المسلمون جسدالواحد(تمام مسلمان ایک جسم)

از:۔م دثراحمد،ایڈیٹر روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ ،کرناٹک:9986437327
پچھلے دو تین مہینوںسے سوشیل میڈیا پر برما میں ہورہے مسلمانوںکے قتل عام کے تعلق سے مسلسل تصاویر ،خبریں اور ویڈیو زباز گشت کررہی ہیں۔ان ویڈیوز اور تصاویر کو دیکھنے کے بعد ہر ایک انسان کا دل پگل رہا ہے او ریہ انسان اس بات کو سمجھ نہیں پار ہا ہے کہ آخر انسانوں کی اس دنیا میں ہوکیا ہورہا ہے۔جس وقت امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پنٹاگن پر دہشت گردوں کاحملہ ہو اتھا،اس وقت ساری دنیا میں انسانیت اور انسانی ہمدردی کا حوالہ دیتے ہوئے دہشت گردوں کی شدید مذمت کی گئی تھی بلکہ جوابی کارروائی میں دہشت گردوں کو افغانستا ن میںچھپے ہونے کی شبہات کی بناءپر امریکہ اور اس کے ساتھی ممالک نے ایک ساتھ حملہ کردیا،جس کے نتیجہ میں لاکھوں بے گناہ آج بھی موت کے گھاٹ اتارے جارہے ہیں۔امریکہ پرجن دہشت گردوںنے حملہ کیا تھا،اُن کا خاتمہ ہوا یا نہیں یہ الگ بات ہے ،لیکن جوابی کارروائی میں افغانستان کے ہزاروں بچے یتیم ہوئے،ہزاروں عورتیں بیوہ ہوئیں،سینکڑوں لوگ آج بھی جسمانی طو رپر اپاہج ہوکر زندگی گذار رہے ہیں۔افغانستان،عراق،سیریا،فلسطین،نائجیریا،لبنان جیسے ممالک میں جب بھی کوئی دہشت گردانہ واردات ہوئی،اس پر امریکہ نے انسانیت پر حملہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے آن کی آن میں حملے کئے اور اپنے آپ کو ”دی باس“ بنا دیا۔اس کے علاوہ ہندوستانی حکومتوںنے بھی وقتاًفوقتاً دہشت گردانہ حملوںکی نہ صرف مذمت کی بلکہ دہشت گردانہ سرگرمیوںکی روک تھام کیلئے اپنی افواج اور اپنی امداد بھی روانہ کی۔
لیکن جب بات برما میںہورہے خونی کھیل کی ہوتو ساری دنیا پر ایک طرح کی خاموشی چھائی ہوئی ہے،سوائے ترکی و بنگلہ دیش کے اور کوئی ملک برمی مسلمانوں کا ہمدرد بننے کیلئے آگے نہیںآرہا ہے۔ہندوستان سے برمی مسلمانوںکی بقاءو تحفظ کے تعلق سے تو امید کرنا ہی بیکار ہے،کیونکہ دو سال قبل جب برما کے کچھ مسلمان ہجرت کرتے ہوئے ہندوستان میں پناہ لئے ہوئے تھے تو اس وقت ہندوستانی حکومت نے انہیں خاموشی سے آنے کا موقع دیا،اب جبکہ انتخابات قریب ہیںاور مودی حکومت کے پاس انتخابات کیلئے کوئی ایجنڈا نہیں ہے تو ایسے میں برماکے مسلمانوں کو انتخابی ایجنڈے کے طور پر استعمال کرنے کی تیارکی جارہی ہے۔اب برمی مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کیلئے مرکزی حکومت احکامات جاری کررہی ہے اور ان احکامات کو لیکر اپوزیشن جماعتیں بھی سیاست کرنے کے پورے موڑ میںنظر آرہی ہیں۔
اب رہی بات مسلم سماج کی،دنیا میں56 مسلم ممالک ہیںاور ہر ایک ملک اپنے آپ میں الگ مقام رکھتا ہے،مسلمانوںکا مرکز قرار دینے والے سعودی عرب نے برمی مسلمانوںکے تعلق سے جو سوتیلا رویہ اختیار کیا ہے وہ تاریخ کا سب سے شرمناک باب قرار دیا جاسکتا ہے۔جس وقت اسپین میں ایک عیسائی عورت کی عزت لوٹی گئی اور مسلمانوں سے مدد طلب کی گئی توکیا طارق بن زیاد امدادی ٹیم لیکر اسپین پہنچے؟جب راجا داہر نے چند مسلمانوںکو قید کیا تو کیا محمد بن قاسم امدادی ٹیم لیکر وہاں پہنچے؟جب بغداد کی ایک مسلمان عورت کو یہودی تھپڑ مارتا ہے او روہ مدد کیلئے پکارتی ہے تو معتصم باللہ امدادی ٹیم لیکر وہاں پہنچے؟نہیں بلکہ مسلم افواج نے المسلمون جسدالواحد(تمام مسلمان ایک جسم) پرعمل کرتے ہوئے کفار کے علاقوں کو فتح کیا۔آج مسلم حکمران برما کے ہزاروں کے شہداءکے خون کابدلہ لینے کے بجائے امدادی ٹیموں کو روانہ کررہے ہیںاور برما میںخون سے لت پت مسلمانوںکیلئے چند بوری چاول اور اناج دیکر ان کی مدد کرنے کادعویٰ کررہے ہیں۔