مستقل منصوبہ بندی

از:۔مدثراحمد۔ایڈیٹر،روزنامہ آج کا انقلاب،شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے دس بارہ دنوں سے اترپردیش،بہار،آسام اور شمال و مشرقی ریاستوںمیںبارش کی وجہ سے جو سیلاب آیا ہے ،اُس سیلاب نے نہ صرف حکومتوں کی لاپرواہی کو اجاگرکیا بلکہ لاکھوں افراد کو بے گھر،بھوکے پیاسے اور موت کے گھاٹ اترتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔یقینا اس آفت کو ہم قدرتی آفات کا نام دیتے ہیں،لیکن ہر سال آنے والی اس قدرتی آفت سے نمٹنے کیلئے نہ تو حکومتوںکے پاس مستقل منصوبہ ہے نہ ہی خود ہم ان سے نمٹنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ہر سال آنے والی اس آفت کی وجہ سے سیاستدانوں کی تو عید ہوجاتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہر سال سیلاب آئے اور سیلاب کے نام پر ان کی تجوریاں بھری جائیں۔آسام ،اترپردیش اور بہارمیں سیلاب آنے کی بات کوئی نئی نہیں ہے۔ہر سال آنے والے اس سیلاب میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوتے ہیںاور کم ازکم ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اترتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔امسال بھی باڑ کی صورتحال نہایت سنگین ہوچکی ہے۔حکومتی اندازوںکے مطابق تقریباً300 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔سال2008 میں434انسان،اور845 جانور ہلاک ہوئے تھے،سال2013 میں بہارکے قریب20 اضلاع باڑ کی چپیٹ میں آئے تھے،ان میں ہلاک ہونے والے افرادکی تعداد400 بتائی گئی ہے۔سال2017 میں آنے والی باڑکی وجہ سے395 افراد اب تک ہلاک ہوئے ہیںاور حالات اب بھی بے حد پیچیدہ ہیں۔سال2004 میں آنے والے سیلاب میں بھی885 افراد ہلاک ہوئے تھے،جبکہ سب سے بدترین حالات1987 میں پیش آئے تھے جس میں1400 افراد اور5 ہزار سے زائد جانور سرکاری اعدادو شمارات کے مطابق ہلاک ہوئے تھے۔یعنی دس سالوں سے3ہزار سے زائدانسانی جانیں پانی میں بہہ گئی ہیںاور اُس سے چارگنا زیادہ جانور ہلاک ہوئے ہیں۔ہمارے وزیر اعظم ملک کو اسمارٹ بنانے میں لگے ہوئے ہیں لیکن آج بھی ہمارے یہاں موسلادھار بارش سے نمٹنے کیلئے کوئی مستقل منصوبہ بندی نہیں ہے۔انسان چاند پر چلا گیا ہے اور وہاں زندگی بسانے کی فکر کررہا ہے،اس فکرمیںہندوستانی سائنسدان نہایت تیزی کے ساتھ کام کررہے ہیں،لیکن افسوس کی بات ہے کہ چاند پر زندگی بسانے کی فکر کرنے والی سائنس اور حکومتیں زمین پر موجود زندگیوں کوبچانے میں ناکا ہوگئے ہیں۔انسانوںکی جانیں چیونٹی ومکوڑوںکی طرح جارہی ہیں،لیکن اس پر توجہ دینے کیلئے ہمارے وزیر اعظم کے پاس شائد ہی وقت نہیں ہے یا پھر وہ ان قدرتی آفات کواہمیت دینا نہیں چاہتے۔سیلاب وزلزلوںسے مرنے والے انسانوںکی جانوںکی قیمت ان کے پاس کچھ بھی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ وہ دہشت گردی وارداتوںمیں ہلاک ہونے والے انسانوںکی فکر کرنے والے ہیں۔ایک طرف حکومتی ادارے اس طرح کے قدرتی آفات سے نمٹنے میں ناکام ہیں تو دوسری جانب مسلمانوںکے درمیان فلاحی و خیراتی کاموں کو انجام دینے والے ادارے بھی مستقل مزاجی سے کام لینے میں ناکام ہوئے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال جب قدرتی آفات یا فرقہ وارانہ تشدد سے بستیاں اجڑ جاتی ہیںیا انسانوںکی جانیں جانے لگتی ہیں اُس وقت ہماری تنظیمیں امدادکیلئے چادریں پھیلانا شروع کرتی ہیں۔