بیچ کر تلواریں خرید لئے م±صلے تم نے بہن بیٹیاں لُٹتی رہیں اور تم صرف دعائیں کرتے رہے

از:۔احساس ِنایاب
مانا دعاو¿ں میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ پر یاد رکھیں جب دعائیں قبول نہ ہوں تو یہ اللہ کی طرف سے اشارہ ہے کہ ابھی دعاو¿ں کے ساتھ اعمال کی بھی ضرورت ہے۔ ہم مسلمان اس اشارہ کو کیوں سمجھ نہیں پارہے۔ آخر ہم پہ ایسی کونسی غفلت سوار ہے،ایسا کونسا ڈر ہم پہ حاوی ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ہم تماشبین بنکر چپی سادھے بیٹھ گئے ہیں۔ خدا کےلئے جاگ جاو¿ اپنی اس چ±پی کو توڑو ماں, بہنوں کولوٹنے سے بچالو۔آج سارا عالم دعاگو ہے۔ ہر ایک کے چہرے پہ درد کا ماتم بسرا ہے، تمہاری بہنوں کی نظروں میں ابھی بھی تم سے کئی امیدیں ج±ڑی ہیں کہ تم میں سے کوئی محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی بنکر اس ظلم و ستم سے نجات دلائیگا ۔ آج ان مظلوموں کی سسکتی ہوءآئیں انکی فریاد تمہیں پکار رہی ہیں ،یاد رکھو مظلوموں کی درد اور آہ بھری دعاو¿ں میں غضب کی طاقت ہوتی ہے،آج فلسطین اور برما کے مظلوم بے بس لاچارمسلمانوں کی دعائیں انکی تڑپتی ہوئی چیخ وپکار عرش سے جا ٹکرارہی ہیں، پر اب تک قبولیت کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔ یوں تو ظلم و ستم کی یہ داستان بہت طویل ہے پر کچھ عرصوں سے اس میں جو شدت آئی ہوئی ہے اس سے انسانیت شرمسار ہوچکی ہے ، شاید یہ خدا کی طرف سے ہم مسلمانوں کے کوئی اشارہ ہے۔ شاید خدا کی طرف سے آج ہم مسلمانوں کےلئے جہاد کا حکم ہورہا ہے۔ یہ ہمارے ایمان کی آزمائش ہے۔ ہم مسلمانوں کےلئے سخت امتحان کا وقت ہے۔ اپنے ایمان اور حقوق العباد کو ثابت کرنے کا یہی موقعہ ہے ،اپنی دعاو¿ں کو مسجدوں گھروں کے م±صلّوں تک محدود نہ رکھیں کیونکہ ہماری دعائیںتو حق اور باطل کےلئے آٹھی تلواروں کے سائے میں ہونی چاہئے، جس سے ہم دونوں جہانوں میں فلاح پاسکیں ۔
آج مسلمانوں کی پسماندہ حالات کے ذمیدار کہیں نہ کہیں ہم مسلمانوں کی کوتاہیاں ہیں، بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ہمیں جب ہم مسلمانوں پہ ہورہے ظلم وستم دیکھتے اور سنتے ہیں دل خون کے آنسو روتا ہے۔ معصوم بچوں کی لاشیں دیکھ روح کانپ اٹھتی ہے۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاجاتا ہے۔ دل کرتا ہے ساری دنیا کو آگ لگادیں۔ سب کچھ جلا کر راکھ کردیں پر افسوس ہم بے بس اور لاچار ہیں چاہ کر بھی کچھ کر نہیں پاتے۔ ہمیں اپنی اس بے بسی اور لاچاری کی وجہ خود کے وجود سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ لعنت بھیجتے ہیںہم خود پہ اور ساری دنیا کی خاموشی پہ خاص کر دنیا بھر کے تمام مسلمان حکمرانوں، رہنماو¿ں کی خاموشی پہ جو خو کو بہت بڑے تونگر طاقتور سمجھتے ہیں پر آج ایک چھوٹی سے ملک کے آگے کمزور پڑچکے ہیں تعجب ہوتا ہے ہمیں عالمی حقوق کے الم بردار داویدار بڑی بڑی طاقتوں پہ جو اس ظلم و بربریت کے تماشہ بین بنے ہیں کیا آج مرچکی ہے انکی غیرت ؟؟ اور افسوس ہوتا ہے اپنے نام کے علماو¿ں، رہبروں کی سوچ پر، جو ظلم وستم کی انتہا، وحشت کا ننگا ناچ دیکھتے ہوئے صرف صبر اور دعاو¿ں کی گزارش کرتے ہیں وہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہر صبر کی انتہا ہونی چاہیے ، اگر ہمارے بزرگانے دین، صحابہ اکرام صرف صبر کی تصبیح پڑھتے بیٹھ جاتے تو آج ساری دنیا میں اسلام کا بول بالا نہیں ہوتا، ساری دنیا میں اسلام نہیں پھیلتا، صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے، جب ظلم وستم اپنی حدیں پار کانے لگیں تو ا±س وقت ہمیں بھی صبر کو توڑ کر دشمن کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے مرنے مارنے کا وقت ہوتا ہے۔
میانمارمیں آج ہمارے روہنگیا مسلمان بھائی بہنوں، بچوں اور بزرگوں کا قتلِ عام ہورہا ہے ،جو انسانیت اور قدرت کے خلاف ہے،جس سے آج ساری دنیا واقف ہے پھر بھی کوءکچھ نہیںکرپارہے ۔جبکہ ہر ملک میں ہرشہر کی ہر گلی میں حتیٰ کے بچوں کی زبانوں پہ مذمت ہونے کے باوجود اس قتلِ عام کو کیوط روکا نہیں جارہا ہے۔آخر اسکی وجہ کیا ہے ؟ کیوں ہم مسلمانوں کی جانوں کا کوئی مول نہیں؟ کیوں ہمیں بھیڑ بکیریوں کی طرح سرعام دوڑا دوڑا کر کاٹا جارہا ہے،زندہ جلایا جارہا ہے، جیتے جی بڑے بڑے گڈھوںمیں دفنایا جارہا ہے۔ عورتوں کو برہانہ کر کہ درختوں پہ لٹکایا جارہا ہے۔معصوم بچوں کو دریاو¿ں میں ڈوبر کر انکے جسموں کو چھری،خنجروں سے چیر کر انہیںاس طرح کی اذیتیں کیوں دی جارہی ہیں ان معصوموں کا کیا قصور ہے جو انہیں اتنا تڑپارہے ہیں، ان بلکتے بچوں کو دیکھ انکی ساری کائنات لرز رہی ہوگی۔ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں آج اس کے بندوں کےلئے زمین تنگ کردی گئی ہے ،انہیں اپنے ہی گھروں سے بے گھرکیا جارہا ہے اور کوئی بھی ملک انہیں پناہ دینے کےلئے بھی تیار نہیں ہے۔ آخر یہ کس دورِ جہالت میں ہم جی رہے ہیں اور یہاں ہمارے علمائ، رہنما اورحکمران اپنی کوتاہیوں کو ڈھانپنے کیلئے اس دوسرے کی خامیوں کو گنوارہے ہیںیا صبر کے چادر میں چھپ رہے ہیں۔ اپنے عالیشان بنگلوں میں بیٹھ کر بیان بازیاں کرنا، مظلوموں اور جھنجلائی ہوئی عوام کو صبر کےلئے کہنا بہت آسان ہے، پر کبھی ان بے بس مظلوموں کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیں۔ انکا درد خود محسوس کر کے دیکھیں۔ انکے کٹے ہوئے بچوں کی جگہ کچھ پل کےلئے اپنے بچوں کا تصور کر کے دیکھیں۔ سرعام جن عورتوں کی عزتیں پامال کی جارہی ہیںانہیں دل سے اپنی بہن،بیٹوں کی طرح انکے بارے میںسوچین ۔دوسروں کے درد و تکالیف میں صبر کی بات کرتے ہیںپر جب خود کے گلے پہ چھری چلائی جائے، آنکھوں کے آگے سجے سجائے آشیانے جلائے جائیں، ہماری غیرت کو للکارتے ہوئے سرعام نظروں کے سامنے ہماری ماں بہنوں کی عزتوں کے ساتھ کھیلا جائے ۔انکے برہانہ جسموں کی نمائش کرتے ہوئے ان کے عضو کو کاٹا جائے۔ اس وقت صبر کےلئے کہنا بیوقوفی ہماری کمزوری اور نامردانگی ہے۔ یہ وقت تو جہاد کرنے اپنوں کے خاطر تمام اختلافات کو ختم کرتے ہوئے ایک ج±ٹ ہوکر ظالم کا خون بہاتے ہوئے ظلم و ستم اور ناانصافیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے شہادت حاصل کرنے کا وقت ہے۔ م±صلّوں پر بیٹھ کر آنسو بہت بہا چکے۔ ابھی آپ سبھی کو خدا کا واسطہ ا±ٹھ جائیں۔ اپنے سوئے ہوئے وجود کو جگائیں اور محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی بن کر مظلوموں کے حق میں اپنی شمشیریں اٹھائیں۔۔اگر نہیں اٹھا سکتے،اگر ابھی بھی آپ میں صبر باقی ہے تو ہم عورتوں کےلئے جہادی فتوے کا اعلان کریں اور ہم عورتوں پہ جہاد فرض بنادیں تاکہ ہم اپنی تمام بندیشوں کو توڑ کر حقوق العباد کےلئے اپنے فرض کو نبھاسکیں اور حق کی خاطر قوم کےلئے اپنا خون بہا سکیں اور انشااللہ ہم اپنے قول سے پیچھے نہیںہٹے گیں اور نہ ہی خون بہانے سے کترائینگے ، کیونکہ جب جب زخم وہاں ہوتا ہے تو تکلیف یہاں ہوتی ہے، عزتیں پامال وہاں کی جاتی ہیں اور ہر عزت کے ساتھ ہم شرمسار ہوتے ہیں۔ معصوم بچوں کی چیخ و پکار ہمارے وجودکو جھنجوڑتی ہیں ۔اب اور برداشت نہیں ہوتا اس طرح ساری دنیا کے آگے ذلیل ہوکر ہر دن مرنے سے بہتر ہے ایک ہی گھ±ٹ میں شان سے دشمن کا خاتمہ کرتے ہوئے جامِ شہادت پیئں۔

 

 

About Abdul Rehman

Leave a Reply