طلاق۔طلاق۔طلاق

از:۔مدثراحمد:۔9986437327
پچھلے کچھ سالوں سے ہندوستانی میڈیامیں سب سے اہم مسئلہ جو رہا وہ تین طلاق کا معاملہ تھا۔آج سپریم کورٹ میں تین طلاق کے تعلق سے فیصلہ آہی گیا اور سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو اگلے چھ مہینوں کے درمیان اس معاملے میں قانون بنانے کی تجویز دی ہے۔قانون کیا بنے اور کیسا بنے یہ الگ بات ہے،لیکن درحقیقت آج کل طلاق اور خلع کے معاملات مسلم سماج میں مذاق بن چکے ہیں،دین نے طلاق اور خلع کی سہولت دی ہے وہ اس قدر بے وجہ استعمال کیاجارہا ہے کہ مانویہ گڈے گڑیا کا کھیل ہے۔ہمارے سماج میں آج طلاق اور خلع عام ہوتے جارہے ہیں۔اس کے کئی ہم وجوہات ہیں،لیکن اس کی اہم وجہ دینداری کی کمی ہے۔اندازے کے مطابق طلاق اور خلع لینے والے جوڑوںمیں سب سے زیادہ تعداد تعلیم یافتہ طبقہ ہے اور یہ طبقہ اپنی تعلیم کو ہی سب سے بڑا سرمایہ مانتے ہوئے اپنی چالاکیوں کا غلط استعمال کررہا ہے۔حالانکہ یہ جوڑے دنیاﺅی تعلیمات سے آشنا ہوتے ہیں لیکن شریعت مطہرہ سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔عدالتوںمیں یہ لوگ شریعت کامذاق بنا چکے ہیںاور اپنی آزادی کوحاصل کرنے کیلئے دین پر سوالات کھڑے کررہے ہیں۔اگر ہم اپنی نسلوں کو عصری علوم سے واقف کروانے کے علاوہ شریعت کے قوانین کے تعلق سے بھی واقفیت کرائی جائے تو شائد ہی زندگیاں اُجڑنے کے بجائے جڑنے لگیں گی۔ایک طرف نوجوان نسلیں دین کی سہولیات کا غلط استعمال کررہی ہیں تو دوسری جانب ہمارے بیشتر دارالقضاءاور مفتیان بھی اپنی مرضی کے مطابق دین کا استعمال کررہے ہیں۔جس منصب یا ذمہ داری کو اداکرنے کیلئے انہیں موقع دیا جاتا ہے وہ اس ذمہ داری کو منصفانہ طریقے سے انجام دینے کے بجائے جس کاپلڑا بھاری ہو اُس کے حق میں فیصلہ سنانے کیلئے کمر بستہ ہوجاتے ہیں۔حالانکہ اس طرح کے مفتیان ہر کوئی نہیں ہیں،لیکن اکثر ایسے مفتیان کی وجہ سے بھی دین پر سوالیہ نشان پیدا ہوئے ہیں۔بعض مقامات پر تو باقاعدہ فیصلوں کو کاروبا رچلتا ہے ،جو لوگ جتنے پیسے دیتے ہیں اُن کے حق میں فیصلے سنائے جاتے ہیںاور کمزور طبقے کو انصاف دینے کے بجائے انہیں حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آئے دن طلاق و خلع کے معاملات چار دیواری یا دارالقضاءمیںحل ہونے کے بجائے پولیس اسٹیشن،عدالتیں اور غیروںکے دفاتر مین حل ہونے لگے ہیں۔اسی بنیاد پرآج چند خواتین سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوئی ہیں۔اسی طرح سے ایک زمرہ ایسا بھی ہے جو اپنی ناجائز خواہشات اور ناجائز رشتوںکی تکمیل کیلئے طلا ق اور خلع کا سہار الیتے ہیں،بلاوجہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے ہیںکہ اخلاق کردار کے معاملے میں ہم انہیں طلاق دینا چاہ رہے ہیں یا خلع لیناچاہ رہی ہوں۔جب معاملے کی تحقیق کی جائے تو معاملات کچھ اور ہی ہوتے ہیں،لڑکا کسی اور کے ساتھ چکر چلا رہا ہوتا ہے یا لڑکی کسی اورکے فریب میں آکر اپنے شوہر کو چھوڑنا چاہتی ہے،جب بات حد سے تجاویز کرجاتی ہے تو ایسے موقعوں پروہ طلا ق یا خلع کا سہارا لیتے ہیںاور دین کو خوامخواہ بدنام کردیتے ہیں۔ہم نے اکثر ایسے رشتوں کو دیکھا ہے جو محبت کی شادیوں سے شروع ہوئی ہوتی ہیں،لیکن یہ شادیاں جلد ہی کسی اور محبت کی وجہ سے ٹوٹ جاتی ہیں۔اس سب کی ایک ہی وجہ ہے کہ دین نے ہمارے جتنی آسانیاں فراہم کی ہیں ہم ان کا صحیح استعمال کرنے کے بجائے غلط استعمال کرنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔جب تک مسلم سماج میں ان بنیادی مسائل کے تعلق سے بیداری نہیں لائی جاتی اور جب تک نوجوان نسلوں کو دینی معلومات سے آگاہ نہیں کیا جاتا اُس وقت ایسے معاملات کی شرح بڑھتی ہی رہے گی۔ہمارے سماج میں آج کل یہ بات عام ہوچکی ہے کہ لڑکے ولڑکیوں کو ان کی شخصیت کو نکھارنے کیلئے بیوٹی پارلر یا اسپا میں روزانہ تیارکیا جاتا ہے اور والدین یا خود نوجوان چاہتے ہیں کہ وہ شادی کے دن بہت ہی خوبصورت دکھیں۔اس لئے یہ لوگ لاکھوں روپئے بھی خرچ کرنے کیلئے تیارہوجاتے ہیں۔جس طرح سے ایک دن کیلئے خوبصورت دکھنے کی تیاری کی جاتی ہے ،اگر چہ اسی طریقے سے زندگیوں کو سنوارنے کیلئے لڑکے ولڑکیوں کو اسلامی بنیادوں سے واقف کروانے اور ان کی ازدواجی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے مستقل طور پر کم ازکم پندرہ دنوں تک تربیتی پروگرام میں انہیں تربیت دی جائے تو یہ کافی حد تک کارآمد ہوسکتا ہے۔اس طرح کی پہل کیلئے مسلم تنظیموںو ذمہ داروں کو آگے آنا ہوگا اور ہمارے دارالقضاﺅں کو بدعنوانی اور رشوت خوری سے پاک رکھنا ہوگا،اس کے علاوہ مسجدوںمیں بیٹھ کر دین کی الف ب بھی نہ جاننے والے کمیٹیوں کے حضرات جو فیصلے کرتے ہیںایسے فیصلوں کولگام لگانے کی بھی ضرورت ہے۔تب جاکر طلاق وخلع جیسے معاملات میں کمی آئیگی۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...