جابجا اعلانات ہوتے ہیںاورامدادکیلئے لوگوں سے اپیل کی جاتی ہے۔اگر یہ تنظیمیں مستقل منصوبہ بندی کے ساتھ کام کریںتو ایسے قدرتی آفات سے مقابلہ کرنے کیلئے قبل از وقت ہم تیار رہ سکتے ہیں۔اگر ہمارے پاس پہلے سے ہی تیاری ہو تو یقینا بڑے نقصان سے بچا جاسکتا ہے اور جانوںکو کھونے کی شرح میں کمی آسکتی ہے۔یہ بات الگ ہے کہ موت و حیات اللہ کے ہاتھ میں ہے،لیکن اپنی زندگیوں اورجان و مال کی حفاظت کیلئے بھی اللہ اور رسول اللہﷺ نے نے حکمت سے کام کرنے کی ہدایت دی ہے۔اسلام نے زکوٰة جیسے منظم منصوبے کو خدمت خلق کی خاطر استعمال کرنے کیلئے اجازت دے رکھی ہے،لیکن ہم نے اس زکوٰة کو درہم برہم کردیا ہے۔ایک روپئے کے زکوٰة میں21 حصے بنا کر نہ ہم نے کسی کو مکمل راحت دی نہ ہی 21 حصوں کو مناسب طریقے سے مستحق لوگوںمیں تقسیم کیا ہے۔اگرچہ ہر تنظیم اپنے یہاں بیت المال کانظام قائم کریں اور یہاںقدرتی آفات وناخواشگوار حالات میں متاثر ہونے والے افرادکی مددکیلئے اس رقم کا استعمال کرے تو یقینا اس کے مثبت نتائج آسکتے ہیں۔ہندوستان میں فی الوقت جماعت اسلامی ہند،جمعیة علماءہند،پاپولر فرنٹ آف انڈیا جیسی اہم تنظیمیں اس طرح کے حالات میں کام کرنے کیلئے پیش قدمی کرتی رہی ہیں اور یہ تنظیمیں نہ صرف انسانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کا جذبہ لیکر میدا ن میں اترتی ہیں،بلکہ وہ بستیاں بسانے تک دم نہیں لیتے۔ایسے تنظیموںکی ہم وقتاًفوقتاً مددتو کرتے رہتے ہیں،لیکن اس کیلئے مستقل لائحہ عمل تیارنہیں کررہے ہیں۔اگریہ تنظیمیں زلزلے،سیلاب،فرقہ وارانہ تشدد جیسے موقعوں پر ہی عوام سے چندہ اکٹھا کرنے کے بجائے سال بھر کیلئے بیت المال کے نظام کورائج کرے اور ہر مسلمان ان بیت المال میں اپنی کمائی کاپانچ روپیہ بھی ماہانہ ادا کرے تو ہندوستان کے16 کروڑ مسلمانوںسے80کروڑ روپئے ماہانہ جمع کئے جاسکتے ہیں،یا اوسطاً دس کروڑ افراد بھی پانچ روپئے مالی امداد کرتے ہیں تو کم ازکم 50 کروڑ روپئے تو ماہانہ بیت المال کی رقم ہوجائیگی اور سال میں600 کروڑ روپئے کا سرمایہ اکٹھا کیا جاسکتا ہے اور یہ رقم فوری امدادکیلئے کافی ہوسکتی ہے۔ہم نے ماضی میں دیکھا ہے کہ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے افرادکی امدادکے دوران حکومتیںمتعصبابہ رویہ بھی اختیارکرتی رہی ہیں۔حکومتیں مخصوص طبقوں کو مالی امدادفراہم کرتی ہے اور مسلمانوں و دلتوں کو ان سہولیات سے دور رکھا جاتا ہے۔اس صورت میں مسلمانوںکی نمائندہ تنظیمیں جن میں جمعیة علما،جماعت اسلامی ہند اور پاپولر فرنٹ آف انڈیا جیسی تنظیمیں بلا تفریق مذہب وملت کیلئے انسانی خدمت کو ترجیح دیتے ہیںاو ریہ پورا کام ان تنظیموںکے ذمہ داروںکی نگرانی میں کیا جاتا ہے۔اس صورت میں تمام مسلمانوںکی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تنظیموںکی دل کھول کر مالی امداد کرے تاکہ خدمت خلق میں ہمارا بھی حصہ برابر کا رہے۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...