ایک گوری ہی نہیں

از:۔مدثراحمد،:9986437327
جس وقت نبی کریمﷺ نے مکہ میںرہ کر اسلام کی تعلیمات کو عام کرنا شروع کیا ،اُس وقت ان کے ساتھ ان کے اہل خانہ کے علاوہ مکہ کے کچھ قبیلے اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے،آپﷺ کے جتنے رفیق تھے اُتنے ہی اُتنے ہی رقیب بھی تھے۔ابوجہل اورابولہب جیسے کئی لوگ آپﷺ کے جان کے دشمن بن گئے تھے۔ایسے میں حضرت محمد مصطفےٰﷺکے چچا ابوطالب اسلام میں داخل نہ ہونے کے باوجود وہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺکی مکمل تائید کرتے تھے۔انہیں ان کے دشمنوں سے بچانے اور دینِ اسلام کی تبلیغ کیلئے کو سہولیات فراہم کرنے چاہےے تھی وہ کرتے رہے۔آپﷺ کے وہ ہمیشہ خیرخواہ رہے۔اسی طرح سے آج بھی ہم مسلمانوں کے نازک حالات کے دوران کچھ لوگ جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور وہ غیر مسلم رہ کر بھی انسانیت کیلئے آوازا ٹھاتے رہے ہیں،اُن کاساتھ لینے کی ضرورت ہے۔حال ہی میں ریاست کی معروف صحافی و مفکر گوری لنکیش بھی ایسی ہی صلاحیتوںکی حامل تھیں،یہ خاتون ہوکر بھی ہمیشہ مردوںکی طرح انسانیت کی بقاءاور انسانی حقوق کی خاطر آواز اٹھا تی رہیں،کئی موقعوں پر انہوںنے فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھا م اور فرقہ وارانہ فسادات کے مظلومین کی مددکیلئے گوری لنکیش کا تعاون بہت بڑا رہا ۔حالانکہ ان کے بارے میں مسلمانوں کوبہت کم ہی علم ہے کیونکہ آج کل مسلمان ایسے لوگوںکو کم ہی اہمیت دیتے ہیں۔گوری لنکیش کی طرح ہی سوامی اگنی ویش،تیستا سلواڑ،اروندھتی رائے،شوبھا ڈے،برکھا دت،رویش کمار،کے ایل اشوک، کنیہا کمار،اگنی شریدھر،رام پنانی جیسے اور بھی کئی لوگ ہیں جو ہمیشہ مسلمانوںو دلتوںکی حمایت میں آواز اٹھارہے ہیں۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہماری قوم ایسے لوگوں کواپنا رہبر یا نمائندہ ماننے کے بجائے اُن لوگوں کو قائد قرار دیتے ہیں جو آن کی آن میں مسلمانوںکی سودے بازی کرتے ہیں۔یقینا گوری لنکیش جیسی ایک بہادر عورت ساری ریاست کیلئے نہیںبلکہ انسانیت کیلئے ایک مثال ہے۔کچھ لوگ اپنے آپ سے زیادہ دوسروںکیلئے جیتے ہیں،ان میں سے گوری لنکیش بھی ایک ہیں۔اگر یہ چاہتی تو ان کی صلاحیتوں کی بناءپر بڑے سے بڑے سیاسی یا سرکاری عہدے پر فائزہوکر اپنے مفادات کو بڑھاوا دے سکتی تھیں،لیکن انہوںنے دوسروںکے مفادات کی خاطر اپنے آپ کو قربان کیا۔ایک صحافی کی زندگی اپنے لئے نہیں ہوتی بلکہ دوسروںکیلئے وہ جیتے ہیں۔صحافی یا رپورٹرس کے تعلق سے بہت سے لوگ غلط فہمیوں کا شکارہیں،اکثر اس پیشے سے جڑے ہوئے صحافیوںکے تعلق سے کچھ لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ انہیں اس پیشے میں اگر اتنی ہی تکالیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو تو وہ اس پیشے کو چھوڑ کر کوئی اور پیشہ یا تجارت کرلیں،ایسے مشورے ہمیں بھی خط یا فون کے ذریعے سے موصول ہوتے رہتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں وہ اپنے لئے زندگی گذارنے والوںمیں سے ہیں۔گوری لنکیش کی طرح ہی ہر ایک صحافی کی زندگی ہمیشہ طلاطم میں گذرتی ہیں۔جب یہ لوگ اپنے پیشہ سے جڑ جاتے ہیں تو اپنی زندگی کو بہتربنانے کے بجائے سماج کوبہتر بنانے کیلئے کام کرتے ہیں،اپنے و اپنی فیملی کو ترجیح دینے سے زیادہ اپنے پیشے کو ترجیح دیتے ہیں،لوگوں سے ”چھی ۔تھو“سننے کے بعد بھی لوگوںکی تعریف کرتے ہیں۔جس وقت سب سے سوئے ہوتے ہیں اُس وقت وہ جاگتے ہوئے سماج،قانون اور معاشرے پر نگاہ رکھتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ کہیں کچھ غلط نہ ہورہا ہو،لاشیں گرنے کا خوف ہوتوتب بھی وہ اپنی ذمہ داری سے منہ نہیں موڑتے۔غریبوں،مسکینوں،پسماندہ طبقات،دلتوں کی خاطر اپنے آپ کو انہیں کے معاشرے میں ڈھالتے ہیںاو ریہ نہیں چاہتے کہ ان کے قدموںمیںمال دولت آپڑے۔آج گوری لنکیش کی موت ایسے معاشرے وپیشے کیلئے سب سے دردناک بات ہے،ہم یہ نہیںجانتے کہ ایسی سوچ اور قلم رکھنے والے اور کتنے گور ی یا پنسارے موت کے گھاٹ اتاریں جائینگے،یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ہمارا معاشرہ ایسی افراد کی موتوں کو صرف سوشیل میڈیامیں تبصروں تک محدود رکھا گیا ہے۔اگر واقعی میں ایسے لوگوںکی بقاءچاہتے ہیں تو ہمارے سماج کو چاہےے کہ ایسے ظلم وستم کے خلاف مثبت جواب دینے کیلئے ایسے لوگوں کاتعاون کریں اور ان کا ساتھ دیں۔ایک گوری لنکیش کے قتل سے انسانیت کاپیغام ختم نہ ہوگااور بھی کئی گوری ہمارے درمیان موجود ہیں،ان کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...