پیٹھ دکھاکر نہیں سر اُٹھا کر جیئں

از:۔مدثراحمد:9986437327
آنے والے چند ایک روز شیموگہ شہر کے مسلمانوںکیلئے کافی آزمائشوں کے ایام ہیں،کیونکہ فی الحال شیموگہ شہر میں حالات نہایت حساس ہوچکے ہیں،گنیش کے تہوارکولیکر شہر میں جو خوفناک حالات پیدا ہوئے ہیں،اس بات کی دلیل ہیں کہ شہر میں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔حالانکہ پولیس اس بات کا دعویٰ کررہی ہے کہ حالات قابو میں ہیں اور کسی طرح کی پریشانی نہیں ہے۔مگر شہر کے ہر ایک حلقے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوچکا ہے۔شرپسند عناصر ہر حال میں شیموگہ شہرمیں فسا د برپا کرنے کی کوشش میںلگے ہوئے ہیں،ویسے بھی یہ شہر سنگھ پریوارکیلئے ایک لیابریٹری کا مقام رکھتا ہے،ملک میںسنگھ پریوارنے جتنی بھی غیر قانونی حرکتیں انجام دی ہیں،اُن حرکتوں کا پہلا تجربہ شیموگہ ضلع میں کیا گیا ہے۔بات چاہے گاﺅکشی کے معاملات کو لیکر آگ اگلنا ہو یا پھر لو جہاد کے نام پر تشدد برپا کرنا ہو،شہر کے مسلم نوجوانوں پر بے بنیاد الزام عائد کرنا اور انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کے جو سلسلے ہیں وہ تمام کام اسی تجربہ گاہوں میںکامیاب ہونے کے بعد ہی ملک کے دیگر مقامات پر اپنائے جارہے ہیں۔اس دفعہ کرناٹک میں اسمبلی انتخابات قریب ہیںاور سنگھ پریوار اس کوشش میںلگا ہوا ہے کہ اس دفعہ بی جے پی حکومت اقتدار پر آئے وہ اس کیلئے کسی بھی طرح کے تجربے کو اپنا سکتی ہے۔لیکن ان کے یہاں سب سے آسان اور معروف زہر شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کا ہے جسے وہ پل بھر میں شروع کردیتے ہیں۔گنیش تہوار کو وہ بنیاد بنا کر اس دفعہ بھی شر پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں،ان کا مقصد صرف اور صرف ریاست میں امن و امان خطرے میں آئے اور ہندو اورمسلمانوںمیں نفرت آگ بھڑگے جس سے وہ سیاست کی روٹیاں سینک سکیں ۔جب بھی کسی علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں وہاں پر قصورواروں سے زیادہ بے قصوروں کی جانیں گئی ہیں،جیلوںمیں فسادیوںکے بجائے گھروںمیں رہنے والے نوجوانوں کو بھر ا گیا ہے،مقدموںمیں آگ بھڑکانے والے سیاستدانوںکے بجائے عام لوگ پھنسے ہوئے ہیں،مالی نقصان امیروں یا سیاستدانوں کا ہونے کے بجائے غریب ومتوسط گھروں کاہو اہے۔یہ بات بھی واضح ہے کہ ملک میں جب بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں اُن میں مسلمانوں کا ہی شدید نقصان ہو اہے اور اس نقصان کو انجام دینے والے سنگھ پریوار اور پولیس کے چند ایک کارکنان ہی ہوا کرتے ہیں،ہر فساد کے بعد مسلمان خون کے آنسو روتے رہے ہیں،لیکن ان کے آنسوﺅں کو پوچنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو فسادات کیلئے پس پردہ بڑھاواد یتے ہیں۔اس ملک میں مسلمانوںکی آبادی 20 فیصد ہے جبکہ ہندوﺅںکی آبادی70 فیصد ہے،تو ظاہر سی بات ہے کہ مسلمانوں پر فسادی غالب آئینگے۔ایسا بھی نہیں ہے کہ آج کے دور کے مسلمانوںکی ہمت اور ایمان313 صحابہ کی طرح ہے،جو غزوہ بدرمیں کافروں پر غالب آئے تھے۔آج ہمارے یہاں ہی مختلف جماعتیں موجود ہیں جن میں سے ایک جماعت کسی کی نہیں سنتی تو دوسری جماعت کھڑے ہوکر دیکھنے والی ہے ،تیسری جماعت کچھ کرنے کیلئے آگے بڑھتی ہے تو چوتھی جماعت ان کے پیر کھینچنے کی کوشش کرتی ہے اور آخری میں ایک ایسی جماعت ہے جو خود مسلمانوں پر ہی الزامات لگاتی رہتی ہے۔فی الوقت مسلمانوں کے پاس ایک ہی راستہ ہے وہ یہ کہ مسلمان صبر و حکمت سے کام لیں اورکہیں خدانخواستہ ایسا حالات پیدا ہوجائیں جس میں مسلمانوں کا نقصان ہو تو اس صورت میں اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ہوجائیں اور دشمنوں پر قانونی طریقوںسے غالب آجائیں۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...