روہنگیائی مسلمانوں سے ہمدردی کے ساتھ

روہنگیائی مسلمانوں سے ہمدردی کے ساتھ
مہاجر، انصار کے رشتے کے احیاء کی ضرورت

از : ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز‘ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘ حیدرآباد۔ فون:9395381226

روہنگیائی مسلمانوں پر از سرے نو تشدد‘ نسل کشی کے واقعات تو افسوسناک ہیں ہی‘ تاہم اس سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ ان کے لئے بعض پڑوسی ریاستوں نے اپنی سرحدوں کو بند کردیا۔ بنگلہ دیش کے بشمول دوسرے ممالک سے ترکی اور سعودی عرب نے اپیل بھی کی ہے اور بے سرو سامان پناہ گزینوں کی کفالت کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان بھی کیا ہے‘ اس کے باوجود ہرگزرتے ہوئے لمحہ کے ساتھ حالات سنگین ہوتے جارہے ہیں۔
روہنگیا دراصل ایک بولی ہے جو شمالی رخائن یا مغربی برما کے پانچ صوبوں میں بولی جاتی ہے اور گیارہ لاکھ مسلمان روہنگیا بولی بولتے ہیں۔ برما یا مائنمار میں یوں تو 20% مسلم آبادی ہے تاہم نسل پرست بدھسٹوں نے مردم شماری میں انہیں 4فیصد تک محدود کردیا ہے۔ برمی مسلمانوں کی کئی اقسام ہیں جن میں سے صرف روہنگیائی بولی بولنے والے مسلمانوں کو حکومت نے اپنے ملک میں رہنے بسنے والی 135نسلی گروپس میں شامل نہیں کیا جبکہ کامعین مسلمانوں کو جو رخائن اسٹیٹ میں بستے ہیں حکومت نے مسلم اقلیت کے طور پر تسلیم کیا ہے‘ ان کے علاوہ رنگون میں رہنے والے وہ مسلمان جو ہندوستانی مسلمانوں کی اولاد ہیں‘ برمی۔چین مخلوط نسل جنہیں ’’پانتھے‘‘ کہا جاتا ہے۔ ملیشیائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان جنہیں ’’پاشو‘‘ کہتے ہیں۔ اور ’’زربادی مسلمان‘ جن کا تعلق جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ سے ہے۔ تاریخ کے اوراق کا جائزہ لیا جائے تو برما (مائنمار) اور مسلمانوں کا تعلق بڑا قدیم ہے۔ نویں صدی عیسوی سے یہاں مسلمانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ نویں صدی میں ایرانیوں نے تیرہویں صدی میں منگولوں نے برما پر حملے کئے۔ اور یہاں کے عوام سے رشتہ بھی قائم کیا۔ چنانچہ آثار قدیمہ کی کھدوائی کے دوران جو سکے برآمد ہوئے ان پر قرآنی آیات کے علاوہ خلفائے راشدین کے نام کندہ تھے۔
انیسویں صدی میں چینی علاقہ ’ینان‘ کے شاہ سلیمان کے عطیہ سے یہاں مسجد بھی تعمیر کی گئی۔ تاہم اس سے بہت پہلے سولہویں صدی عیسوی میں یہاں کے بدھ حکمراں باینانگ نے ذبیحہ پر پابندی عائد کردی تھی کیوں کہ بدھ مذہب میں جانوروں کی قربانی منع ہے۔
تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمان نشیب و فراز سے گزرتے رہے‘ تاہم بیسویں صدی کے اوائل میں جب برما میں برطانوی سامراج کو اندازہ ہونے لگا کہ یہ ملک ان کے ہاتھ سے نکلنے والا ہے تو انہوں نے یہاں بھی مسلم۔بدھ نفرت کی دیوار کھڑی کردی۔ 1930ء میں برمی بدھسٹوں کی مخالف ہند تحریک‘ مسلم مخالف تحریک میں بدل گئی۔ برما صرف برمی عوام کے لئے تحریک کا آغاز ایک مسلم بازار پر حملہ سے ہوا اور پھر بدھسٹوں نے 113 مساجد کو نقصان پہنچایا۔
1945ء میں برطانوی سامراج سے آزادی کے بعد یونین سٹی زن ایکٹ منظور ہوا۔ تب ہی سے برمی مسلمانوں کے بدترین دور کا آغاز ہوا۔ 1962ء میں تمام شہریوں کے لئے نیشنل رجسٹریشن کارڈ کا لزوم ہوا۔ روہنگیائی مسلمانوں کو فارن کارڈ جاری کئے گئے جس کی وجہ سے تعلیم اور روزگار کے مواقع سے محروم کردیا گیا۔
1982ء سے تو انہیں غیر ملکی قرار دے دیا گیا‘ تب سے لے کر آج تک روہنگیائی مسلمانوں کے لئے جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ طب اور قانون کے شعبہ سے وہ وابستہ نہیں ہوسکتے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ صرف یہود و نصاریٰ ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر غیر مسلم… مسلمانوں کا دشمن رہا ہے۔ بدھسٹ اپنے آپ کو امن پسند کہتے ہیں‘ تاہم مائنمار کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر بربریت پسند ہیں۔ ان کے جبر وتشدد کے آگے وحشی درندے بھی شرما جائیں۔
روہنگیائی مسلمانوں کے لئے زمین تنگ کردی گئی تو یہاں سے انہوں نے ہجرت کا سلسلہ شروع کیا۔ 1970ء سے اب تک دس لاکھ سے زائد برمی مسلمان جن میں اکثریت روہنگیائی مسلمانوں کی ہے‘ خلیج بنگال اور بحر انڈومان کے ذریعہ بنگلہ دیش اور دوسری ذرائع سے سوا لاکھ ملیشیا میں پناہ گزین ہیں۔ اگست 2017 سے اب تک پچاس ہزار روہنگیائی مسلمان بنگلہ دیش، ہندوستان، پاکستان میں پناہ لنے کے لئے اپنے ملک سے نکل پڑے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں دو لاکھ، متحدہ عرب امارات میں دس ہزار، پاکستان میں تین لاکھ پچاس ہزار، بنگلہ دیش میں پانچ لاکھ 60ہزار، ملیشیاء میں ڈیڑھ لاکھ اور ہندوستان میں 14ہزار برمی مسلمان پناہ گزین ہیں۔
بنگلہ دیش نے اپنی سرحدیں بند کردیں‘ اور بعض پناہ گزینوں کو دوبارہ برما کی سرحد کے پار بھیج دیا گیا۔ ہندوستان میں فرقہ پرست سیاسی جماعتیں اور ان کے آلہ کار و ترجمان میڈیا چیانلس ان مظلوم پناہ گزینوں کے خلاف زہر اُگل رہے ہیں۔ حالانکہ اقوام متحدہ کنونشن 1955 کی قرارداد کے مطابق پناہ گزینوں کو جو اپنی جان بچانے کی غرض سے پناہ کے طلب گار ہوئے اور اپنے ملک واپس نہ جانے چاہتے ہوں تو اس کو پناہ دینا، اسے مختلف سہولتیں فراہم کرنا، ممالک کی ذمہ داری ہے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں وقتاً فوقتاً ترمیم ہوتی گئی۔ اور 2014ء میں تو باقاعدہ کہا گیا کہ ہر وہ فرد جو کسی بھی وجہ سیاپنے ملک سے باہر کسی دوسرے ملک میں پناہ کا طلبگار ہو وہ اس کا اہل ہے۔ ویسے بھی 1921ء میں لیگ آف نیشن کا قیام بھی تو پناہ گزینوں کے تحفظ کی غرض سے ہی عمل میں آیا تھا۔ جس نے ’’بے گھر‘‘ ملک بدر، سیاسی پناہ کے طلبگار، جلاوطن اور ’’مہاجر‘‘ کو پنا گزین یا ’’رفیوجی‘‘ کی اصطلاح دی تھی۔ 1950ء میں اقوام متحدہ ہائی کمیشن فار رفیوجیز UNHCR قائم ہوا جبکہ صرف فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق اور مفادات کی غرض سے UNRWA قائم کیا گیا تھا۔
UNHCR کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں 65.3 ملین یا چھ کروڑ 53لاکھ پناہ گزین ہیں۔ ان میں 4.413ملین افریقہ میں، 4.391ملین یوروپ میں، 3.830ملین ایشیاء، 2.339ملین مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں ہیں۔ اس وقت شام اور روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ اگر کسی نے یگانگت اور ہمدردی کا اظہار کیا تو وہ ہے ترکی، جہاں شام کے سولہ لاھ پناہ گزین ہیں۔ 65ملین پناہ گزین 125ممالک میں ہیں جن میں 80فیصد خواتین ہیں۔
روہنگیائی مسلمانوں سے یگانگت‘ ان سے ہمدردی ہمارا فریضہ ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو سعودی عرب نے اپنا سب سے باوقار سویلین ایوارڈ سے نوازا ہے۔ قطر، ہو یا متحدہ عرب امارات، ملیشیا ہو یا کوئی اور اسلامی ملک سب سے ان کے روابط بہتر ہیں۔ یہ مسلم ممالک اور ان کے سربراہ اپنے تعلقات کا استعمال کرتے ہوئے حکومت ہند کو آمادہ کرسکتے ہیں کہ وہ روہنگیائی مسلمانوں کو اپنے ملک میں پناہ دے اور عزت اور وقار کے ساتھ رہنے کی اجازت دے۔ یہ مسلم ممالک ان کی کفالت کے نام پر ہندوستان کی معیشت کو بھی بہتر بناسکتے ہیں اس کے علاوہ انہیں ان مظلوم مسلمانوں کی شکل میں سستا لیبر بھی دستیاب ہوسکتا ہے۔ خود ہندوستان کی باوقار مستند جماعتیں اور مسلم قائدین کا وفد وزیر اعظم سے ملاقات کرکے انہیں آسانی کے ساتھ روہنگیائی مسلمانوں کے مسائل کی یکسوئی کیلئے آمادہ کرسکتی ہیں۔ رہی بات نریندر مودی کے ذریعہ مائنمار قیادت پر دباؤ ڈالنے کی تو یہ ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ انہیں بھی آئینہ دکھایا جاسکتا ہے جس میں 2002ء کے گجرات کی پرچھائیاں نظر آسکتی ہیں۔
برمی مسلمانوں کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کے دل میں ہمدردی ہے۔ محبت ہے‘ تڑپ ہے۔ ماضی میں ان کی بازآبادکاری کے لئے بہت کچھ کیا جاچکا ہے۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہم نے بھی ان مظلوم پناہ گزینوں کا استحصال کیا۔ ہمارے کیمپس میں برمی مسلم خواتین کا جنسی استحصال ہوا۔ اگر ہم بھی وہی سلوک کریں جس سے بچنے کی خاطر یہ لوگ برما سے ہندوستان پہنچے ہیں تو پھر ہم میں اور وحشی بدھسٹوں میں کیا فرق رہ جاتا ہے۔ وہ تو ظلم کرتے ہیں‘ اور ہم ہمدردی جتاکر ان کا کھلواڑ کرتے ہیں۔ اگر واقعی برما کے مسلمانوں سے ہمدردی ہے‘ ملی تڑپ ہے تو پھر انصار۔مہاجر کے رشتے کا احیاء کرنا ہوگا…
غریب پناہ گزینوں (مہاجر) مردوں کو مفت آیا غلام یا ان کی عورتوں کو ماہ غنیمت میں ہاتھ آئی لونڈی مت سمجھو۔ کسے پتہ ہے کل ہمارا کیا حشر ہونے والا ہے۔ کہیں مظلوم کی آہیں ہماری ماں، بہنوں کو نہ لگ جائیں۔
بذریعہ ’’گواہ اردو ویکلی‘‘ حیدرآباد

About admin

Leave a Reply