کہیں ہم بھی مہاجر نہ بن جائیں

از:۔مدثراحمد،ایڈیٹر روزنامہ آج کاانقلاب،شیموگہ،کرناٹک:۔9986437327
پچھلے دو مہینوں میںہم نے میڈیا میں کچھ ایسی خبریں دیکھی یا پڑھی ہیں،جو واقعی میں دل کو دہلانے والے اور دل سوز کہی جاسکتی ہیں۔اس میں پہلا واقعہ ریمنڈس کمپنی کے مالک ہے جس کی املاک12 ہزار کروڑ روپیوں کی تھی،مگر اب اپنے بیٹے کی بے وفائی کی وجہ سے وہ کرایہ کے مکان پر رہنے کیلئے مجبور ہے۔دوسرا واقعہ ممبئی کے ارب پتی گھرانے کی ہے جس میں ایک بیٹا اپنی ماں ایک عالیشان بنگلے میں چھوڑ کر امریکہ میں مقیم تھااور ایک سال کے بعد جب وہ واپس ہندوستان لوٹا تو اسے اپنے عالیشان مکان میں اپنی ماں کی ہڈیوں کا ڈھانچہ ملا،ایک سال کے دوران اس نے اپنی ماں کو رابطہ بھی نہیں کرسکا۔تیسر اواقعہ ایک آئی اے ایس افسر کا جو ہندوستان کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود گھر کے معمولی جھگڑوںسے تنگ آکر خودکشی کرلی۔یہ تینوں واقعات انسانوں کو اس بات پر سوچنے کو مجبور کرتے ہیں کہ زندگی گذارنے کیلئے صرف پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہے بلکہ دلی اطمینان اور سکون بھی چاہےے،اس کے علاوہ ہمیں اپنی اولادکی پرورش صرف اس مقصد سے نہیںکرنی چاہےے کہ وہ آگے چل کر ہمارے لئے کمائی کا ذریعہ بن سکیں۔آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے یہاں سب سے خطرناک رحجان ہوتا جارہا ہے کہ ہماری نسلیں ڈاکٹر،انجینئر یا بڑے تاجر بن کر ابھریں اور اس کیلئے والدین لاکھوں کروڑ روں روپئے خرچ کرتے ہوئے اپنے بچوں کو تعلیم دلوارہے ہیں۔مستقبل سوائے اللہ کے اور کسی کو معلوم نہیںاور مستقبل اگر اچھا بن بھی جائے تو بچے اپنے والدین کی دیکھ بھالی کریں یہ بھی ضروری نہیں۔کچھ سال قبل ہمیں ایک اولڈ ایج ہوم کو جانا پڑا جہاں پر ایک مسلم خاتون کا انتقال ہو اتھا،اس خاتون کے تعلق سے ہم نے اولڈ ایج ہوم کے ذمہ داروں سے معلومات لی توانہوںنے کہا کہ یہ خاتون پیشہ سے ٹیچر تھیں اور ان کا بیٹا امریکہ میںبرسر روز گارہے،مگر یہ یہاں اکیلی رہا کرتی تھی،ان کے انتقال کی خبر اہم اُن کے بیٹے کو دینے کی کوشش کررہے ہیں مگر وہ فون بالکل بھی نہیں اٹھا رہے ہیں،اس وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ اس خاتون کے آخری رسومات آپ اپنے مذہب کے مطابق انجام دیں۔کتنی افسوس کی بات ہے کہ مرحومہ اسکول میں ہزاروں بچوں کو تعلیم دیتی رہیں ،مگر اپنے بیٹے کو تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت کرنے میں ناکام رہیں۔جس کے نتیجہ میں انہیں لاوارث زندگی گذار کر آخری سانسیں لینی پڑی۔ہم جس ماحول میں ہے وہ ترقی یافتہ ماحول کہلاتا ہے،لیکن جوترقی انسان کررہا ہے وہ بالکل بھی انسانیت کے حق میں دکھائی نہیں دے رہی ہے،انسانی جذبات و احساسات پوری طرح سے مفلوج ہوتی جارہی ہیں۔ہرانسان اپنے لئے جی رہا ہے اور دوسروں کی زندگیو ں سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ہندوستان میں پچھلے دو سالوں سے تقریباً40 ہزار روہنگیا مسلمان مقیم ہیں،ان مسلمانوں کو جہاں حکومت اس ملک سے نکالنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے،مگر وہیں کچھ مخیرین اپنے بل بوتے پر ان مہاجرین کی بازآبادکاری میں لگے ہوئے ہیں۔لیکن ہماری انسانیت تو دیکھئے کہ جولوگ روہنگیا مسلمانو ں کی مدد کررہے ،ان کی تائید کرنے کے بجائے ہم اپنے آپ کو اپنے مقامی مسائل کو لیکر مصروف ہوچکے ہیں۔سوشیل میڈیا پر مہاجرین کے تعلق سے جو تصاویر ،ویڈویوز اور خبریں پڑھ رہے ہیں اس پر ہم لوگ صرف ”اُفف،ہائے،اللہ، شٹ“ جیسے الفاظ کہہ کر اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے بری کررہے ہیں۔زکوٰة فاﺅنڈیشن،انگریزی اخبار ملّی گیزیٹ جیسے ادارے دن رات ان روہنگیا مسلمانوںکی مددمیں لگے ہوئے ہیں،لیکن انہیں جس طرح کا تعاون درکار تھا وہ نہیں مل رہا ہے،اس کے علاوہ ان پر حکومت کی ستم ظریفی جاری ہے،جس کی وجہ سے انہیں امدادی کام انجام دینے میں مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔جب تک ہم مسلمان اپنے آپ کو تعلیم یافتہ بنانے کے علاوہ تربیت یافتہ نہیں بناتے اس وقت تک ہماری کامیابی ناممکن ہے۔آج جو حالات روہنگیاں مسلمانوں پر گذر رہے ہیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا موقع پیش آئے اور ہم بھی مددکیلئے کہیںاور مہاجر بن کر چلے جائیں۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...