ہم نہ سہی ۔۔۔ کوئی اور سہی

از قلم : مدثر احمدشیموگہ۔ 9986437327
سوشیل میڈیا میں ایک واقعہ گشت کررہاہے کہ معروف تاریخ دان ابن خلدون نے اپنی کتاب المقدمة میں لکھا ہے کہ عربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں نخوت ، غیرت اور سختی کا عنصر بہت پایا جاتا ہے ۔ترکوں کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں طاقت ، جرا¿ت اور اکڑ پن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔۔انگریزوں کو خنزیر کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں فحاشی وغیرہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔۔حبشی افریقی بندر کھاتے ہیں اس لیے ان میں ناچ گانے کی طرف میلان زیادہ پایا جاتا ہے۔۔ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس کو جس حیوان کے ساتھ انس ہوتا ہے اس کی طبیعت میں اس حیوان کی عادتیں غیر شعوری طور پر شامل ہوجاتی ہیں اور جب وہ اس حیوان کا گوشت کھانے لگ جائے تو اس حیوان کے ساتھ مشابہت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ۔۔اس پر ایک عرب صحافی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ہمارے زمانے میں فارمی مرغی کھانے کا رواج بن چکا ہے چنانچہ ہم بھی مرغیوں کی طرح صبح و شام چوں چوں تو بہت کرتے ہیں لیکن ایک ایک کرکے ہمیں ذبح کردیا جاتا ہے فارمی مرغی کا گوشت کھانے کی وجہ سے ان میں سستی کاہلی کی، ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے کی ، سر جھکا کر چلنے کی اور پستی میں رہنے کی عادتیں پیدا ہوچکی ہیں۔۔ لیکن اس پیغام پر تفیسر بیان کی جائے شاید ہم ہندوستانی مسلمان بیل اور فارمی مرغی کھانے کے عادی ہونے کی وجہ سے ہم میں بھی یہی صفات پیدا ہوگئے ہیں اسی وجہ سے ہم مسلمانوں پر مسلسل ظلم و ستم ، تشدد ، سماجی ناانصافی ، علی العلان خون ریزی ، عورتوں کی عصمت دری کے واقعات پیش آنے کے باجود خاموش بیٹھے ہوئے ہیں بالکل بیلوں کی طرح ، جو اپنی ہی چال چلتے ہیں اور آزو بازو جو کچھ ہورہاہے اس پر توجہ نہیں دیتے ۔ پہلے تو ہندوستانی مسلمان بے یار و مدد گار جی رہے ہیں اور جب کبھی کسی مسلمان پر آفت آتی ہے تو ہم مسلمان ایک ہوکر آواز اٹھانے کے بجائے انیک ہوکر ایک دوسری کی تنقید و نکتی چینی کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ ہریانہ میں گاﺅکشی کے نام پر قتل کئے جانے والے پہلو خان کی ہی بات لیں ، جب ان پر حملہ کیا گیا اور انہیں شہید کیاگیا اسوقت ہندوستان کے 20 کروڑ مسلمانوں میں سے شاید ہی ایک لاکھ مسلمان انکے قتل کی مذمت کے لئے آگے آئے تھے اور کم ازکم ملک بھر میں غیر مسلم پہلو خان کی موت کے خلاف آوازاٹھانے کے لئے شاید ایک لاکھ سے زیادہ افراد جڑے ہوئے تھے ۔اس سے ہی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ مسلمان کس قدر کسی مسلمان کی موت پر سنجیدہ ہیں ۔ اب دو سال بعد حکومتوں کے متعصبانہ رویہ کی وجہ سے پہلو خان کے ان قاتلوں کو معاملے سے بری کردیا جن کے تعلق سے خود پہلو خان مرنے سے پہلے نام لئے تھے ، حکومت کی اس متعصبانہ حرکت پر بھی مسلمان خاموش نظر آرہے ہیں ۔ایک چھوٹی سی مثال لیں ، امرناتھ یاترا کے دوران دہشت گردوں نے ہندومعتقدین پر حملہ کیا اور کئی ہندوﺅں کو موت کے گھاٹ اتارا ، اس بات کو لے کر نہ صرف شمالی ہند کے ہندﺅوں نے احتجاج کیا ، حکومتوں کو آڑے ہاتھ لیا بلکہ سارے ملک میں اس دہشت گرد واردات کی مخالفت میں سلسلہ وار احتجاجات ہوئے ۔ غور طلب بات یہ بھی ہے کہ امرناتھ یاترامیں مرنے والوں کے لئے مسلمانوں نے بھی آنسو ں بہا ئے تھے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کا خون اتنا سستا ہوچکا ہے کہ دوسرا مسلمان اپنے ہی بھائی کے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر بھی خاموش ہوجائے ؟؟۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اتنی خاموشی کیوں چھائی ہوئی ہے مسلمانوں کے خیمے میں ؟؟۔ ہم مسلمانوں کا نصب کربلاکے شہداء، سید ہ کے لال سے ملتاہے ۔ ہماری تاریخ میںحضرت عمرؓ،حضرت علی ؓ ،محمد بن قاسم ؒ، سلطان صلاح الدین ایوبی، حضرت ٹیپوسلطان ؒ جیسے حکمران ملتے ہیں ۔ انکی ہمت و شجاعت ہی مسلمانوں کی شناخت ہے بھلے وہ ہمارا ماضی ہیں لیکن آج تک انہیں حکمرانوں کی وجہ سے مسلمانوں کا دبدبہ قائم ہے ۔ مگر موجود ہ دور میں ہم مسلمانوںنے اپنے آپ کو بزدل بنالیا ہے ۔ ہماری تلواریں دشمنوں کے اوپر اٹھنے کے بجائے رقصوں میں استعمال ہونے لگے ہیں ۔ ہمارے قائدین و رہنماءاپنی جانوں کو بچانے کے لئے لگے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے قوم کا خون بہہ رہاہے ۔ آج ہمارا مزاج طنزیہ ہوچکاہے ۔ دلوں میں مفافقت بھری ہوئی ہے ، بہادری و شجاعت آپسی اختلافات کے لئے استعمال ہورہے ہیں ۔ جن میدانوں میں مسلمانوں کے دشمنوں کو تہس نہس کرنا تھا ان میدانوں میں مسلکوں و عقائد کو ثابت کرنے کے لئے مناظروں کا اہتمام کیا جارہاہے ۔ جن نوجوانوں کو مسلمانوں کی بقاءکے لئے آوازیں بلند کرنی تھی وہ نوجوان آج مغربیت کے دلدادہ ہوچکے ہیں ۔ جن خواتین کو سیدہ کا لال اور فاطمہ ؓ کے لال کے واقعات بیان کرنے تھے وہ آج ساس بہو کے سیریلوں پر بحث و مباحثے کررہے ہیں ۔ جن علماءکو اسلام کی تبلیغ کی ذمہ داری دی گئی ہے وہ آج مسلکوں کی تبلیغ پر آمادہ ہوئے ہیں ۔ جو صحافی و اخبارات حق کے لئے قلم اٹھاتے تھے وہ آج چاپلوسی و دل لگی کے لئے قلم اٹھارہے ہیں ۔ غرض کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو بھلا دیاہے اسی وجہ سے ہم ذلیل و خوار ہورہے ہیں ۔ آج برما کے مسلمانوں کو دیکھ بھی ہم سبق حاصل نہیں کررہے ہیں ۔ ایک صاحب نے یہاں تک پوچھ ڈالا کہ برما کے جو مسلمان قتل کئے جارہے ہیں انکا عقیدہ کونسا ہے لیکن جو قاتل انہیں قتل کررہے ہیں وہ ان کا عقیدہ نہیں بلکہ کلمے کی بنیاد کو دیکھ کر قتل کررہے ہیں کیا حالت ہوگئی ہے قوم کی اور ہم کس سے امید کریں کہ قوم کی قیادت کریں ۔ اگر واقعی میں کوئی کچھ کرنے کی چاہ رکھتاہوتو مہربانی سے اسکی تائید کریں نہ کہ اسکی ہمت پست کرتے ہوئے اسے بھی بزدلوں کی قطار میں کھڑا کریں ۔

About Abdul Rehman

Leave a Reply

x

Check Also

ہمارے پاس کیا ہے؟

فی الوقت ہندوستان میں جمہوری حکومت سے بڑھ کر میڈیا کی حکومت چل رہی ہے ...