جہاں معاملہ روہنگیاں مسلمانوں کا آگیا وہاں بیوی کو بھیج دیا وہ بھی میانمار نہیں بلکہ بنگلادیش میں آباد فوجیوں پر اظہار ہمدردی کرنے، ماشاءاللہ اپنے اپنے ممالک میں آباد ان رفیوجیوں پر اظہار ہمدردی ، دعائیں ، اورمالی امدا کاکام تویہی عام سادہ لوح مسلمان بحسن وخوبی انجام دے رہے ہیں ؟ آپ بھی یہی کام کرنے لگے تو عوام اورحکمرانوں میں کیا فرق رہ جائے گا؟ ایک دوسرا بڑا مسلم ملک جو اپنے آپ کو تمام مسلمانوں کا قائد اورخادم اعظم تصور کرتا ہے، اسکا یہ حال ہے کہ اپنے ہی برادر ملک پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے اور اسکا اتنا زبردست بائیکاٹ کردیا کہ جنگ تک نوبت آنے کو تھی۔ صرف اس لئے کہ اس ملک کے دل میں دنیا کے مظلوم اورسچے پکے مسلمانوں (مطلب تحریکوں ) کے لئے تعلق سے نرم نقیب ہے، اسکا بھی حال سن لیجئے۔ وہ ایک ایسے سفاک شخص وملک کا سب سے بڑا محافظ اورحواری بنا ہوا ہے جس نے تقریباً روہنگیاں مسلمانوں کی کل آبادی کے برابر اپنے ہی شہریوں کو ہلاک وہ تباہ وہ برباد کردیا ۔ اورجو مسلمانوں کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی خانہ جنگی کا سبب بنا ہوا ہے ۔ یعنی اس قرآنی حکم جس میں کہا گیا کہ مومن کا فروں پر بہت سخت اورزور آور ہیں آپ میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں ۔ جس کو اقبال نے اشعار میں بیان کیا کہ
ہو حلقہ ءیاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق وباطل ہوتو فولاد ہے مومن
اس کے بالکل برعکس رویہ ایک ملک وہ بھی ہے جسے اللہ نے اتفاق سے تمام ممالک میں واحد ایٹمی طاقت کادرجہ دے دیا ۔ اسے اپنے حیثیت کاپتہ ہی نہیں ہے یاتو اس نے اسے پٹاخہ سمجھ لیا ہے یا اسے کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا ہے کہ کیا کریں ۔ خوشی کااظہار کروں یا غم کا ۔ یعنی خواب خرگوش سے جاگنے کو تیار ہی نہیں ہے۔ اسکا حال اس لنگور کی طرح ہے جس کے ہاتھ حور لگ جائے اور وہ اس کے خمارسے اس وقت تک باہر نہیں آئے، جب تک کہ طوفان ہر چیز کو تہ وبالا کرکے اجاڑ نہ دے ۔ باقی ماندہ ملکوں کا شمار وقطارہی کہاں ؟

About Abdul Rehman

Leave a Reply