غور طلب بات یہ بھی ہے کہ چند مسلمانوںنے ایک مقام سے دوسرے مقام کے مسلمانوں کابٹوارہ کرلیا ہے،جس طرح سے کُتے اپنے علاقوں کا بٹوارہ کرلیتے ہیں۔آج مسلم قوم شائد یہ بھول گئی ہے کہ مسلمانوںکیلئے ساری دنیا ملک ہے ،اس کیلئے حدیں نہیںہیں۔جب اللہ نے مسلمانوں کوخلافت دی تو اس نے ساری زمین کی خلافت دے رکھی ہے،نہ کہ کسی ملک یا علاقے کی!۔حالیہ دنوںمیں جب بھی مسلمانوں پر حملے ہورہے ہیں تو ہم مسلمان یہ کہہ کر خاموشی اختیارکررہے ہیں کہ یہ تو فلسطین کامعاملہ ہے،یہ تو برما کا معاملہ ،یہ تو پاکستان کا معاملہ ہے اور یہ چین کے مسلمانوں پر لگائی جانے والی پابندی ہے۔اس طرح سے ہم مسلمانوںنے پوری طرح سے مسلمانوں کابٹوارہ کرلیا ہے۔
جب امدادکی بات آتی ہے تو ہمارے یہاں بڑی ہی شان کے ساتھ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ برماکے مسلمانوںکیلئے ترکی نے اتنے ہزاروں ٹن اناج جاری کیا،ایران نے اتنی ادویات برماکیلئے روانہ کی ہیں،انڈونیشیا کی سفیر برماکے دورے پر گئی ہوئی ہیں۔حیرت ہے مسلمانوںکی اس سوچ پر کہ جس جگہ خون بہایا جارہا ہے وہاں خون کا بدلہ خون سے لینے کے بجائے فوڈ پیاکیجس کی تقسیم کررہے ہیں تو دوسرے جانب کچھ مسلم علماءاور مفکرین برمی مسلمانوںکی حالت کے ذمہ دارخودانہیں کو ٹہرا رہے ہیں،برمی مسلمانوں کے اعمال کو اس طرح سے گنا رہے ہیں جیسے کہ قبر کے فرشتے ہیں یا پھر حشر کے میدان میں میزان پکڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔بعض لوگ جو اپنے آپ کو سوشیل میڈیا کے ماہرین مانتے ہیں وہ سوشیل میڈیا پر ا سطرح کی ویڈیوز پوسٹ کررہے ہیں جیسا کہ وہ برما میں زمینی سطح پر کام کرتے ہوئے رپورٹنگ کررہے ہیں۔سب سے دلخراش ویڈیوز وہ ہیں جو سعودی حکومت کی حمایت میں جاری کئے جارہے ہیں۔سعودی عرب برمی مسلمانوں کی خاطر کیا کررہا ہے یہ ساری دنیا اچھی طرح سے جانتی ہے۔ایسے میں جب عام مسلمان سعودی حکومت کی تنقید کررہی ہے تو کچھ لوگ جو سعودی حکومت سے وظیفے لیتے ہیں یا پھر ان کے چندوں پر اپنے دھندے چلاتے ہیں وہ سعودی کی کھلی حمایت میں میدان میں اترچکے ہیں۔جس وقت قطر پرسعودی حکومت سے پابندی عائد کی گئی تھی،اس دوران بھی ایسے وظیفہ خور مبلغین نے سعودی حکومت کی جھوٹی تشہیر کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔آج پھر ایک مرتبہ جب برما کے مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے،وہاں کے معصوم بچوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے،عورتوں کی عزتیں تار تار کی جارہی ہیں،ایسے وقت میں مسلمانوں کو سخت سے سخت قدم اٹھانے کے بجائے ایک دوسرے کی واہ واہی کرنے کیلئے کوششیں کررہے ہیں۔
مسلمانوں کاخون اتنا سرد ہوچکا ہے ،آج ہمیں اس بات کااحساس ہونے لگا ہے۔کچھ سال قبل تک مسلمانوں میں یہ رحجان پایا جاتا تھا کہ جب کسی مسلمان کو کوئی قوم نہ حق تکلیف پہنچاتی تو دوسرے علاقے کے مسلمان اس مسلمان کا بدلہ لینے کیلئے دوڑ پڑتے یا پھر اپنے علاقے میں موجود اُس قوم کے لوگوں سے بدلہ لیتے۔لیکن آج ایک محلے سے دوسرے محلے کے مسلمانوں کے درمیان بٹوارہ ہوچکا ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ہم دوسرے ممالک کے مسلمانوں کے حق کیلئے لڑسکیں۔ضرورت آج اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کے حق کیلئے سڑکوں پر اترآئیں اور ا س تعلق سے ایسی تحریک چھیڑیں کہ اگلے پچاس سالوں تک مسلمانوں پر کوئی نظر تک اٹھا کر نہ دیکھے۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply