سرکاری اسکولوں کی خستہ حالی کا بیان:محکمہ ناکام

داونگیرہ:9جولائی(انقلاب نیوز بیورو):۔ ضلع کے ہرپن ہلی تعلقہ تاﺅڈور گرام پنچایت کے حدود میں شامل جٹیناکٹیے گرام کی سرکاری اسکول کی خستہ حالی دیکھتے ہوئے اسکول انتظامیہ نے عارضی طور پر مجبوراً بچوں کوایک کھلی جگہ میں ناریل کی پتیوں سے بنے شیڈ میں تعلیم دی جارہی ہے۔ یہ نظارہ دیکھ کر خاموش تماشائی بنے محکمہ کے افسران ایک طرف تو کنڑا اسکولوں کو بند کروانے کی سوچ رہے ہیں دوسری طرح جہاں بچے تعلیم حاصل کرنے آرہے ہیں تو انہیں اسکولوں کی خستہ حالی دور کرنے کی فکر نہیں ہے۔سن 1957 میں جٹینا کٹے اسکول کی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ اس وقت اس اسکول میں جملہ160 طلباءاول تا 8 جماعت تک تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ 9 کمرے ہیں جن میں4 کلاس کمروں کی حالت خراب ہوچکی ہے بارش کے موسم میں ان کمروں میں پانی ٹپکتا رہتاہے جس کے سبب یہاں درس وتعلیم دینا مشکل ہوجاتا ہے ۔ چوتھی جماعت کے بچوں کو ناریل سے بنے ایک چھوٹے سے شیڈ میں کلاس روم بنایا گیا ہے تو چھٹویں جماعت کے بچوں کو اسکول کے رنگا مندر اور ہیڈ ماسٹر کے دفتر کے باہر ی حصے میں تعلیمدی جارہی ہے۔ بچوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی ایم سی صدر اور اراکین نے یہاں ناریل کی پتیوں کا شیڈ تیار تو کیا ہے مگر یہ جگہ ان کےلئے مناسب نہیں ، بارش، سردی، ٹھنڈی ہواﺅں کے درمیان طلباءکو مجبور اًتعلیم حاصل کرناپڑرہا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ اسکول کے ان حالات سے محکمہ کو باخبر نہیں کیا گیا ہے ایس ڈی ایم سی صدر انپا نے کمروں کی قلت کے تعلق سے کئی دفعہ متعلقہ محکمہ کے افسران اور عوامی نمائندوں کے اطلاع دی گئی ہے مگرکوئی فائدہ نہیں ہوا ۔

About Abdul Rehman

x

Check Also

کھجور کی فصل کسانوں کےلئے فائدہ مند ہے: پدمانابھا

چنگیری:۔ کجھور کی فصل کسانوں کےلئے منافع بخش ہے ۔ حالیہ دنوں میں اس کی ...