برما کی مظلوم مسلمان بیٹی۔۔۔۔۔۔

 

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی
بستی میں خوف و ہراس پھیل چکا تھا ، خوف کے سبب کلیجے منہ کو آگئے۔۔۔۔چاروں طرف سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے۔
مائیں اپنے بیٹوں کو دیکھ رہی تھی جو کچھ ہی دیر بعد بے رحمی سے ذبح کر دئیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔خوف زدہ نگاہوں نے بیٹیوں کے وجود کا طواف کیا ہزار ضبط کے باجود ماو¿ں کی چیخیں نکل گئیں۔۔۔۔کچھ ہی دیر میں سفاک درندے بستی میں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔مکروہ چہروں سے چھلکتی سفاکی بے بس نوجوانوں کو ذبح کرنے کے بعد مسلم دوشیزاو¿ں کے جسم کو اپنی درندگی کا شکار بنانے کو تیار تھی۔۔۔۔۔۔نومولود بچوں کو جلتی ہوئی آگ میں پھینکا جا رہا تھا۔۔۔۔
تم کیوں میر ی جان لینا چاہتے ہو ؟بے بس مسلمان بہن جس نے ابھی ابھی اپنی نگاہوں کے سامنے اپنے باپ اور بھائی کو ان درندوں کے ہاتھوں ذبح ہوتے دیکھا تھا۔۔۔۔برما کی مظلوم مسلمان بیٹی ،ان ظالموں سے پوچھ رہی تھی۔
تم محمدﷺ کا کلمہ پڑھتی ہو۔۔۔۔تم مسلمان ہو۔۔۔تم یہ کلمہ پڑھنا چھوڑ دو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔۔۔۔۔۔
یہ دین تو مجھے جان سے بھی زیادہ پیار ا ہے اس کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں ہم نے تمہیں تو کچھ نہیں کہا۔۔۔۔تمہارے مذہب پر انگلی بھی نہیں اٹھائی پھر تم کیوں ہمیں زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے؟۔۔۔۔۔کیوں ہم مظلوموں کو مارتے ہو ؟۔۔۔۔۔ کیا بگاڑا ہے ہم نے تمہار ا؟
اتنی حق گوئی۔۔۔۔اتنی جرا¿ت وہ بھی بدھ مت کے سفاک پیروکارو ں کے سامنے ؟
اس عورت کی عزت کو تار تار نہیں کیا گیا بلکہ اس کی وڈیو بھی بنائی گئی۔۔۔۔۔۔اس نے روتی ہوئی آ نکھوں ،درد و الم سے چور چور وجود کے ساتھ کہا: تم نے میرے باپ بھائی اور ماں کو میرے سامنے قتل کیا لیکن تمہاری درندگی کی آگ نہیں بجھی ،پھر تم نے میری عفت و عصمت کو تار تار کر دیا اب کم از کم اس کی وڈیو تو مت بناو¿۔۔۔۔۔۔
درندوں کے قہقہوں سے بستی گونج اٹھی ارے او بنتِ اسلام ! اس وڈیو کو سوشیل میڈیا پر ڈالیں گے پھر ساری دنیا میں موجود تیرے مسلمان بھائی اس کو دیکھ کر تڑپیں گے اس لذت کااپنا مزہ ہے۔۔۔۔ مسلمانوں کی تڑپتی لاشوں کو دیکھنے میں جومزہ ہے وہ رقصِ طوائف اور سرورِ شراب میں بھی نہیں۔۔
اب محمد بن قاسم ،صلاح الدین ایوبی جیسی غیرت کسی مسلمان میں نہیں رہی ،یہ کہہ کر ان درندوں نے تیز دھار برچھی اس لڑکی شرمگاہ میں ڈال دی اور بنت ِ اسلام کی فلک شگاف چیخوں پر قہقہے لگانے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں ہو مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزم لگانے والو؟
کہاں ہیں وہ سیکولر ولبرل دانشور جو ہمہ وقت اسلام کے خلاف بکواس کرتے رہتے ہیں ؟۔۔۔۔۔۔کچھ منافقت ہی سہی ان مظلوم مسلمانوں کے لیے تم بھی لکھ دو۔۔۔۔آسیہ ملعو نہ کی حمایت میں تو تمہارا قلم خوب گرجتا اور برستا ہے بنات ِ اسلام کی چیخوں پر تمہارا قلم کی رفتار مدھم کیوں ہو جاتی ہے ؟۔۔۔پیرس کے اخبار پر حملہ خوب ہائی لائیٹ کیا جاتاہے روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر تمہارے لب کیوں سل جاتے ہیں ؟
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے
ایک انسان کی جان کی حرمت کعبے کی حرمت سے زیادہ ہے۔
تو اے غلافِ کعبہ سے آنکھیں مس کرنے والے مسلمانو!
اے حجراسود کے عاشقو !۔۔۔۔۔اپنے لبوں سے کعبے کو چومنے والے مسلمانو!
سوشیل میڈیا پر موجود سینکڑوں وڈیو ز موجود ہیں میانمار میں مسلمان بچوں کا گوشت کاٹ کر بدھسٹ کھا رہے ہیں۔۔۔۔۔خواتین کی عفت و عصمت کو تار تار کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔سفاکی ودرندگی کی انتہا ہو چکی ہے مگر اقوامِ متحدہ خاموش۔۔۔۔یورپین ممالک خاموش۔۔۔۔مسلم ممالک بزدلی ،کم ہمتی کی چادر سے منہ ڈھانپے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔
احبابِ من ! میری آواز کو طاقت دے دیجیے۔۔۔۔۔اس آواز کو آپ میرے ساتھ مل کر بلند کیجیے۔
علماءکرام!!!!!!!!!!! آواز بن جائیے روہنگیا کے مسلمانوں کی۔۔۔۔۔پوری ہمت جرا¿ت اور قوت کے ساتھ عید الالضحیٰ کے خطبے میں ان مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کیجیے اسلامی ممالک کی قیادت کو برانگیختہ کیجیے کہ وہ اپنی فوج کو برما کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے بھیجیں۔۔۔۔عالمی سطح پر ان مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کی جائے اور مسلمانوں کے لیے اندھی بہری اقوام متحدہ کو جھنجھوڑا جائے یا پھر عام مسلمانوں کو جہاد کی عام اجازت دی جائے کیونکہ قرآن کا یہ ہی حکم ہے۔
اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے۔آئیے آواز بنئے ! برما کے مظلوم مسلمانوں کی۔۔
ہر سمت مچلتی کرنوں نے افسوںِ شبِ غم توڑ دیا
اب جاگ اٹھے ہیں دیوانے دنیا کو جگا کر دم لیں گے
ہم امن و سکوں کے داعی ہیں سب ظلم مٹا کر دم لیں گے
ہم حق کا نشاں ہیں دنیا میں باطل کو مٹا کر دم لیں گے
یہ بات عیاں ہے دنیا پر ہم پھول بھی ہیں تلوار بھی ہیں
یا بزم جہاں مہکائیں گے یا جامِ شہادت پی لیں گے۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply